اشاعت کے باوقار 30 سال

سکاٹ لینڈ کی آزادی کیلئے دوبارہ ریفرینڈم کا مطالبہ مسترد

لندن: برطانوی حکومت نے بریگزٹ سے پہلے سکاٹ لینڈ کی آزادی کے لیے ریفرینڈم کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے جبکہ وزیراعظم ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ ابھی یہ وقت نہیں ہے۔وزیر اعظم مے کا کہنا ہے بریگزٹ کے لیے پورے برطانیہ کے لیے بہترین معاہدے پر توجہ ہونی چاہیے۔ سکاٹ لینڈ کی کنزرویٹیو رہنما روتھ ڈیویسن کا کہنا ہے کہ نکولا سٹرجن کا سنہ 2019 میں ووٹنگ 'قطعا مسترد کر دیا جائے گا۔ جبکہ نکولا سٹرجن کا کہنا ہے ریفرینڈم کا راستہ روکنے سے 'جمہوری غم و غصہ' ظاہر ہو گا۔ سکاٹ لینڈ کی وزیر اول نکولا سٹرجن نے بتایا کہ مختصرا یہ کہ یہ واقعی آزادی کی بحث ہے، ویسٹ منسٹر کے خیال میں انھیں جمہوری طور پر منتخب سکاٹش حکومت اور سکاٹ لینڈ کی اکثریت کے مینڈیٹ بلاک کرنے کا حق حاصل ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ تاریخ مڑ کر اس دن کو دیکھے گی اور نظر آئے گا کہ اس دن یونین کے تقدیر کو مہربند کر دیا گیا تھا۔ نکولا سٹرجن نے خزاں 2018 یا آئندہ سال بہار میں ریفرینڈم کا مطالبہ کیا تھا جبکہ انہی دنوں برطانیہ کے یورپ سے نکلنے کے حوالے سے مذاکرات اختتام تک پہنچیں گے۔ تاہم وزیراعظم مے نے نکولا سٹرجن کا واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی وہ وقت نہیں ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 'میرے خیال میں ہمیں سکاٹ لینڈ اور برطانیہ کے یورپی یونین کے ساتھ مستقل کی شراکت کے حوالے سے مل کر کام کرنا چاہیے۔ 'خیال رہے کہ سکاٹ لینڈ کی آزادی کے پہلا ریفرینڈم جو 18 ستمبر سنہ 2014 میں ہوا تھا اس میں 55 فیصد ووٹ آزادی کی مخالفت میں ڈالے گئے تھے۔

Theresa May blocks second Scottish independence referendum
loading...