اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

پانامہ کیس پر عدالتی فیصلہ کسی کی جیت یا ہار نہیں

پانامہ کیس پر عدالتی فیصلہ کسی کی جیت یا ہار نہیں

اسلام آباد: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو مطالبے اپوزیشن اسمبلی سے باہر کر رہی ہے وہ اگر اسمبلی کے اندر کرتے تو بہت بہتر ہوتا، پانامہ کیس کے بارے میں عدلیہ نے بہترین فیصلہ دیا ہے ہمیں فیصلے پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنا چاہیے یہ فیصلہ نہ کسی کی جیت ہے اور نہ ہی ہار ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پالیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن اراکین سے سپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر کے ہنگامہ آرائی کی ہے وہ کسی طور بھی جمہوری روایات کے لئے بہتر نہیں ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے مٹھائیاں بانٹنے پر حیرانگی ہے اور اسی طرح اپوزیشن کی جانب اسمبلی اجلاس کے دوران پٹیاں باندھنے کا کیا مطلب ہے کیا اپوزیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف کالی پٹیاں باندھی ہیں انہوں نے کہا کہ اگر ان تمام معاملات پر اسمبلی کے اندر تمام اپوزیشن اور حکومتی بنچ کے اراکین بات کر لیتے تو بہت بہتر ہوتا اور اسمبلی کے باہر بولنے کی ضرورت پیش نہ آتی انہوں نے کہا کہ جب ایک بار سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کر لیا ہے تو اس فیصلے کے تحت بننے والی جے آئی ٹی پر بھی بھروسہ کرتے انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز صاحبان نے پوری ایمانداری کے ساتھ یہ فیصلہ لکھا ہے اور عدلیہ نے اپنے فیصلے میں جتنی سخت باتیں لکھی ہیں مگر انہوں نے اپنے فیصلے میں وزیر اعظم کے استعفے کی تجویز نہیں دی ہے انہوں نے کہا کہ جب تک ہم پارلیمنٹ کو سپریم ادارہ تسلیم نہیں کریں گے اور عدلیہ کو ملک کا مقتدر ادارہ نہیں مانیں گے اس وقت تک ہمارے حالات درست نہیں ہو سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے پرانے گناہوں پر توبہ مانگنی چاہیے اور نئے سرے سے یہ عہد کرنا ہو گا کہ پاکستان کے تمام فیصلے پارلیمنٹ کے طابع ہوں گے۔