اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

فرانس میں شہنشاہیت کا خاتمہ

ایڈز میں مبتلا 22 بچوں کو گود لے لیا

 ایڈز میں مبتلا  22  بچوں کو گود لے لیا

ممبئی: بھارت کے شہر ممبئی میں 44 سالہ شخص نے ایڈز میں مبتلا 22 بچوں کو گود لے لیا، ان بچوں کے حقیقی والدین نے ان کی ذمے داری اٹھانے سے انکار کر دیا تھا, راجب کا کہنا ہے کہ وہ کوئی غیر معمولی کام نہیں کر رہا، تمام بچے اسے ’’بابا ‘‘ کہتے ہیں اور میں فقط اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر رہا ہوں، راجب کی اہلیہ دن بھر 24 بچوں کی دیکھ بھال اور کھانا پکانے میں مصروف رہتی ہے ۔
ہندوستانی میڈیا کے مطابق بھارت کے شہر ممبئی میں راجب تھامس نامی شخص جسے اس کے زیر پرورش بچے "بابا ریجا" کے نام سے پکارتے ہیں نے 10 برس قبل ان بچوں کو زیر پرورش لینے کا سلسلہ شروع کیا تھا جو بھارت کی سڑکوں پر پھرتے تھے اور ان کے پاس سر چھپانے کو کوئی جگہ نہیں تھی۔ ممبئی میں راجب کے گھر میں ان تمام بچوں کے علاوہ اس کی بیوی اور اپنے دو بچے بھی رہتے ہیں۔ راجب کی بیوی مینی ریجا ان 24 بچوں (2 اپنے اور 22 گود لیے گئے) کو تین وقت کی خوراک فراہم کرنے کے لیے دن بھر کھانا پکانے میں مصروف رہتی ہے جب کہ راجب ان بچوں کی تعلیم و تربیت اور صحت کے امور کا خیال رکھتا ہے۔ راجب نے 2009 میں ایک بڑا گھر کرائے پر لیا تھا تاکہ آنے والے نئے بچوں کے ساتھ وہاں رہا جا سکے۔
راجب کا کہنا ہے کہ ابتدا میں اخراجات پورے کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا مگر بعد ازاں ان بچوں کی مدد کرنے میں حائل مشکلات دور ہوتی چلی گئیں۔ اس نے واضح کیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں نے ان بچوں کی خاطر نقدی اور دیگر سامان کے عطیات کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ راجب کے مطابق دھیرے دھیرے گھر میں ان بچوں کی تعداد 4 سے بڑھ کر 24 تک ہو گئی۔ راجب کی بیوی مینی کا کہنا ہے کہ ہماری ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہمارا کوئی بچہ نامناسب تربیت کے ساتھ پروان نہ چڑھے۔ اس واسطے جس طرح ہم ان کو پیار کرتے ہیں اسی طرح ڈانٹ بھی پلاتے ہیں۔ مینی نے مزید بتایا کہ ہم ان کے ساتھ تہوار بھی مناتے ہیں اور کسی کے بیمار ہوجانے کی صورت میں فوری طور پر ہسپتال میں اس کا علاج بھی کرواتے ہیں۔ خاندان کا سربراہ راجب اپنے اس بڑے گھرانے پر فخر محسوس کرتا ہے اور اسے زندگی میں اپنی مسرت کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔راجب کا کہنا ہے کہ یہ سب مجھے بابا کہہ کر پکارتے ہیں اور باپ کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو دیکھ بھال اور تحفظ فراہم کرے۔ لہذا میں کوئی غیر معمولی کام نہیں کر رہا فقط اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر رہا ہوں۔