اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

پاکستان میں امریکی بمباری کم ترین سطح پر آ گئی

پاکستان میں امریکی بمباری کم ترین سطح پر آ گئی

واشنگٹن: خارجہ تعلقات پر کام کرنے والے امریکی تھنک ٹینک کے مطابق پاکستان میں امریکی بمباری کم ترین سطح پر آ گئی، سال 2016 میں جہاں عرااق اور شام پر امریکا نے تقریباً 24 ہزار بم برسائے وہیں پاکستان میں صرف 3 بار بمباری کی گئی۔ امریکی تھنک ٹینک کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے اعداد و شمار پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صورتحال تبدیل ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جہاں کے بارے میں امریکی دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ ان علاقوں سے افغانستان میں موجود امریکی اور افغان فوجیوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔ماضی میں ان علاقوں سے افغانستان میں ہونے والے حملوں یا پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں بڑھنے کے پیش نظر امریکا نے وہاں متعدد بار بمباری کی، مگر 2014 میں افواج پاکستان کی جانب سے فاٹا اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کیے جانے کے بعد دہشت گرد حملوں میں کمی کے ساتھ ساتھ امریکی بمباری میں بھی واضح کمی ہوئی۔ رپورٹ کے اعداد و شمار اس بات کو بھی ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا نے اپنی ترجیح تبدیل کرتے ہوئے پاک۔افغان خطے کے بجائے اپنی توجہ شام اور عراق پر مرکوز کر لی ہے۔ امریکا کی جانب سے 2016 میں داعش کے ٹھکانے تباہ کرنے کے لیے زیادہ تر بمباری ان ہی 2 ممالک میں کی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام اور عراق میں امریکا کی جانب سے بڑھتی بمباری اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ اوباما انتظامیہ افغانستان کے علاوہ دیگر ممالک میں جاری جنگوں میں امریکی افواج کے زمینی آپریشنزکو کم کرنا چاہتی ہے۔ اوباما انتظامیہ کا موقف ہے کہ امریکا کی جانب سے زمینی کارروائیوں میں حصہ لینے سے نہ صرف امریکی شہریوں کی جانوں کا خطرہ ہوتا ہے بلکہ ان علاقوں میں امریکا کے خلاف نفرت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بمباری بہت ہی نپے تْلے انداز میں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مقامی انتظامیہ کی مدد کے لئے کی جاتی ہے۔ خارجہ تعلقات پر کام کرنے والے تھنک ٹینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کا یہ دعویٰ کہ 'فضائی کارروائی سے ان ممالک میں انتہا پسندوں کی جانب سے درپیش خطرات میں کمی سمیت وہاں سیکیورٹی اور حکومتی انتظامات بہتر ہوتے ہیں'، قابل بحث ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اوباما انتظامیہ نے 2016 میں 7 مختلف ممالک میں 26 ہزار 171 بم برسائے، مگر یہ اندازے بلاشبہ کم ہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف پاکستان، صومالیہ اور لیبیا میں امریکی فضائی حملوں سے متعلق قابل اعتماد ڈیٹا مل سکا ہے اور ایک فضائی حملے میں متعدد بم اور گولے داغے گئے ہو سکتے ہیں۔ تھنک ٹینک کے مطابق امریکا نے سال 2016 میں 2015 کے مقابلے میں 3 ہزار 27 بم زیادہ داغے جبکہ اس سال اس نے لیبیا پر بھی بمباری کی۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2016 میں امریکا نے سب سے زیادہ 12 ہزار 192 بم شام میں گرائے، جبکہ اسی عرصے کے دوران عراق میں 12 ہزار 95 بم برسائے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار امریکا کی جانب سے داعش کے خلاف شروع کی گئی خصوصی فوجی مہم آپریشن ان ہیرینٹ ریزالو‘ (او آئی آر) کے تحت 2016 میں کی جانے والی بمباریوں پر مشتمل ہیں۔ پینٹاگون کی جانب سے امریکا اور اس کے اتحادی برطانیہ جیسے ممالک کی جانب سے کی جانے والی بمباری سے متعلق اعداد و شمار جاری کیے گئے، جب کہ امریکی تھنک ٹینک نے صرف خصوصی فوجی اپریشن ان ہیرینٹ ریزالو 2016 کے اعدادو شمار حاصل کر کے ان کی رپورٹ جاری کی۔ تھنک ٹینک نے اعدادوشمار کو استمال کرتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ عراق و شام میں بین الاقوامی اتحاد کے ہونے والے مجموعی حملوں (7,473) میں سے 79 فیصد (5 ہزار 904) فضائی حملے امریکا نے کیے۔ ان ممالک میں عالمی اتحاد نے مجموعی طور پر 30 ہزار 743 بم گرائے جن میں سے 24 ہزار 287 (79 فیصد) بم امریکا نے گرائے۔