اشاعت کے باوقار 30 سال

لڑکے نے جنگل میں کھو جانے پر گوگل کی مدد لی

لڑکے نے جنگل میں کھو جانے پر گوگل کی مدد لی

جوش ہاپکنز باکسنگ ڈے کو اپنے آبائی قصبے شیل برن ، نووا سکوٹیا کے قریبی جنگل میں سیر کے لئے گیا۔ اس کے پاس ایک جیبی چاقو ، ایک فون اور کرسمس کا تحفہ ایک بی بی گن تھیں۔ وہ دراصل تحفہ میں ملی ہوئی گن کو چلا کر دیکھنا چاہتا تھا۔ مگر تھوڑی دیر بعد اسے احساس ہوا کہ وہ راستہ کھو گیا ہے۔ جوش نے بتایا کہ وہ ایک دفعہ تو پریشان ہو گیا مگر اس نے حوصلہ سنبھالا۔ وہ ایک صاف جگہ پہنچا ۔ اس وقت اس کے فون کی بیٹری صرف 2 فی صد چارجنگ ظاہر کر رہی تھی۔ تاہم اس نے اپنی ماں کیتھلین ہاپکنز کو جی پی ایس حوالے کے ساتھ ایک ٹیکسٹ میسج بھیجا۔ ادھر کیتھلین اعداد کے اس گورکھ دھندے کو نہ سمجھ سکی تو اس نے ایک ہمسائے کی مدد لی جس نے اسے جی پی ایس کے حوالے سے جنگل میں جوش کا ممکنہ مقام بتایا۔ جوش کی تلاش شروع ہوئی۔ آر سی ایم پی کی مدد بھی لی گئی۔ اندھیرا ہونے کو تھا جب ان کے ایک ہمسائے ٹام ٹوراک نے جو اس علاقے سے واقف تھا ، جی پی ایس کی مدد سے جوش کو ڈھونڈ نکالا۔ اگرچہ جوش کو سردی لگ رہی تھی اور اسے بھوک بھی محسوس ہو رہی تھی تاہم وہ ٹھیک تھا۔ جوش کا کہنا تھا کہ وہ جنگل کی سیر تو نہیں چھوڑے گا تاہم اس واقعہ سے اسے یہ سبق ملا ہے کہ آئندہ وہ اکیلا نہیں جائے گا اور اپنے ساتھ مکمل چارج شدہ فون رکھے گا۔