اشاعت کے باوقار 30 سال

فوجی عدالتوں میں توسیع، قومی اسمبلی میں بحث

فوجی عدالتوں میں توسیع، قومی اسمبلی میں بحث

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں میں توسیع کے حوالے سے بحث ہوئی اپوزیشن نے فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی مزید توسیع کو حکومتی نا اہلی قرار دے دیا۔ حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لئے فوجی عدالتوں کے پیچھے چھپ رہی ہے۔ حکومت کی ناکامیاں چھپانے کی بجائے غلطیاں تسلیم کرنا ہوں گی۔ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے بات پر حکومتی وزراء کی عدم موجودگی اور کورم انتہائی کم ہونے پر بھی اپوزیشن نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ پیپلز پارٹی نے بل کی مخالفت کر دی۔ باقی جماعتوں نے غیر مشروط حمایت کا اعلان کر دیا۔ بل پر بحث کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے کہا کہ ہم جمہوریت کو پسند کرتے ہیں اور عوام کا مینڈیٹ لے کر آتے ہیں ان کا قتل عام کرنے کے لئے اہم تقریریں بھی کرتے ہیں اور ایسے لوگ کل ووٹ بھی کریں گے۔ میں اپنے اداروں پر آئین پر اعتماد نہیں رہا۔ ہمارے اداروں کی کارکردگی نہیں ہے اور ان میں ہم سب قصور وار ہیں آج سے دو برس پہلے جب پہلی مرتبہ فوجی عدالتوں کی بات ہوئی تو اس بات کا تھا کہ یہ صرف دو سال کی بات ہے اور اس کے بعد نظام بہتر ہو جائے گا۔ لیکن کچھ بھی بہتر نہیں ہوا۔ آج دو سال کے بعد ہم دوبارہ اسی جگہ پر کھڑے ہو گئے ہیں مجھے یقین نہیں ہے کہ آئندہ دو سال بعد بھی حالات بہتر ہوں گے۔ ان کو قصور وار ٹھہرائیں جن کو 20 نکاتی ایجنڈا دیا گیا کہ ہمارے لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لئے یہ سب کچھ کریں۔ یہاں ہم لوگوں کو حقوق دینے کی بات کریں روٹی کپڑا دینے کی بات کریں کیا ہم کوئی ایسی بات کر رہے ہیں کہ جس سے عوام کی بھلائی ہو نہ گزشتہ دو سالوں میں کوئی ایجنڈا دیا گیا نہ اب کوئی ایجنڈا دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی صرف ایک آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد شروع نہیں ہوئی بلکہ یہ خطہ دو دہائیوں سے دہشتگردی کا شکار ہے۔ ہم نے انسداد دہشتگدی کا قانون بنایا اور پھر اس کے ساتھ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ آرمی پبلک سکول سمیت دیگر سانحات بد قسمتی کے ساتھ اسلام کے نام پر ہوتے ہیں جس کی بھی اٹھایا جاتا ہے کم از کم اتنا تو حق ہو کہ اسے بتایا جائے اس نے کونسا جرم کیا ہے اس کے لواحقین کو پتا ہو انہیں اپنی مرضی کا حق بھی ہونا چاہیئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مخدوم شاہ محمود نے کہا ہے کہ قوم پر ایک مرتبہ بھی فوجی عدالتوں کا مسلط کرنا حکومت کی کوتاہی کا منہ بولتا ثبوت ہے اگر حکومت نے خاندانی اصلاحات کی ہوتیں تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں غفلت کا اعتراف کیا۔ فوجی عدالتیں دہشتگردی کا سامنا کرنے میں کامیاب نہ ہوں گی۔ اس کے لئے حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا قانون آئین کا مستقل حصہ نہیں رہے گا۔ کچھ عرصہ کے بعد فوجی عدالتوں کا قانون اپنی موت آپ ہی مر جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں سیاسی انتقام کے لئے استعمال نہ ہوں۔ انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں سزاؤں کا تناسب بہت کم تھا۔ ایم کیو ایم کے رہنما شیخ صدالدین نے کہا کہ آج ہم پھر کڑوا گھونٹ پینے جا رہے ہیں۔ آرمی پبلک سکول پر حملے کے وقت وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ دو سال کے لئے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔ لیکن دو سال گزرنے کے باوجود بھی ہم وہیں پر کھڑے ہیں۔ ملک کے ویزر داخلہ کو جواب دینا چاہیئے کہ اتنے عرصہ میں کونسی کامیابیاں حاصل کی گئیں۔ نیشنل ایکشن پلان کا کیا بنا حکومتی نا اہلی کے باعث دہشتگردی کے حوالے سے کارکردگی صفر ہے۔ پاک فوج پورے ملک میں کہیں بھی کوئی واقعہ ہو جائے وہ پیش پیش ہوتی ہے اور ناکامی پارلیمنٹ کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیٹیکل ویکٹامائزیشن ختم کی جائے۔ کراچی میں ایم کیو ایم کے 7 سو سے زائد کارکنان جیلوں میں بند ہیں اور معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔ جیلوں سے رہا ہونے والے کارکنوں کی نوکریاں بھی ختم کی جا رہی ہیں ان کو فوراً بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شرجیل میمن کا اچانک اسلام آباد آنا پی پی اور حکومت کے درمیان بیک ڈیل کا حصہ ہے ورنہ اتنی جلدی یہ معاملات طے نہ پاتے اور نظر نہ آتے۔ جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ معاملہ عدالت میں ہے اس پر بات نہ کریں اور کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی ہے۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ گزشتہ دو برس پہلے بھی فوجی عدالتوں کے حوالے سے اجلاس بلایا گیا اور فیصلے ہوئے کہ 7 فروری کو ان کی مدت پوری ہو گئی اور اس کے بعد ملک میں یکے بعد دیگرے پانچ دھماکے ہو گئے اور ملٹری کورٹس کی دوبارہ ضرورت محسوس ہوئی۔ حق تو یہ تھا کہ وقت ختم ہونے سے پہلے ہی اس پر بات کی جائے اور گزشتہ دو سال کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہو سکا ابھی تک کوئی ایسا فیصلہ نہیں آیا کہ جس کو دیکھ کر بندہ کہہ سکے کہ ہاں فوجی عدالتوں کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ دہشتگردوں کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے سیاسی حکومتوں کی نا اہلی کے باعچ عدالتوں کا نظام اور ذمہ داری فوج کو دی ہے ملک کی بقا اور دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ہم کڑوا گھونٹ پی رہے ہیں۔ رد الفساد شروع ہو گیا ہے اور اس وقت اس بات پر بھی اتفاق تھا کہ پنجاب میں بھی آپریشن شروع کیا جائے گا لیکن اس پر کسی قسم کا کوئی بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا ہم فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے حکومت کے ساتھ ہیں۔ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے کہا کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ اس ایوان میں جو بھی قوانین بنائے جاتے ہیں وہ آئینی ہوتے ہیں لیکن شاید ہم اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکے۔ ملٹری کورٹس قیام ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کسی بھی لحاظ سے یہ فیصلہ کوئی دانشمندانہ نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھیں اور معاملات کو دیکھیں حکومت اپنی کامیابی چھپانے کے لئے ملٹری کورٹس کا سہارا لے رہی ہے اور ان کے پیچھے چھپ رہی ہے۔ مسائل کے حل کے لئے ایک اوریجنل واضح سیاسی لیڈر شپ کو فرنٹ پر آنا چاہیئے سسٹم کو بہتر بنانے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لئے فوجی عدالتوں کے توسیع کا خیر مقدم کرتے ہیں ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ صحیح کام کرتی تو فوجی عدالتوں ے قیام کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ ہمارے پارلیمنٹ کے منفی کردار کی وجہ سے ہمیں دوبارہ فوج کو جج بنایا جا رہا ہے آئین کی بالادستی کے لئے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کرنے کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔