اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

آٹھواں سیارہ دریافت ہوا

خواتین کیا پہنیں کیا نہیں، بتانا حکومت کا کام نہیں: تھریسا مے

خواتین کیا پہنیں کیا نہیں، بتانا حکومت کا کام نہیں: تھریسا مے

لندن: برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کا کہنا ہے کہ خواتین کیا پہنیں، کیا نہیں یہ بتانا حکومت کا کام نہیں جبکہ لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیئے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت کے حجاب سے متعلق فیصلے کے حوالے سے تھریسا مے کا پارلیمنٹ میں کہنا تھا کہ ’برطانیہ میں آزادی اظہار کے حوالے سے مضبوط روایات قائم ہیں اور یہ تمام خواتین کا حق ہے کہ انہیں اپنے لباس کے انتخاب کا پورا اختیار ہو، جبکہ ہم اس حوالے سے کسی قانون سازی کا ارادہ نہیں رکھتے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’مخصوص مقامات اور اوقات میں خواتین کو حجاب ہٹانے کا کہا جائے گا جیسا کہ بارڈر سیکیورٹی اور شاید عدالتوں میں، جبکہ انفرادی ادارے اس حوالے سے اپنی پالیسیاں بنانے کے لیے آزاد ہیں، لیکن یہ حکومت کا کام نہیں کہ وہ خواتین کو یہ بتائے کہ انہیں کیا پہنا ہے اور کیا نہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز’یورپین کورٹ آف جسٹس (ای سی جے) نے اپنے فیصلے میں یورپی کمپنیوں کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ وہ اپنے ملازمین کو اسلامی طرز کے اسکارف سمیت ہر اس شئے کے پہننے پر پابندی عائد کرسکتے ہیں جس سے کسی خاص مذہب یا سیاسی نظریات کا پرچار ہوتا ہو۔ ای سی جے نے بلجیم سے تعلق رکھنے والی مسلم خاتون کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کے دوران یہ فیصلہ دیا جنہیں سیکیورٹی کمپنی سے محض اس لیے فارغ کردیا تھا کیوں کیوں کہ انہوں نے اسکارف اتارنے سے انکار کیا تھا۔

British Prime Minister Theresa says that women wear, not to tell the people not the government should be freedom of expression. British news agency Reuters, the EU said in Parliament Theresa of the highest court of the veil decisions that spirit of freedo