اشاعت کے باوقار 30 سال

الحاق کی مخالفت کرنے والے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے

الحاق کی مخالفت کرنے والے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے

نئی دہلی: بی جے پی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا نے کہا ہے کہ بھارت کو وقت ضائع کئے بغیر کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے الحاق کی مخالفت کرنالحاق کی مخالفت کرنے والے پاکستان کے وجود کو تسلم نہیں کرتے اپنے ایک انٹرویو میں سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ جب کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق ہوا اس وقت ایک متحدہ ہندوستان تھا اور اس کے بعد دو ملک وجود میں آگئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو الحاق کی مخالفت کرتے ہیں وہ پاکستان کے وجود کو بھی تسلیم نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ ریاست کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنا انتہائی لازمی ہے ہمیں ان کو سننا چاہیے جو ہم سے روٹھے ہیں ان کو کس طرح سے منایا جائے یہ حکومت کی ذمہ داری ہے یشونت سنہا نے کہا کہ کشمیر کے لوگ ہمارے اپنے ہیں ہم ایک گھر میں رہتے ہیں اور مکینوں کو منانا ضروری ہے اور اس کے لئے بات چیت لازمی ہے سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک نہیں ہے دراندازی ہو رہی ہے جنگ بندی معاہدے کی خلا ورزی بھی ہو رہی ہے تاہم 1989ء سے پاکستان بار بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور جدید ہتھیاروں سے لیس عسکریت پسندوں کو دھکیلنے کے واقعات کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ اگر آگرہ دورہ کے دوران پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے اس بات کا برملا اعتراف کیا کہ دراندازی ہو رہی ہے اور عسکریت پسند جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہو رہے ہیں ۔