اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

واکس ویگن کی ابتدا

پمز میں میڈیکل ٹیکنالوجسٹ سٹاف کو از خود عہدے سونپ دئیے گئے

پمز میں میڈیکل ٹیکنالوجسٹ سٹاف کو از خود عہدے سونپ دئیے گئے

اسلام آباد: پاکستان انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) نے میڈیکل ٹیکنالوجسٹ سٹاف کو از خود عہدے فراہم کے غریب مریضوں کو وارڈ بوائے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، جبکہ بلڈ سمپل کا گھنٹوں لیبارٹری میں بغیر مشین کے رکھنے کی وجہ سے 80 فیصد سمپل کلاٹ میں بدل جانے سے رپورٹ بھی صفر آنے کا انکشاف ہوا ہے، ذرائع کے مطابق میڈیکل ٹیکنالوجسٹ جنہیں ماہانہ 1 لاکھ سے زائد تنخواہ دے کر صرف حساس نوعیت کے ٹیسٹ کی کارکردگی دینے کے لئے رکھا گیا ہے، وہ ازخود ہی منیجر اور لیب سپروائز بن گئے ہیں جو کہ اصل ڈیوٹی سے بچنے کے لئے سربراہ پیتھالوججی کی مرض سے کام نہیں کر رہے ہیں۔ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پمز کے نئے لیبارٹری کاؤنٹر پر بائیومیٹرک حاضری شروع کر دی گئی ہے۔ جبکہ پمز کی مین لیبارٹری کے اندر موجود عملہ جو چار چار دن تک ٹیسٹ فارم نہیں کرتا انہیں بائیومیٹرک حاضری سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ ان کی وجہ سے ہی مریضوں کو رپورٹس کے حصول کے لئے چار چار دن لیبارٹری کاؤنٹر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لیبارٹری کے پروفیسرز‘ اسسٹنٹ پروفیسرز اور میڈیکل ٹیکنالوجسٹ کو بھی بائیو میٹرک حاضری سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔ زرائع نے بتایا کہ پمز کی لیبارٹری میں زیادہ تر میڈیکل ٹیکنالوجسٹ دوسرے اداروں سے آئے ہوئے ہیں اور اپنی اصل ڈیوٹی سے بچنے کے لئے لیبارٹری منیجر اور سپروائزر بنے ہوئے ہیں۔ میڈیکل ٹیکنالوجسٹ خرم شہزاد کو صرف ہسٹو پتھالوجی کے حساس نوعیت کے ٹسٹوں کے لئے جے پی ایم سی کراچی سے بلایا گیا تھا جو خاص طور پر کینسر کی تشخیص کے لئے کئے جاتے ہیں لیکن یہ ٹیسٹ بھی لیبارٹری وارڈ بوائے نثار کر رہا ہے۔ جبکہ خرم شہزاد کو واپس اپنے ادارے میں بھیجنے کے بجائے لیبارٹری سپروائزر بنایا دیا گیا ہے، وہ ڈیوٹی ٹائم کے دوران کالج آف میڈیکل ٹیکنالوجی میں سٹوڈنٹس کو لیکچر دے کر اضافی تنخواہ بھی وصول کر رہا ہے۔ پندرہ پندرہ دن غیر حاضر رہنے کی وجہ سے ہیڈ آف پتھالوجی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر آشوک کمار کے (پی اے) اسلم کا ابھی کچھ دن پہلے لیبارٹری سے او پی ڈی میں تبادلہ کر دیا گیا تھا لیکن ان کا تبادلہ رکوا دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلم غریب مریصوں کو نجی لیبارٹریوں کا ایڈریس دے کر ہسپتال سے لے جانے کا کام بھی کر رہا ہے اور وہ لیبارٹریوں سے سے کمیشن وصول کرتا ہے اس حوالے سے جب جناح نے ہیڈآف پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر اشکوک کمار سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ مریضوں کا سب سے زیادہ حق پمز پر ہے اور پمز لیب میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، ازخود بنائے گئے عہدے کا ان کا کوئی علم نہیں ہے، اس حوالے سے انکوائری کی جائے گی ، پمز کے ایڈمنسٹریٹر نے جناح کو بتایا کہ تمام تر صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا جو بھی اس میں ملوث پایا گیا ان کے کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ شہید ذولفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانلسر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے جناح کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ پمز میں غئریب مریضوں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی، جو بھی اس معاملے میں ملوث پایا گیا ان کو نہ صرف عہدوں سے ہٹا دیا جائے گا بلکہ ایف آئی اے کے حوالے کر کے ان کے کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائیں گے۔