اشاعت کے باوقار 30 سال

سیہون حملے کے بعد ملک بھر میں کریک ڈاؤن، 39 سے زائد ہلاک

سیہون حملے کے بعد ملک بھر میں کریک ڈاؤن،  39 سے زائد ہلاک

کراچی: سیہون میں واقع درگاہ قلندر لعل شہباز میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 39 سے زائد مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے اور رینجرز آپریشن کے دوران 25 مبینہ دہشت گرد، خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں 11 جبکہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی 2 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان کی وفاقی و صوبائی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا ہے، جو آئندہ چند روز تک جاری رہے گا'۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ملک کے مختلف شہروں سے درجنوں مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ رینجرز کی جانب سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز کے مطابق سندھ میں رات گئے تک ہونے والے آپریشن کے دوران 18 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ کراچی کے علاقے میمن گوٹھ میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان مبینہ مقابلہ ہوا، جس کے دوران 7 مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی عمریں 30 سے 55 سال کے درمیان ہیں، ساتھ ہی خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ہلاک دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔ دوسری جانب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی سیکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیا۔ سریاب روڈ کے علاقے درخشاں میں سرچ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان مقابلہ ہوا، جس کے دوران 2 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر وارداتوں میں ملوث تھے، جن کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا، ہلاک ہونے والے دہشت گردوں سے اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا۔ ادھر خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ دارالحکومت پشاور میں سیکیورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کے دوران 3 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے، سیکیورٹی فورسز کے مطابق ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور ہینڈ گرنیڈ بھی برآمد کیے گئے۔ سیکیورٹی فورسز کے مطابق اورکزئی ایجنسی میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں اہلکاروں کی جوابی کارروائی کے دوران 4 حملہ آور ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق خیبرپختونخوا میں تیسری کارروائی کے دوران پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان بنوں کے تھانہ بقا کاہل میں مقابلہ ہوا، جس دوران 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر اور ایک ہفتے کے دوران لاہور، پشاور، مہمند ایجنسی اور سیہون میں ہونے والے دھماکوں کے بعد جہاں سیکیورٹی فورسز نے کریک ڈاؤن شروع کررکھا ہے، وہیں ملک بھر میں سیکیورٹی کے انتظامات بھی سخت کر دیئے گئے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں نماز جمعہ کے دوران مساجد اور امام بارگاہوں کی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ دارالحکومت اسلام آباد میں اہم مقامات، عمارتوں، مساجد اور امام بارگاہوں کی سیکیورٹی سخت کردی گئی۔ اسلام آباد میں ریڈزون کی سیکیورٹی کے لیے بھی غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔ راولپنڈی میں بھی سیکیورٹی کے انتظامات سخت کیے گئے، جہاں مساجد کے باہر نماز جمعہ کے دوران ایلیٹ کمانڈوز تعینات ہوں گے۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کردی گئی، جب کہ اڈیالہ جیل اور بینظیر ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کے لیے فوجی جوان تعینات کردیئے گئے۔

After more than 70 people killed in suicide blast at a shrine in Sehwan result of Lal Shahbaz Qalandar security forces killed more than 30 suspected terrorists operating in various parts of the country. Provincial capital of 25 terrorists, kybrpktu over a