اشاعت کے باوقار 30 سال

جی سی ایچ کیو کی ٹرمپ کے فون ٹیپنگ دعوؤں کی تردید

جی سی ایچ کیو کی ٹرمپ کے فون ٹیپنگ دعوؤں کی تردید

برطانوی مواصلاتی انٹلیجنس ایجنسی جی سی ایچ کیو نے ایک بیان جاری کر کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے فون کی نگرانی کرنے کے الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری سیئن سپائسر نے یہ دعوی کیا تھا۔ سب سے پہلے اس طرح کے الزامات امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کی جانب سے عائد کیے گئے تھے۔ اس کے جواب میں جی سی ایچ کیو نے ان الزامات کو بکواس بتاتے ہوئے انھیں پوری طرح سے مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ انھیں نظر انداز کیا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اوباما نے ٹرمپ ٹاور میں ان کی جیت سے ایک ماہ قبل تک ان کا فون ٹیپ کیا اور یہ کہ ٹرمپ ٹاور کی نگرانی کی گئی تھی۔ برطانوی مواصلاتی انٹیلجنس پر اس طرح کے الزامات سب سے پہلے سابق جج اینڈریو نیپولیٹینو کی جانب سے عائد کیے گئے تھے۔ وائٹ ہا‎ؤس کے ترجمان سپائسر نے انھیں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’تین خفیہ ذرائع نے فوکس نیوز کو بتایا ہے کہ صدر اوباما نے اپنے اختیارات کی حدود کا خیال نہیں رکھا۔ انھوں نے اس بارے میں این سی اے، سی آئی اے، ایف بی آئی یا پھر محکمہ انصاف کا نام نہیں لیا بلکہ جی سی ایچ کیو کا ذکر کیا۔‘ جی سی ایچ کیو کے ایک ترجمان نے اس کے جواب میں کہا: ’حال ہی میں میڈیا کے مبصر جج اینڈریو نیپولیٹانو نے جو الزامات عائد کیے ہیں کہ جی سی ایچ کیو سے نو منتخب صدر کے فون کی نگرانی کرنے کو کہا گيا تھا، قطعی طور بکواس ہیں۔ وہ پوری طرح سے مضحکہ خیز ہیں جنھیں نظر انداز کیا جانا چاہیے۔ ادھر امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی نے بھی ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدارتی انتخاب سے قبل یا بعد میں حکومت کی جانب سے ٹرمپ ٹاور کی نگرانی کرنے کے ’اشارے نہیں‘ ملے ہیں۔ رپبلکن سینٹر اور سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے چیئرمین رچرڈ بر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فون کو ٹیپ کیے جانے کے دعوی کو مسترد کیا گیا ہے۔ رچرڈ بر کے ہمراہ قانون سازی کرنے والے عملے کے ارکان بھی شامل تھے جنھوں نے ان الزامات کو مسترد کیا۔ اس سے قبل جمعرات کو ہی ہاؤس سپیکر پال رائن نے بھی کہا تھا کہ ’فون کی نگرانی جیسا کچھ بھی نہیں ہے۔‘ لیکن وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری سپائسر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اپنے اس دعوے پر قائم ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ان کے منتخب ہونے سے ایک ماہ قبل ان کی فون کالز ٹیپ کی تھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک ٹویٹ کی ذریعے کہنا تھا کہ ’افسوس ناک! ابھی معلوم ہوا ہے کہ اوباما نے ٹرمپ ٹاور میں میری جیت سے ایک ماہ قبل میرا 'فون ٹیپ کیا'۔ کچھ نہیں ملا، یہ مشتبہ کارروائی ہے۔‘ اس کے جواب میں سابق امریکی صدر براک اوباما کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے فون کالز کی نگرانی کے الزامات بالکل جھوٹے ہیں۔

British communications intelligence agency GCHQ has strongly rejected the allegations Donald Trump phone to monitor the presidential election in a statement. White House press secretary syyn spaysr claimed. The first such charges by US TV channel Fox