اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

ترکی میں دنیا کے 'سب سے بڑے' جھولتے ہوئے پُل کی تعمیر

ترکی میں دنیا کے 'سب سے بڑے' جھولتے ہوئے پُل کی تعمیر

استنبول: ترکی نے 'دنیا کے سب سے بڑے' جھولتے ہوئے پُل کا سنگ بنیاد رکھ دیا جو کہ ترکی کو یورپ سے ملائے گا۔ ترکی کا دعویٰ ہے کہ آبنائے باسفورس کے جنوب میں واقع آبنائے درِدانیال کے اوپر بنائے جانے والا یہ برج تکمیل کے بعد دنیا کا سب سے بڑا سسپینشن (ہوا میں معلق) پُل ہوگا جبکہ یہ ایشیا کو یورپ سے جوڑنے والا ایک اور پُل بن جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس برج کی تعمیر 2023 تک مکمل ہوجائے گی اور اسی سال جدید ترکی کے قیام کی 100 ویں سالگرہ بھی منائی جائے گی۔ ترکی کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ پُل 2023 میٹر طویل ہوگا جو اسے دنیا کا طویل ترین سسپینشن برج بنائے گا اور یہ جاپان کے اکاشی کائیکیو برج سے یہ اعزاز چھین لے گا جو کہ 2000 میٹر طویل ہے۔ اس برج کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب ایشیا اور یورپ دونوں طرف منقعد ہوئی جس میں ایشیا کی حدود میں ترک صدر رجب طیب اردگان نے شرکت کی جبکہ یورپ کی طرف ترک وزیراعظم بن علی یلدرم موجود تھے۔ اس موقع پر ترک صدر طیب اردگان نے کہا کہ 'یہ دنیا کا سب سے بڑا پل ہوگا اور یہ یورپ کو ایشیا سے جوڑے گا'۔ یہ برج تین ترک اور ایک جنوبی کورین کمپنی کے اشتراک سے تعمیر کیا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ صوبہ چناق قلعے میں واقع آبنائے دردانیال ترکی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل علاقہ ہے اور 1915 میں پہلی جنگ عظیم کےدوران سلطنت عثمانیہ کی فوج نے اس علاقے پر قبضے کی برطانوی، آسٹریلوی اور اتحادی افواج کی کوششیں ناکام بنائی تھیں۔ سلطنت عثمانیہ کی فوج کی اس مزاحمت کو جدید ترکی میں بھی بڑی کامیابی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے لہٰذا تعمیر کے بعد اس پُل کا نام 'چناق قلعے 1915' رکھا جائے گا۔ چناق قلعے ترکی کا ایک صوبہ ہے جہاں آبنائے دردانیال بھی واقع ہے اور استنبول کے بعد یہ دوسرا شہر ہے جس میں ایشیا اور یورپ دونوں کی حدود شامل ہیں۔

Turkey on Saturday started work on building what it says will be the world's longest suspension bridge, spanning the Dardanelles ...Turkey on Saturday started work on building what it says will be the world's longest suspension bridge, spanning the Dardan