اشاعت کے باوقار 30 سال

ڈونلڈ ٹرمپ خطرناک صدر نہیں

ڈونلڈ ٹرمپ خطرناک صدر نہیں

لندن: ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے خطرناک صدر نہیں ہیں۔ اگر ان کی جگہ ہیلری کلنٹن صدر بن جاتیں تو وہ باراک اوباما اور جارج بش کے نقش قدم پر چلتیں۔ سابق ایرانی صدر نے ان خیالات کا اظہار امر یکی خبر رسا ں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ شام پرحملہ ہیلری کلنٹن نے کرایا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں محمود احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ٹرمپ زیادہ خطرناک نہیں ہیں۔ کیونکہ کوئی خطرناک شخص کبھی بھی 70 ارب ڈالر کی دولت جمع نہیں کرتا۔ خیال رہے کہ احمدی نژاد نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سوئس سفارت خانے کے توسط سے اس وقت ایک مکتوب بھیجنے کی کوشش کی تھی جب ٹرمپ امریکا کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ مگر سوئس سفارت خانے کی طرف سے یہ کہہ کر ان کا مکتوب ٹرمپ تک پہنچانے سے انکار کر دیا تھا کہ ’وہ کوئی ڈاکیا نہیں‘۔ انٹرویو میں سابق ایرانی صدر نے کئی دیگر سوالوں کے جواب دیے۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخابات کی دوڑ میں حصہ لینے کا اعلان اس بات کا اظہار ہے کہ ایران میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کے سپریم لیڈر کے مشورے پرعمل درآمدکیوں نہیں کیا تو احمدی نژاد نے کہا کہ سپریم لیڈر نے اپنی رائے تبدیل کرتے ہوئے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ میرا نام انتخابی امیدواروں کی فہرست میں شامل ہے مگر سابق حکومتی مشیر اور معاون خصوصی حمید بقائی کی طرف سے ان کی کھل کرحمایت کی گئی ہے۔مبصرین کاکہنا ہے کہ سپریم لیڈر کے مشورے کو نظرانداز کرکے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے احمدی نڑاد کا اعلان ایک بڑا’سرپرائز‘ ہوسکتا ہے۔ احمدی نڑاد کی باغیانہ انداز میں صدارتی دوڑ میں آمد سپریم لیڈر کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔