اشاعت کے باوقار 30 سال

فلسطینی مہاجرین کو عراق میں منظم استحصال کا سامنا

فلسطینی مہاجرین کو عراق میں منظم استحصال کا سامنا

لندن: برطانیہ میں قائم عرب تنظیم برائے انسانی حقوق کے مطابق عراق میں موجود فلسطینی مہاجرین کو 2003 سے قابض فورسز، ان کے بعد آنے والی عراقی حکومتوں اور مقامی فرقہ وارانہ ملیشیائوں کی جانب سے منظم انداز سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ فلسطینیوں کو نشانہ بنائے جانے میں قتل، بے دخلی، انتظامی حراست، تشدد اور جھوٹے الزامات پر سزائیں شامل ہیں۔ عراق میں موجود فلسطینی مہاجرین کی تعداد 90 فی صد تک کم ہوگئی۔ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد سے 40 ہزار فلسطینیوں میں سے صرف 3500 عراق میں مقیم ہیں۔ دستاویزات کے مطابق 47 فلسطینیوں کو عراق کی جیلوں میں قید رکھا گیا ہے جن میں سے پانچ کو سزائے موت اور آٹھ کو عمر قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ ان تمام قیدیوں کو بھیانک تشدد کا نشانہ بنایا گیا جن میں کوڑے، بجلی کے جھٹکے اور دیگر سزائیں شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کچھ اسیران کو غیر انسانی حالات میں رکھا گیا ہے جن کو بھوکا اور علاج معالجے کی سہولت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ رہائی کے جھوٹے خواب دکھا کر ان کے خاندانوں سے پیسے بھی اینٹھ لئے جاتے ہیں۔ عراقی حکام نے 2012 میں فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے 39 ناموں کی لسٹ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کو فراہم کرنے کے بعد وعدہ کیا تھا کہ وہ ان 39 افراد کو رہا کریں گے مگر اس کے بعد فلسطینی اتھارٹی اور بغداد میں موجود اس کے سفیر نے اس معاملے کی پیروی نہیں کی۔ اس رپورٹ میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے مطالبہ کیا کہ وہ تفتیشی کمیٹی قائم کرکے فلسطینی اسیران کی صورتحال کی تفصیلات سامنے لائیں۔

According to the Arab Organization for Human Rights in the Palestinian refugees in Iraq are being targeted by the occupation forces since 2003, organized by the incoming Iraqi government and the local sectarian militias after their manner. A report re