اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

مانٹریال کی ایک مسجد کو پولیس اور عام مسلمانوں کی ناراضگی کا سامنا

مانٹریال کی ایک مسجد کو پولیس اور عام مسلمانوں کی ناراضگی کا سامنا

سینٹ مچل کے علاقے میں دار الارقم مسجد میں 23 دسمبر 2016 کو ایک اردنی امام شیخ محمد بن موسیٰ النصر کی ایک تقریر یو ٹیوب پر گردش کر رہی ہے۔ اس ویڈیو میں امام کو عربی زبان میں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اے مسلم ، اے اللہ کے بندے میرے پیچھے ایک یہودی ہے ، آ اور اسے قتل کر۔ پولیس کو مسجد سے اس نفرت انگیز تقریر کے سلسلے میں شکا یت ہے۔ جب کہ عمومی طور پر مسلمانوں نے اس تقریر پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ امام کا دعویٰ ہے کہ یہ حدیث ہے۔ ( ا غلباً اس حدیث کی طرف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں جب یہود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بنیں گے تو اگر کسی پتھر کے پیچھے کوئی یہودی چھپ کر بیٹھا ہو گا تو وہ پتھر بھی پکار اٹھے گا کہ میر ے پیچھے یہودی بیٹھا ہے۔ اس حدیث میں کہیں بھی جہودیوں کو قتل کرنے کے حکم کی طرف کوئی اشارہ نہیں۔ ) ایک تنظیم بنائے برتھ کینیڈا نے پولیس سے شکایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کا درس دینے کی کوئی کوشش بھی معاف نہیں کی جا سکتی۔ مانٹریال کی مسلم کونسل کے صدر سلام المنیاوی نے ایسی تقریر کی اجازت دینے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور اس حرکت پر معذرت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جن مساجد کی نمائندگی کرتے ہیں دار الارقم مسجد ان میں شامل نہیں ہے۔ اسلامی خیراتی منصوبوں کی تنظیم کے امام زید اصلی نے جمعرات کے روز اس بات پر حیرت کا ا ظہار کیا ہے کہ ایک شخص کو کسی کمیونٹی کے خلاف نفرت کا زہر پھیلانے کے لئے دعوت دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حدیث رسول کا حوالہ دے کر نفرت پھیلانا قابل مذمت فعل ہے۔ یہودیوں کی تنظیم سی آئی جے اے کیوبیک کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ کویلیٹ کا کہنا تھا کہ وہ پولیس کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہیں یقین ہے کہ پولیس نے اپنی تفتیش پوری کر لی ہو گی۔

loading...