اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

دو سو شامی پناہ گزینوں کا محسن

دو سو شامی پناہ گزینوں کا محسن

جب جم ایسٹل نے ارادہ کیا کہ وہ 50 شامی پناہ گزینوں کی کفالت کریں گے تو انہوں نے اس کے بارے میں کسی کو کچھ نہ بتایا۔ نہ اپنے اکاؤنٹنٹ کو ، نہ اپنے دوستوں کو ، حتیٰ کہ اپنی بیوی کو بھی نہیں۔ یہ 2015 کا موسم گرما تھا اور شام میں 250,000 لوگ ہلاک ہو چکے تھے ، جب کہ 40 لاکھ لوگ ملک سے فرار ہو گئے تھے۔ سارے موسم گرما کے دوران لوگوں کے بحیرہ مردار میں ڈوبنے کی خبریں آتی رہیں۔ شرق اوسط میں انسانی ہمدردی کی سرگرمیاں ٹھنڈی پڑ چکی تھیں۔ یہ خبریں سن کر ایسٹل نے کمر ہمت کس لی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 80 سال کے بوڑھے نہیں بننا چاہتے تھے۔ انہیں علم تھا کہ انہوں نے وقت کے اس عظیم بحران کے سلسلے میں کچھ نہیں کیا۔ ایسٹل ، ہارپر انتظامیہ کے پناہ گزینوں کے بارے میں متعصبانہ رویہ سے بہت پریشان تھے۔ وہ دنیا کو دکھانا چاہتے تھے کہ کس طرح پناہ گزینوں کو کینیڈین معاشرہ کے لئے مفید بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے ایک دوست فرائز حسن فراٹز بھی ایک پناہ گزین تھے۔ جو کمیونسٹ ہنگری سے یہاں آئے تھے۔ حسن فراٹز نے کاروں کے پرزے تیار کرنے کی فیکٹری لینا مار کے نام سے قائم کی تھی۔ یہ گوالف کے علاقہ میں سب سے زیادہ لوگوں کو روزگار مہیا کرنے والا ادارہ تھا۔ تقریباً 10,000 لوگ ان کے ہاں ملازم تھے۔ ایسٹن متعصبانہ رویہ رکھنے والوں کی زبانیں بند کرنا چاہتے تھے۔ لوگ اطالوی اور آئرش لوگوں کو پناہ گزین نہیں کہتے تھے وہ ان کے نزدیک انسان تھے۔ ایسٹل نے کچھ حساب کتاب کیا۔ انہوں نے کیجیجی سے رابطہ کر کے گوالف میں کرائے کے لئے دستیاب مکانات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ کھانے کا ماہوار بجٹ تیار کیا۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ 5 افراد کے گھرانے کے لئے ایک مہینے کے لئے 30,000 ڈالر کافی ہوں گے۔ اس لحاظ سے 50 گھرانوں کے لئے 15 لاکھ ڈالر سالانہ کی ضرورت تھی جس کا وہ بآسانی انتظام کر سکتے تھے۔
ایسٹل گھریلو آلات بنانے والی ایک فرم ڈ ینبی کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ اس کمپنی کی سالانہ سیل 400 ملین ڈالر ہے۔ انہوں نے 1970 کی دہائی کے اواخر میں پرانے کمپیوٹرز کی خرید و فروخت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ بعد میں وہ ایک آئی ٹی کی فرم سنیکس کینیڈا کے چیف ایگزیکٹو بن گئے۔ یہاں ان کی مجموعی سالانہ آمدنی 2 بلین ڈالر سے زیادہ تھی۔ 2015 میں انہوں نے ڈینبی کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھالا۔ وہ ایک عملی اور اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے والے شخص ہیں۔ لوگوں کی صاف ستھرے کاروبار کے سلسلے میں راہنمائی کرنے کا وہ کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ انٹرنیٹ پر ان کی ایک ٹی ای ڈی ٹاک بھی فرام زیرو ٹو ٹو بلین ڈالرز ( صفر سے دو بلین ڈالر تک ) کے عنوان سے موجود ہے۔
59 سال کی عمر میں بھی وہ ایک توند نکلے چیف ایگزیکٹو سے زیادہ ایک چست سپاہی دکھائی دیتے ہیں۔ وہ قیمتی سوٹ کی بجائے ڈیزائن والی شرٹ پہننا پسند کرتے ہیں اور کالر کو کھلا رکھتے ہیں۔ وہ اپنی ریٹائرڈ وکیل بیوی کے ہمراہ وکٹورین طرز کے اینٹوں سے بنے ہوئے مکان میں رہتے ہیں جو سڑک سے ہٹ کر گھنے درختوں کی چار دیواری میں چھپا ہوا ہے۔ ان کے چار بچے سالوں پہلے سے ان سے جدا اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے پاس سرخ رنگ کی پرائیئس کار ہے جسے وہ اپنے جوانی کے بحرانی زمانے کی ساتھی کہتے ہیں۔ وہ نظم و ضنط کے بہت زیادہ پابند ہیں ۔ ان کے گھر میں ٹی وی نہیں ہے۔ وہ مارکیٹنگ کے موضوع پر کتابوں کے مطالعہ اور پھر ان پر تبصرہ کرنے میں اپنا وقت گزارتے ہیں۔ اکثر صبح کو وہ ٹریڈ مل پر بھاگتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کو باغبانی کا جنون ہے ۔ اپنے مہمانوں کو وہ کھانے کے ہمراہ اپنے اگائے ہوئے ٹماٹروں ، پھلیوں اور چقندر کا سلاد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کو بقول ان کے کامیابی سے ہمکنار کرنے والی عادتوں کا پابند بنایا ہوا ہے۔ ان کی ایک عادت صبح کے وقت کم از کم 20 منٹ کھلی ہوا میں گزارنا ہے چاہے موسم کیسا بھی ہو۔ ایک اور عادت بیسمنٹ میں آتش دان کے سا منے راکنگ چیئر پر بیٹھ کر مثبت غور و فکر کرنا بھی ہے۔ ان کی دوسری عادتیں زیادہ وسیع مطمع نظر رکھتی ہیں جیسے لوگوں سے نیکی کرنا۔ اسی عادت نے انہیں شامی مہاجرین کی مدد پر اکسایا۔
مزدوروں کے عالمی دن کے بعد ایسٹل نے مقامی مذہبی راہ نماؤں سے رابطہ کیا۔ جن میں تین چرچ ، ایک مسجد ، ایک ہندو مندر اور ایک یہودی عبادت گاہ کے مذہبی راہ نما شامل تھے۔ 29 ستمبر کو 10 راہ نما ڈینبی میں ایسٹل کے بورڈ روم میں مدعو تھے۔ ایسٹل نے پناہ گزینوں کے لئے درست لائحہ عمل کے عنوان سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ گوالف کی مسلم سوسائٹی کے صدر محمد سعید کے لئے اتنے مذہبی گروہوں کی اس معاملے میں دلچسپی خوش کن حیرانی کا باعث تھی کیونکہ پناہ گزینوں کی اکثریت مسلمان ہوتی۔
ایسٹل سے ملاقات پر محمد سعید کا دل ان کے لئے تشکر و امتنان کے جذبے سے معمور تھا۔ وہ سوچ رہے تھے کہ ابھی دنیا نیک لوگوں سے خالی نہیں ہوئی۔ اس گروپ کے ایک گھنٹے کے اجلاس کے بعد منصوبے پر عمل درآمد شروع ہو گیا۔ رہائش کے لئے تعمیراتی کام ، پناہ گزینوں کے لئے پیپر ورک اور رضا کاروں کی راہ نمائی کا کام گوالف کی مسلم سوسائٹی کو سونپا گیا۔ ایسٹل عطیا ت کے ذریعہ اس پروگرام کو جاری رکھ سکتے تھے۔ گوالف کے اس گروپ نے مدد کے لئے پناہ گزینوں کے خاندانوں کے انتخاب میں سہولت کی خاطر ٹورانٹو میں اسلامک فاؤنڈیشن کے ساتھ شراکت داری کر لی۔ 24 نومبر 2015 کو گوالف مرکری میں ایسٹل کے منصوبہ کی تفصیل شائع ہوئی۔ کچھ ہی دنوں میں اس کا عربی میں ترجمہ کر کے شرق اوسط کی عرب ریاستوں میں مشتہر کر دیا گیا۔
وہ مہاجرین جو کئی سالوں سے لبنان ، اردن ، ترکی اور دوسرے ممالک میں قیدیوں کی سی زندگی گزار رہے تھے ۔ ان کے لئے سوشل میڈیا پر ایسٹل کی تصویر امید کا پیغام اور ایک پر سکون زندگی کی نوید بن گئی۔ لوگوں نے ای میل کے ذریعے براہ راست ایسٹل سے رابطے شروع کر دئے۔ اور ایسٹل سے ان کے گھرانوں کو کینیڈا بلوانے کے لئے التجائیں کرنے لگے۔ پہلے اکا دکا پیغام آنے لگے پھر ان کی تعداد بڑھنے لگی اور آنے والے مہینوں میں ان کی تعداد سینکڑوں ہزاروں تک پہنچ گئی۔ ان کو ملنے والے ایک خط میں لکھا تھا کہ ہمارا شامی گھرانہ اردن میں مقیم ہے۔ دو چچا زاد بھائیوں کو شامی حکومت نے مار ڈالا ، ایک بھائی لا پتہ ہے اور دو زیر حراست ہیں۔ براہ مہربانی کینیڈا پہنچنے میں ہماری مدد کریں۔ ایسٹل نے ابتدائی نمونے کے طور پر یہ پروگرام شروع کیا ہے ان کو یقین ہے کہ یہ ایک وسیع انسانی ہمدردی کی تحریک میں بدل جائے گا۔ وہ اپنے ہم وطنوں کو دکھانا چاہتے ہیں کہ اپنی دولت کو استعمال کر کے ، رضاکاروں کو متحرک کر کے اپنے پیشہ و ر تنظیمی ڈھانچے کو استعمال کر کے پناہ گزینوں کو روزگار مہیا کر سکتے ہیں ۔ اگر آپ 800 ملازموں کے ساتھ ایک فرم چلا سکتے ہیں تو 800 رضا کاروں کے ساتھ ایک تنظیم کیوں نہیں چلا سکتے۔ ان کے ذہن میں ایک واضح تصویر موجود ہے۔ جو 50 گھرانے آئیں گے وہ کام کریں گے ، ٹیکس ادا کریں گے ، اپنی ضروریات زندگی کا خود انتظام کریں گے اور انگریزی بولیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا مقصد انہیں محتاج بنانا نہیں ہے۔ اگر آپ کسی کو صرف چیک دے دیا کریں تو آپ اس کے ساتھ نیکی نہیں کر رہے۔ ایسٹل اس کام کو شروع کرنے سے پہلے گوالف کے مزید شہریوں کو اعتماد میں لینا چاہتے تھے۔ ایک مہینے کے اندر اندر 800 افراد نے اپنی خدمات پیش کر دیں۔ ان میں استاد بھی تھے ، ڈاکٹر بھی ، گوداموں کے مینیجر بھی اور تعمیراتی کام کرنے والے بھی۔ 70 اور 80 کی دہائیوں میں کشتیوں کے ذریعے کینیڈا آنے والے ویت نامی لوگ جو یہاں کے لوگوں کی فیاضی اور سخاوت کا صلہ دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ ان میں سے ایک عیسائی خاتون جایا جیمز، جو فرسٹ بیپٹسٹ چرچ کی رکن تھی اور وزارت زراعت میں پالیسی ایڈوایزر کے طور پر کام کرہی تھیں ، نے اپنے کام سے چھ ماہ کی چھٹی لی اور اس
منصوبے کو منظم کرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کر دیں۔ رضا کاروں کی نصف تعداد پس منظر میں رہ کر سامان اکٹھا کرنے ، لوگوں کو عطیات دینے پر ابھارنے اور رہائش گاہوں کا انتظام کرنے کی ذمہ داریاں نبھانے لگی۔ باقی رضاکار براہ راست پناہ گزینوں کے قیام و طعام وغیرہ کے انتظامات میں مدد کرنے لگ گئے۔ ایسٹل نے تمام رضاکاروں کو 8 ٹیموں میں تقسیم کر کے ہر ٹیم کا ایک ڈائرکٹر اور ایک ڈپٹی ڈائرکٹر مقرر کر دیا۔ راہ نما ٹیم کے ڈائرکٹر نے اپنی ٹیم کے ارکان کو بتانا تھا کہ انہیں ان گھرانوں کے ساتھ کس طرح مل کر کام کرنا ہے۔ مالیات کی ٹیم کے ڈائرکٹر کا کام ہر گروپ کا بجٹ تیار کرنا اور ہر گھرانے کو اس کے افراد کی تعداد اور اور ان کی رہائش گاہ کے مطابق 1,100 ڈالر سے 1,500 ڈالر تک کے چیک دینا تھا۔ دوسری ٹیموں کے ذمہ تعلیم ، صحت ، خوراک ، روزگار ، رہائش اور آمد و رفت کے انتظامات تھے ۔ ایسٹل کے سب سے زیاد سرگرم ساتھی گوالف مسلم سوسائٹی کے محمد سعید اور ان کی اہلیہ سارہ تھے۔ سارہ ابتدا میں راہ نما ٹیم کی ڈائرکٹر مقرر ہوئیں مگر بعد میں انہیں سارے منصوبے کی نگران بنا دیا گیا۔ اب وہ ڈائرکٹروں کی ڈائرکٹر ہیں اور کسی بھی ٹیم کو یا رضاکار کو جیسی بھی مدد کی ضرورت ہو وہ مہیا کرنا یقینی بناتی ہیں۔ سارہ کے شوہر جو پہلے تارکین وطن کے لئے کنسلٹنٹ کا کام کرتے تھے۔ پناہ گزینوں کے ملک میں پہنچنے سے پہلے ہی ضروری پیپر ورک مکمل کر لیتے اور ان کی روزگار کی تلاش اور حصول کے سلسلے میں مدد کرتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ پناہ گزینوں کے لئے رہائش مہیا کرنا تھا۔ اکثر گھرانوں کو یونیورسٹی کیمپس کی عمارات ، کئی منزلہ اپارٹمنٹ بلڈنگس اور کم قیمت رہائشی منصوبوں میں جگہ مل جاتی مگر ایسا ہمیشہ ممکن نہ تھا۔ پچھلے موسم خزاں میں ایسٹل نے ایک مقامی ڈیویلپر سے رابطہ کر کے نئے مکانات کے لئے اسے مالی معاونت کی پیشکش کی۔ مارچ میں ان کو ایک دفتر کی عمارت مل گئی انہوں نے اس میں ترمیم و اضافے کے بعد اسے آٹھ گھرانوں کی رہائش کے قابل بنا دیا۔ اب وہ درمیانی بلندی کی عمارتیں حاصل کرکے ان کو ضر وری مرمت و آرائش کے بعد وہاں لوگوں کو رہائش مہیا کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ جب ایسٹل رہائش کے انتظامات میں مصروف تھے ان کے گروپ کو وا فر عطیات موصول ہونے لگے ، ان کو سنبھالنے کی ذمہ داری ایسٹل نے سالویشن آرمی کے سپرد کر دی مگر مسئلہ اس سامان کو محفوظ رکھنے کے لئے جگہ کا تھا۔ اس کے لئے ایسٹل نے ڈینبی کے قریب ایک گودام کی عمارت کرائے پر لے کر عطیے میں ملنے والے فرنیچر ، برتن ، کار کی سیٹیں ، اور کپڑے وغیرہ رکھنے کا انتظام کر لیا۔ بغیر کھڑکیوں کے یہ بڑا ہال کمرہ ایک بڑا سٹور دکھائی دیتا ہے مگر اس میں سامان کی نوعیت بدلتی رہتی ہے ۔ پچھلے موسم بہار میں ایک موقعہ پر اس گودام میں 295 گرم بستر ، 120 ڈشیں او ر کٹلری سیٹ ، 77 بجلی کی کیتلیاں ، 57 تکیے ، 56 استریاں ، 28 کافی میکر ، 20 سلو کوکر اور 18 ٹوسٹر تھے۔ بڑے ہال کمرے کے پیچھے ایک بغلی کمرہ صرف کھلونوں سے بھرا ہوا ہے۔ پہلے 100 گھرانوں کا انتخاب آسان ثابت ہوا ۔ کچھ شامی لوگ جو پہلے سے گوالف میں رہائش پذیر تھے انہوں نے ایسٹل سے التجا کی کہ ان کے اہل خانہ کو کینیڈا بلوانے کے سلسلے میں ان کی مدد کی جائے۔ ا ن میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے گوالف مرکری میں مضمون چھپتے ہی ای میل کے ذریعہ ایسٹل سے رابطہ کیا تھا ۔ جوں جوں درخواستوں کی تعداد بڑھتی گئی انتخاب کا مسئلہ مشکل سے مشکل تر ہوتا گیا۔ انہوں نے ایسے گھرانوں پر زیادہ توجہ دی جن میں کام کرنے اور کمانے کے قابل کوئی نہ کوئی فرد موجود ہو۔ اکثر اوقات ان کو بوڑھے اور تنہا لوگوں کو نظر انداز کرنا پڑتا ۔ بڑے غور و خوض کے بعد کئی راتیں جاگ کر انہوں نے 58 گھرانوں یا 220 افراد کی حتمی فہرست بنائی۔ جب پناہ گزین آنے شروع ہو گئے تو یہ لوگ ایسٹل کو اپنے ان رشتہ داروں کے بارے میں بتانے لگے جن کو وہ کینیڈا بلانا چاہتے تھے۔ وہ کسی کو منع نہیں کر سکتے تھے اس لئے وہ ان کے نام لکھ لیتے کہ کسی وقت ان کو بلانے کا بھی کوئی طریقہ ڈھونڈ لیا جائے گا۔ ہر گھرانے کی آمد کے ساتھ یہ فہرست لمبی ہوتی گئی۔ پچھلے نومبر میں ان کی فہرست میں 200 نام ہو چکے تھے۔ جب بھی کوئی شخص کینیڈا پہنچ جاتا اس کے اہل خانہ بہتر زندگی کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں۔ ایسٹل اب بھی ان کی واحد امید ہیں۔

1978 میں پیئر ٹروڈیو نے اس وقت زیادہ سے زیادہ تارک وطن لوگوں کو کینیڈا میں پناہ دینے کا ایک پرائیویٹ پروگرام ترتیب دیا جب ویت نامی جوق در جوق کشتیوں کے ذریعے اپنے وطن سے فرار ہو رہے تھے۔ حکومت کی نسبت پرائیویٹ لوگ ایسے کاموں میں زیادہ مالی معاونت کر سکتے ہیں۔ اگلے دو سالوں میں کینیڈا نے 6,000 نئے لوگوں کو قبول کر لیا۔ اس وقت سے کینیڈا ہر سال 6,000 تارک وطن لوگوں کو قبول کر رہا ہے۔ ایسٹل نے عین اس وقت اپنا منصوبہ ترتیب دیا جب جسٹن ٹروڈیو نے سرکاری سرپرستی میں 25,000 تارک وطن لوگوں کو کینیڈا میں قبول کرنے کا وعدہ کیا۔ یہ خبر منظر عام پر آتے ہی کئی رضا کار گروپ حکومتی وعدے کو پورا کرنے کے سلسلے میں تعاون کے لئے سرگرم ہو گئے۔ کئی رضاکاروں کا خیال تھا کہ خبر نکلتے ہی تارکین وطن کی آمد شروع ہو جائے گی اور وہ ان کے استقبال میں لگ جائیں گے۔ مگر ہوا یہ کہ ابھی تک کئی رضاکار گروپ تارکین وطن کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں۔ لبرل حکومت کے امیگریشن کے محکمے میں سٹاف کی زیادتی کے باوجود پرائیویٹ گروپوں کے ذریعے کینیڈا آنے والے تارکین وطن کے لئے کاروائی میں کم از کم 43 ہفتے لگتے ہیں۔ جو فوری ضرورت مند لوگوں کے مقصد حاصل کرنے کے لئے کسی طور مناسب نہیں۔ اس لحاظ سے جب شامی لوگ یہاں پہنچیں گے تو ان کو 3 سے 4 سال تک کیمپوں میں رہنا پڑے گا۔
ایسٹل کے پروگرام کے تحت کینیڈا آنے والی پہلی پناہ گزین ایک خاتون ندیم ( فرضی نام ) تھی۔ اس کے ساتھ اس کے تین بچے 14 سالہ عالم ، 13 سالہ ماہا اور 6 سالہ نایا تھے۔ کوئی بھی شامی پیچھے وطن میں رہ جانے والوں کے بارے میں صحیح معلومات نہیں دیتا۔ وہ اپنے عزیزوں کے صحیح نام نہیں بتاتے۔ ندیم شام میں ایک چھوٹے سے قصبے بریقہ سے تعلق رکھتی ہے۔ جہاں وہ ایک سکول میں ہیڈ مسٹریس تھی۔ اس کا شوہر ایک وکیل تھا۔ نومبر 2012 میں ان کا قصبہ صدر بشار الاسد کے حامیوں اور باغیوں کے درمیان جنگ کا مرکز بن گیا۔ یہ لوگ وہاں سے دمشق چلے گئے۔ اور دو ماہ بعد سرحد پار کر کے ترکی چلے گئے۔ ندیم پنیر بنانے اور بیچنے کا کان کرنے لگی اور اس کا شوہر کوئلے کی کان میں کام کرنے لگا۔ مگر جب اس کو کام سے جواب مل گیا تو وہ سمگلروں کو پیسے دے کر کشتی کے ذریعہ آسٹریا چلا گیا ۔ اس نے اپنے اہل خانہ سے وعدہ کیا کہ وہ ان کو بھی جلدی وہاں بلانے کی کوشش کرے گا۔ شوہر کے جانے کے 3 ماہ بعد ندیم کو اپنے بھائی سے ایسٹل کے پروگرام کے بارے میں علم ہوا۔ اپنے بھائی کے تعاون سے جو پہلے ہی گوالف پہنچ گیا تھا ندیم بھی 3 ماہ کے اندر گوالف پہنچ گئی۔ جہاں سپانسرز کے ایک گروپ نے اس کا استقبال کیا۔ یہ بھی ایسٹل کے پروگرام کے تحت ہی تارکین وطن کی مدد کر رہے تھے۔ ان لوگوں کی مدد سے ندیم کو یونیورسٹی کے شادی شدہ طلبا کے لئے تعمیر شدہ ہاؤسنگ پراجیکٹ میں رہائش کے لئے جگہ مل گئی۔ ندیم نے اپنے گھر کو بڑی خوبصورتی سے سجا رکھا ہے۔ ندیم کا بیٹا ایک پبلک سکول میں نویں درجے میں پہنچ گیا ہے۔ اس کی بیٹیاں مسلم سوسائٹی کے میزان سکول میں زیر تعلیم ہیں۔ سارے بچے بڑی اچھی انگریزی بولتے ہیں۔ ندیم کے سپانسر ساتھی اس کے شوہر کو کینیڈا بلوانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں مگر اس کام میں تقریباً ایک سال لگ جائے گا۔ اس عرصے میں وہ ٹیلیفون اور وڈیو کالز کے ذریعے رابطے میں رہتے ہیں۔
جب تارکین وطن کی آمد شروع ہوئی تو ایسٹل نے محسوس کیا کہ ان لوگوں کو روزگار مہیا کرنے سے پہلے انگریزی کی کچھ شدھ بدھ اور فیکٹریوں میں کام کی کچھ عملی تربیت کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے ایسٹل نے روزگار کے حصول میں آسانی کے لئے ایز ان کینیڈا ( کینیڈا میں سہولت ) کے نام سے فیکٹریوں میں کام کے لئے تربیت اور انگریزی سکھانے کا پروگرام شروع کیا۔ ایسٹل کے پاس آنے والے ہر شخص کو خواہ وہ ان کے پروگرام کا حصہ نہ بھی ہو ، سہ ماہی پروگرام کے تحت کام مل جاتا ہے۔ اس دوران وہ اپنی سہولت کے مطابق ہفتہ میں دو مرتبہ انگریزی سیکھنے کی کلاس میں شامل ہو سکتا ہے۔
یوسف بھی ایسٹل کے پروگروم کا حصہ ہیں ۔ دمشق میں ان کا کاروں کا شوروم تھا۔ وہ خود بھی ایک کیا گاڑی کے مالک تھے۔ اچھی خوش حال زندگی گزار رہے تھے۔ جنگ شروع ہونے پر وہ قاہرہ چلے گئے۔ وہاں ایک کینیڈین سفارت کار سے ان کی واقفیت ہو گئی ، اس نے انہیں اقوام متحدہ کا ریفیوجی سٹیٹس دلوایا۔ یہیں یوسف نے ایسٹل کے پروگرام کے بارے میں سن کر ان سے رابطہ کیا۔ عام طور پر ایسٹل کسی تنہا شخص کی ذمہ داری نہیں لیتے مگر چونکہ ان کا ایک کزن پہلے سے ایسٹل کے پروگرام کا حصہ تھا اس لئے ایسٹل نے یوسف کو بھی ان کے ساتھ شامل کر لیا۔ آمد و رفت کے لئے گوالف میں ہر پناہ گزین کو ایک سال کے لئے بس پر سفر کا مفت پاس دیا جاتا ہے۔
موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ رک گیا۔ ایسٹل کا گودام سامان سے بھرا پڑا تھا مگر ابھی اسے لینے والا کوئی نہیں تھا۔ اس لئے ایسٹل نے یہ سامان گوالف کے مقامی ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ جب تارکین وطن لی آمد دوبارہ شروع ہو گی تو پھر سے عطیات اکٹھے کر لئے جائیں گے۔ ان کا خیال درست ثابت ہوا۔ کیونکہ جیسے ہی سامان ختم ہوا گودام پھر سے نئے عطیات سے بھر گیا۔ خزاں کی آمد کے ساتھ ہی تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا۔ نومبر تک گوالف میں 38 گھرانے پہنچ چکے تھے اور مزید 20 گھرانوں کی آمد متوقع تھی۔
خوراک کی ڈائرکٹر فلاحت شیخ ہر ماہ پہلے ہفتے کے دن ڈینبی کے گودام سے تما م پناہ گزین گھرانوں میں کھانے کا سامان تقسیم کرتی ہیں ۔ اس میں پاستا ، مشرقی مصالحے اور ڈبہ بند غذائیں شامل ہوتی ہیں۔ دو پناہ گزین ساتھی احمد اور ٹونی اس کام میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ ایک دن احمد وین سے سامان اتار رہا تھا کہ جینز اور شرٹ میں ملبوس ایک شخص آکر اس کی مدد کرنے لگا۔ جب احمد نے فلاحت سے اس شخص کے بارے میں پوچھا تو فلاحت نے اسے بتایا کہ یہی تو ایسٹل ہیں۔ احمد حیران رہ گیا کہ کس طرح سینکڑوں لوگوں کا محسن ایک لکھ پتی شخص دوستوں کی طرح ان کے ساتھ مل کر سامان اتار رہا ہے۔ رضاکار اپنے کام سے فارغ ہوئے تو ایسٹل نے ان میں سیب تقسیم کئے جو وہ آتے ہوئے مارکیٹ سے لیتے آئے تھے۔ فلاحت نے جب رضا کاروں کو بتایا کہ یہی وہ شخص ہے جس کی بدولت وہ لوگ کینیڈا پہنچنے کے قابل ہوئے ہیں تو باری باری تشکر و امتنان کے اظہار کے لئے ان سے گلے ملنے لگے۔ کچھ نے ان کے ساتھ تصویریں بنوائیں۔ اس وقت ایسٹل بھی ان رضاکاروں میں سے ایک لگ رہے تھے۔ اسی دن ایک تارک وطن ان سے ملا۔ وہ شام میں پیزا شیف تھا۔ ایسٹل نے اس سے تنہائی میں بات کی اور اس کو پیزا کا کاروبار شروع کرنے میں اس کی مدد کا فیصلہ کر لیا
ایسٹل جہاں ممکن ہو لوگوں کو ملازمت کے حصول یا کاروبار شروع کرنے میں تارکین وطن کی مدد سے بالکل نہیں ہچکچاتے۔ یوسف کو ایسٹل نے کچھ رقم قرض کے طور پر دی تاکہ وہ ایک قابل فروخت ڈالر سٹور کی شاخ خرید سکے۔ اس سٹور کے مالکان اس بات پر رضامند ہو گئے کہ جب تک یوسف اپنا گزارہ کرنے کے قابل نہ ہو جائے وہ سٹور کا کرایہ نہیں لیں گے۔ ایسٹل کو یقین ہے کہ یوسف سالانہ 100,000 کما نے کے قابل ہو جائے گا۔
ایسٹل کے دل میں پناہ گزینوں کے لئے محبت اور الفت کی کوئی کمی نہیں۔ وہ رضاکاروں کے ساتھ ایک رضاکار کی طرح ہی کام کرتے ہیں۔ سکائیپ پر بھی ان کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ فیکٹری میں ان کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔ اس وقت ایک معمر جوڑا اپنی 37 سالہ بیٹی کے ہمراہ ان کے ساتھ ان کے گھر میں ہی رہائش پذیر ہے۔ ایسٹل کا کہنا ہے کہ میں ان کو کینیڈا کے بارے میں بتاتا ہوں اور ان سے ان کی اپنی طرز زندگی اور روایات کے بارے میں پوچھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ہماری زندگیاں کتنی مختلف ہیں۔
وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ جب ان سے اس پراجیکٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہنے لگے کہ بہت مشکل کام ہے۔ مگر پھر بھی اسے ترک کرنے کو تیار نہیں۔ ہر راز وہ یہی سوچتے ہیں کہ کس طرح وہ مزید لوگوں کو کینیڈا بلوا سکتے ہیں۔ اور کس طرح وہ دوسرے کاروباری لوگوں کو اس کار خیر میں حصہ لینے کے لئے تیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے امیگریشن کے وزیر جان میککلم اور رکن پارلیمنٹ سے بھی امیگریشن کی حد میں اضافے کے سلسلے میں بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ میں نیکی کا کام کر رہا ہوں مگر میں مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ سکتا۔ میں 200 لوگوں کی مدد کرنے کے قابل ہوا ہوں۔ اب میں اگلے 200 کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔