اشاعت کے باوقار 30 سال

سیہون شریف، دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 88، 55 لاشیں ورثاء کے سپرد

سیہون شریف، دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 88، 55 لاشیں ورثاء کے سپرد

سیہون: سیہون میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 88 ہو گئی ہے جبکہ 55 لاشیں ورثا کے سپرد کر دی گئیں۔ پندرہ لاشیں اب بھی تعلقہ اسپتال سیہون میں موجود ہیں جبکہ پانچ لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونے لے لیے گئے ہیں۔ دھماکے کے 15 افراد تعلقہ اسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ 41 شدید زخمی، کراچی، حیدر آباد اور نوابشاہ منتقل منتقل کیے گئے ہیں۔ حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار میں گزشتہ روز خود کش دھماکے میں 88 افراد شہید اور 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ 155 زخمیوں کو طبی امداد دے کر فارغ کر دیا گیا ہے۔ محکمہ صحت کے حکام نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سیہون دھماکے میں شہدا کی تعداد 88 ہو گئی ہے، جن میں سے 67 کی شناخت ہو چکی ہے۔ حکام کے مطابق 75 افراد کی میتیں سیہون جبکہ 5 افراد کی میتیں نوابشاہ اسپتال لائی گئیں۔ ادھر انچارج سی ٹی ڈی راجا عمر خطاب کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر حملہ آور مرد تھا، دھماکا مزار کے اندر ہوا، صحن میں ہوتا تو جانی نقصان اور زیادہ ہو سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کاروں نے دھماکے کے مقام سے شواہد اکٹھے کر لیے، سی سی ٹی وی وڈیو سے بھی تحقیقات میں مدد لی جائے گی۔ دوسری جانب قلندر کے پیروکاروں نے خوف اور دہشت کے آگے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ دھماکے کے چند گھنٹوں بعد ہی مزار پر روایتی گھنٹے اور ڈھول کی آوازیں گونجیں۔ صبح ہوتے ہی زائرین پھر سے حاضری دینے پہنچ گئے۔ سیہون پہنچنے والے زائرین نے حضرت لعل شہباز قلندر کا مزار کھولنے کے لیے احتجاج کیا۔ پولیس کے مطابق زائرین حصار توڑ کر مزار میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔