اشاعت کے باوقار 30 سال

پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان انقلابی ایجاد سے کروڑ پتی بن گیا

پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان انقلابی ایجاد سے کروڑ پتی بن گیا

کینٹ، برطانیہ: پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان موجد اپنی سادہ اور حیرت انگیز ایجاد کی بدولت اب تک 13 کروڑ روپے (10 لاکھ برطانوی پونڈ) کی رقم بطور سرمایہ جمع کرچکا ہے۔ یاسر خٹک کی عمر اس وقت 21 برس ہے اور انہوں نے اسکول کے دور میں ایک سادہ سوئچ اور ساکٹ بنایا تھا جسے اسمارٹ فون ایپ کے ذریعے کھولا اور بند کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایپ استعمال ہونے والی بجلی کی مقدار اور حفاظتی اقدامات سے بھی ہاتھوں ہاتھ آگاہ کرتی ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ یاسر نے اسکول کے ایک پروجیکٹ میں کیا تھا۔ یاسر خٹک نے ایک ٹیکنالوجی کمپنی (اسٹارٹ اپ) بنالی ہے اور ان کی ایجاد کو اگر صرف برطانیہ میں ہی استعمال کیا جائے تو اس سے سالانہ پونے 2 ارب پونڈ کی بچت کی جاسکتی ہے۔ موبائل کو ریموٹ کنٹرول کے طور پر استعمال کر کے گھریلو روشنیاں اور برقی آلات کھولے اور بند کیے جا سکتے ہیں۔ نوجوان نے ممتاز سائنس دان سرجیمس ڈائسن کی سوانح سے متاثر ہو کر ایسی شے بنانے کا ارادہ کیا جو روزمرہ استعمال ہو سکے اور اس سے رقم کی بچت بھی ہو سکے۔ ان کی ایجاد نے اسکول میں ہی 20 ہزار پونڈ کی سرمایہ کاری حاصل کر لی تھی۔ یاسر خٹک کی ایپ فون چارجر سے لے کر فالتو بلبوں تک کو اس وقت بند کرتی ہے جب وہ استعمال نہیں ہو رہے ہوتے۔ صرف برطانیہ میں ہی لوگ 16 فیصد بجلی ضائع کر دیتے ہیں جس سے 25 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس ایپ کے لیے پہلے سے استعمال ہونے والے سوئچ کو دور سے آن آف کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ یاسر کے مطابق اس سسٹم سے بچے، بوڑھے اور دیگر ایسے افراد بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہیں اٹھنے اور بیٹھنے میں مشکل پیش آتی ہے یا جن کا ہاتھ بجلی کے نظام تک نہیں پہنچ پاتا۔

loading...