اشاعت کے باوقار 30 سال

چین میں انڈیا کے ساتھ سرحد پر متنازع علاقوں کے نام تبدیل

چین میں انڈیا کے ساتھ سرحد پر متنازع علاقوں کے نام تبدیل

چین نے اپنی جنوبی سرحد پر انڈیا کے ساتھ چند متنازع علاقوں کے ناموں کو تبدیل کر دیا ہے۔ منگل کے روز کیے گیا یہ اعلان بظاہر تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لاما کے ان علاقوں میں دورہ کرنے ردِعمل میں کیا گیا ہے۔ رواں ماہ 81 سالہ دلائی لاما نے انڈیا کے شمال مشرقی دور افتادہ علاقے اروناچل پردیش کا دورہ کیا تھا۔ چین کا کہنا ہے کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر منفی اثر پڑا ہے اور انھوں نے انڈیا کو چینی مقادات کو نقصان پہنچانے سے خبردار کیا۔ چین کے اس اقدام کے بعد انڈیا نے ابھی تک ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ تاہم انڈیا کا موقف ہے کہ دلائی لاما کا دورہ صرف مذہبی وجوہات کے لیے منعقد کیا گیا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ دلائی لاما نے ریاست اروناچل پردیش کا دورہ کیا ہو۔ انھوں نے اس ریاست کے 1983، 1997، 2003 میں دو مرتبہ، اور 2009 میں سرکاری دورے کیے ہیں۔ چینی ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ چین نے جنوبت تبت میں چھ مقامات کے نام کو سٹینڈرڈ بنا دیا ہے جو کہ چینی علاقے ہیں مگر ان میں سے کچھ کو ابھی انڈیا کنٹرول کر رہا ہے۔‘ چین نے یہ اعلان دلائی لاما کا ایک ہفتہ طویل دورہ ختم ہونے کے ایک روز بعد کیا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ چین نے متنازع علاقے میں کسی مقام کا نام تبدیل کیا ہو۔ یاد رہے کہ حال ہی میں انڈیا نے تائید کی تھی اس کا یہ موقف برقرار ہے کہ تبت چین کا حصہ ہے۔