اشاعت کے باوقار 30 سال

لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکہ، ہلاکتیں 50 ہوگئی

سیون شریف: سہون میں درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطے میں دھماکے کے نتیجے میں خواتین سمیت 50 افراد جاں بحق اور خواتین و بچوں سمیت 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔ دھماکا درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطے میں اس وقت ہوا جب وہاں دھمال ڈالی جارہی تھی، جبکہ دھماکے کے بعد لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی اور درگاہ کے احاطے میں آگ لگ گئی۔ دھماکے کے بعد پولیس کی ٹیموں نے درگاہ لعل شہباز پہنچ کر جائے وقوع کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو درگاہ کے قریب واقع ہسپتال منتقل کیا۔ ایم ایس تحصیل ہسپتال سہون ڈاکٹر معین الدین صدیقی کا کہنا تھا کہ ’ہسپتال میں 50 افراد کی لاشیں اور 100 سے زائد زخمیوں کو لایا جا چکا ہے۔‘ شدید زخمیوں کو دادو اور جامشور کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے جہاں 50 سے زائد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، جبکہ دادو، جامشور اور بھان سید آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ جامشورو کے سینئر پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ’بظاہر دھماکا خودکش معلوم ہوتا ہے جبکہ حملہ آور سنہری دروازے سے درگاہ میں داخل ہوا۔‘ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیہون دھماکے کے متاثرین کی فوری امداد کی ہدایت کی جس کے بعد پاک فوج، رینجرز اور میڈیکل ٹیمیں جائے وقوع کی طرف روانہ کردی گئیں۔ درگاہ لعل شہباز قلندر میں جمعرات کے روز دھمال ڈالی جاتی ہے اور زائرین کی بڑی تعداد مزار پر حاضری دیتی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ اور کمشنر حیدر آباد کو فون کرکے دھماکے کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو فوری واقعے کی جگہ پہنچنے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں انہوں نے دھماکے کی مذمت اور اس میں قیمتی جانوں کی ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کوشش ہے کہ زخمیوں کو جلد از جلد طبی امداد فراہم کی جاسکے اور اس سلسلے میں جامشورو، نوابشاہ اور حیدر آباد سے ڈاکٹرز کو روانہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس رات میں پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹر نہیں ہیں اس لیے زخمیوں کی منتقلی کیلئے فوجی حکام سے ہیلی کاپٹر مانگے ہیں، جبکہ حکومت سندھ کے ہیلی کاپٹرز صبح میں سہون پہنچ جائیں گے۔‘ یاد رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں درگاہ شاہ نورانی میں بھی زور دار بم دھماکا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 52 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔ واضح رہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر 13 فروری کو لاہور کے مال روڈ کے دھماکے سے شروع ہوئی جہاں پنجاب اسمبلی کے سامنے دہشت گردوں نے خودکش حملہ کر کے 13 افراد کو ہلاک اور 85 کو زخمی کردیا۔ دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ 'جماعت الاحرار' نے قبول کی تھی۔ 13 فروری کو ہی کوئٹہ میں سریاب روڈ میں واقع ایک پل پر نصب دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بناتے ہوئے بی ڈی ایس کمانڈر سمیت 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس کے بعد 15 فروری کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا کی مہمند ایجنسی میں خودکش حملے کے نتیجے میں خاصہ دار فورس کے 3 اہلکاروں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے گروپ ’جماعت الاحرار’ نے قبول کی تھی۔ 15 فروری کو ہی پشاور میں ایک خود کش حملہ آور نے ججز کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ خود کش دھماکوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے قافلوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے، جمعرات 16 فروری کو بلوچستان کے علاقے آواران میں سڑک کنارے نصف دیسی ساختہ بم پھٹنے سے پاک فوج کے ایک کیپٹن سمیت 3 اہلکار جاں بحق ہوئے۔

50 people were killed and over 100 injured, including women and children including women explosion at the shrine of Lal Shahbaz Qalandar in Sehwan premises. The blast took place in the shrine of Lal Shahbaz Qalandar premises when there was Dolly Dhamaal,