اشاعت کے باوقار 30 سال

دار العوام میں اسلامو فوبیا کی مذمت میں قرارداد منظور

دار العوام میں اسلامو فوبیا کی مذمت میں قرارداد منظور

کینیڈا کے دار العوام میں لبرل رکن پارلیمنٹ اقرا خالد کی اسلامو فوبیا اور مذہبی منافرت کے خلاف ایک قررداد 91 کے مقابلے میں 201 ووٹوں سے منظور کر لی گئی۔ این ڈی پی کے تمام ارکان پارلیمنٹ اور تقریباً تمام لبرل ارکان نے قرارداد کی حمایت کی۔ کنزرویٹو پارٹی کے اکثر ارکان نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا جب کہ پارٹی کی صدارت کے امیدوار مائیکل چانگ اور سمکو نارتھ سے رکن پارلیمنٹ بروس سٹینٹن نے حق میں ووٹ دیا۔ مسی ساگا سے لبرل رکن پارلیمنٹ گیگن سائیکانڈ اور باری سے کنزرویٹو رکن الیکس نٹل نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد میں حکومت سے تین مطالبے کئے گئے ہیں:
۱۔ اسلامو فوبیا اور ہر طرح کی منظم نسلی اور مذہبی منافرت کی مذمت کی جا ئے ۲۔ عوام میں بڑھتی ہوئی نفرت اور خوف کی حالت کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ ۳۔ دار العوام کی ہیریٹیج کمیٹی کو پابند کیا جائے کہ وہ اسلامو فوبیا سمیت ہر قسم کی منظم نسلی اور مذہبی منافرت کو کم کرنے یا بالکل ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش اور سعی کرے۔
مسی ساگا۔ ایرن ملز سے لبرل رکن پارلیمنٹ اقرا خالد نے قرارداد کی منظوری کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں قرارداد پر رائے شماری کے نتائج سے بہت زیادہ خوش اور مطمئن ہوں۔ سسکا شیوان سے کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ اینڈرسن نے اسلامو فوبیا کی بجائے متبادل الفاظ استعمال کرنے کی تجویز پیش کی جسے لبرل ارکان نے مسترد کر دیا ۔ تاہم ووٹنگ کے بعد اینڈرسن کا اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ووٹنگ کے نتائج سے قطع نظر میرے اور خالد کے خیالات میں کوئی خاص فرق نہیں۔

loading...