اشاعت کے باوقار 30 سال

یمنی حوثیوں کے ہاتھوں بچوں سمیت 300 شہری اغواء

یمنی حوثیوں کے ہاتھوں بچوں سمیت 300 شہری اغواء

صنعاء: یمن کی اِب گورنری میں حوثی باغیوں نے بڑوں اور بچوں سمیت کم سے کم تین سو عام شہریوں کو اغواء کر لیا ہے اور وہ ان کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ یرغمال بنائے گئے افراد کا ضلع رمید کے دو دیہات دبیح اور المیدان سے ہے۔ انھیں حوثی ملیشیا کے ایک کمانڈر ابو عبدالرحمان العلوی کی اسی ضلع میں گذشتہ جمعے کو ہلاکت کے ردعمل میں اغوا کیا گیا ہے۔ حوثی ملیشیا کا کمانڈر نامعلوم مسلح افراد کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کے جنگجوؤں نے اس علاقے میں متعدد مکانوں کو نذر آتش کر دیا ہے۔ حوثی جنگجوؤں نے ان دونوں دیہات میں گھروں پر دھاوا بول کر مکینوں کو باہر نکال دیا تھا اور پھر ان میں سے مردوں کو زبردستی اپنے ساتھ کسی نامعلوم مقام کی جانب لے گئے ہیں۔ ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ان دونوں دیہات کے مکین مسلح نہیں تھے اور وہ حوثی کمانڈر کی ہلاکت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ حوثیوں نے متعدد مکانوں میں لوٹ مار کی ہے اور ایک گاؤں کا محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے اور انھوں نے اس کے داخلی اور خارجی راستوں کو بھی بند کر رکھا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ حوثیوں نے بعض ماؤں سے کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی رہائی کے لیے انھیں سونا اور سونے کے زیورات دیں اور ایک خاتون نے اپنے کم سن بچے کی رہائی کے لیے اپنا تمام سونا حوثی جنگجوؤں کے حوالے کر دیا ہے۔

The governor of Yemen's Houthi rebels kidnapped at least three civilians, including adults and children, and they are demanding a ransom for their release. According to media reports, sources told that two villages in the district and almydan dbyh rmyd pe