اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جاپان کی سرکاری کرنسی ین

فاٹا میں آپریشن ضرب عضب سے امن بحال ہو رہا ہے

فاٹا میں آپریشن ضرب عضب سے امن بحال ہو رہا ہے

مہمند ایجنسی: فاٹا میں آپریشن ضرب عضب سے امن بحال ہو رہا ہے۔ پاک فوج اور قبائلی عوام کی مشترکہ قربانیوں سے دہشت گردوں کے 80 فیصد ٹھکانے ختم ہو چکے ہیں۔ 2 فیصد چھپے عناصر می عوام کو مل کر نشاندہی کرنا ہو گی تاکہ دہشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ فاٹا میں گھیرا تنگ ہونے پر دہشت گرد ملک کے دوسرے حصوں کو منتقل ہو گئے ہیں۔ غلنئی خود کش حملے میں لیویز فورس کے جوانوں نے بہادری کی مثال قائم کی۔ عوام کی تحفظ کے لئے فورسز کی قربانیوں پر فخر ہے۔ قبائل بیدار رہ کر بر وقت نشاندہی کرے تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے۔ مہمند ایجنسی، پشاورلاہور اور سیہون شریف میں دہشت گر د حملے انسانیت کے خلاف ہیں۔ افغان بھائیوں کی تیس سال تک خدمت کی اور پناہ دی ہے۔ اب ان کی حدود سے پاکستان پر حملے ہو رہے ہیں اور ہمارے خلاف افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردی کی منصوبہ بندیاں ہو رہی ہے۔ فاٹا میں اصلاحاتی کمیٹی کے سفارشات کے عین مطابق اصلاحا ت لائے جائینگے۔غلنئی واقعہ میں شہید لیویز اہلکاروں کے خاندان اور بچوں کی کفالت اور تعلیمی اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑانے جمعہ کے روز دورہ مہمند ایجنسی میں غلنئی خود کش حملوں میں شہید لیویز اہلکاروں کے خاندانوں سے تعزیت کرنے اور امدادی چیکس کی تقریب سے ہیڈ کوارٹر غلنئی میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعہ پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا فدا محمد وزیر، ایم ایس ٹو گورنر لیفٹنٹ کرنل شاہد، پولیٹیکل ایجنٹ محمود اسلم، مہمند رائفلز ونگ کمانڈر محمد عمیر دیگر افسران اور قبائلی مشران بھی موجود تھے۔ گورنر نے تین شہید لیویز اہلکاروں کے ورثاء کو شہید پیکیج کے تیس تیس لاکھ روپے اور تین زخمی اہلکاروں کے لئے فی کس ایک لاکھ پچاس ہزار روپے کے امدادی چیکس حوالے کر دئیے۔ گورنر نے شہداء کے تنخواہوں کو جاری رکھنے اور ان کے خاندان کے لئے ایک ایک خاصہ دار کی نوکری دینے کا بھی اعلان کیا۔ اور ورثاء کو اطمینان دلایا کہ شہداء کے قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کی کفالت اور بچوں کی تعلیمی اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ تقریب میں شہداء سے تعزیت کے لئے فاتحہ خوانی اور زخمیوں صحت یابی کے لئے خصوصی د عا مانگی گئی۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخواہ نے کہا کہ قبائل کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ فاٹا میں پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قبائل کے قربانیوں کے بدولت امن تیزی سے قائم ہو رہا ہے۔ آپریشن ضرب عضب اور قبائلیوں کی سیکیورٹی اداروں سے تعاون کے نتیجے میں فاٹا سے دہشت گردوں کے 80 فیصد ٹھکانے ختم ہو چکے ہیں۔ باقی 20 فیصد چھپے دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لئے قبائل کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہر مشکوک اور اجنبی افراد پر کھڑی نظر رکھ کر بر وقت نشاندہی کیا کریں تاکہ امن کو بحال رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے لوگ ہمارے بھائی ہیں۔ پاکستان نے افغانستان کے جنگوں کے متاثرین کو تیس سال تک پناہ اور ہر سہولت دی۔ مگر اب افغانستان کے حدود سے ہمارے خلاف حملے اور دہشت گردی واقعات کی منصوبہ بندیاں ہو رہی ہے۔ اور ان کی زمین ہمارے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ گورنر کا کہنا تھا کہ کامیاب آپریشن ضرب عضب کی موثر کاروائیوں کے نتیجے میں دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ ہو کر وہ ملک کے دوسرے شہروں اور اضلاع منتقل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیہون شریف جیسے واقعات انسانیت کے خلاف ہیں۔ کیونکہ ایک انسان کو قتل کرنا پورے انسانیت کا قتل ہے۔ مگر ہمارے ارادے مضبوط ہیں اور دہشت گردوں کو اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ ہم میں بعض مشکوک لوگ دخل ہو چکے ہیں ان کی تخریب کاری کی روک تھام کے لئے عوام کو پاک فوج کا ساتھ دینا ہے۔ کیونکہ دہشت گردی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ان کے خلاف مزید کاروائیاں ہوں گی۔ گورنر نے غلنئی خود کش حملے میں شہید اور زخمی اہلکاروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اور ورثاء کو تسلی دی کہ ان کے بیٹوں نے ملک و قوم کے لئے قربانیاں دی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اور حکومت متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے زخمیوں کی علاج معالجے کی خصوصی ہدایات دی۔ یاد رہے کہ جمعرات کے روز آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بھی دورہ مہمند ایجنسی میں شہداء کے ورثاء سے ملاقات کر کے ان کے لئے پاک فوج کی طرف سے بہادری کے اعتراف میں دس دس لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔