اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

پاک افغان خطے کے امریکی نمائندے کی پوزیشن کی تحلیل کا خدشہ

پاک افغان خطے کے امریکی نمائندے کی پوزیشن کی تحلیل کا خدشہ

واشنگٹن: سفارتی ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بجٹ میں کمی کے باعث پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے جیسی اہم سفارتی پوزیشن تحلیل ہو سکتی ہے، جو خطے میں امن کی بحالی کے سلسلے میں خاص اہمیت کی حامل ہے۔ امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے سفارتی ذرائع نے بتایا کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بجٹ میں 28 فیصد کٹوتی، امریکی اتحادیوں کو دی جانے والی غیر ملکی امداد کو متاثر کرے گی ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ مالی سال 19۔2018 کے بجٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کمی محکمہ خارجہ کے سائز کو بھی کم کرنے کا باعث بنے گی۔امریکی حکومت میں تقرریوں، تبادلوں اور معطلی کے حوالے سے رپورٹ کرنے والے اخبار شکاگو ٹریبیون نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ساتھی اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ خصوصی نمائندوں کی پوزیشنز کو ختم کیا جائے یا نہیں، اگر یہ تجاویز منظور ہوجاتی ہیں تو اس سے اہم خطوں میں اور اہم مسائل کے حوالے سے تعینات سفارتی عملہ متاثر ہوگا، جن میں ماحولیاتی تبدیلی اور مسلم کمیونٹیز شامل ہیں۔اخبار شکاگو ٹریبیون نے مزید لکھا کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارت کا عہدہ سنبھالے دو ماہ مکمل ہوچکے ہیں تاہم بہت سی اہم نیشنل سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کی پوزیشنز ابھی تک خالی پڑی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ (اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ) میں جو 2 سب سے اہم پوزیشنز خالی ہیں، ان میں پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے اور جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ کی پوسٹس شامل ہیں۔