اشاعت کے باوقار 30 سال

پاکستان کو ایماندار اور سچ بولنے والی قیادت کی ضرورت ہے

پاکستان کو ایماندار اور سچ بولنے والی قیادت کی ضرورت ہے

مڈرلینڈز/لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ ہر سال 20 ارب ڈالر اپنے ملک بھجوانے والے محب وطن اوورسیز پاکستانی کرپٹ اور جھوٹے حکمرانوں کا محاسبہ کریں اور ان سے پوچھیں کہ ہم خون پسینے کی جو کمائی پاکستان بھجواتے ہیں وہ پانامہ کی آف شور کمپنیوں سے ہوتے ہوئے لندن اور سوئس اکاؤنٹس کا حصہ کیوں بن جاتی ہے؟ پاکستان کو ایماندار اور سچ بولنے والی قیادت کی ضرورت ہے، لوڈشیڈنگ کو ختم اور کشکول توڑنے کے جھوٹے دعوؤں سے شروع ہونے والا حکومتی سفر پانامہ لیکس کے جھوٹے احتساب تک آ گیا۔ کرپٹ حکمرانوں سے ان کی لوٹ مار کا حساب مانگنا ہرگز ہرگز جمہوریت کے خلاف سازش نہیں ہے بلکہ اب عوامی احتساب سے ہی قانونی احتساب کا راستہ کھلے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مڈلینڈز برطانیہ میں پاکستان عوامی تحریک کے تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں مڈلینڈز میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مختلف مکتب فکر کے نمائندہ افراد نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سربراہ عوامی تحریک نے کہا کہ جب ملک اور قومیں مشکل میں گھرتی ہیں تو اس وقت حکمران سچ بول کر حالات کا مقابلہ اور قوم کا اعتماد حاصل کرتے اور ملک کو بحرانوں سے نکالتے ہیں مگر پاکستان میں صورت حال برعکس ہے۔ حکمرانوں نے اپنے اقتدار کے حالیہ 3 سال عوام اور غیر ملکی مالیاتی اداروں کو دھوکہ دینے اور مسلسل جھوٹ بولنے میں گزارے، اس لیے موجودہ حکومت کی عوام اور بین الاقوامی سطح پر کوئی کریڈیبلٹی قائم نہیں ہو سکی اور اس کے خطرناک نتائج کا سامنا پاکستان بطور ریاست کر رہا ہے۔ سربراہ عوامی تحریک نے کہا کہ حکمران جھوٹ بولتے ہیں، جھوٹ کا زہر قومی سیاسی جسم کی رگ رگ میں سرایت کر چکا ہے۔ الیکشن جیتنے سے لے کر اقتدار کے آخری دن تک جھوٹ بولا جاتا ہے۔ عوام کو ترقی اور خوشحالی کے سہانے خواب دکھائے جاتے ہیں اور 68 سال سے اسی نام نہاد ترقی کا سفر جاری ہے۔ انہوں نے کرپشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے دو بار قوم سے خطاب کرتے ہوئے اور ایک بار پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے خود کو اور اپنے خاندان کو پانامہ لیکس کے حوالے سے احتساب کیلئے پیش کیا مگر جب ٹی او آرز بنانے کی بات ہوئی تو وہ اپنے وعدوں اور دعوؤں سے منحرف ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ کیا پارلیمنٹ کے فلور پر جھوٹ بولنے والے شخص کو اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک کا وزیر اعظم برقرار رہنا چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ جھوٹ بولنے میں ایک خاص مقام حاصل کر چکے ہیں وہ ریونیو کے 100 فیصد اہداف حاصل کرنے کے جھوٹ بول کر عالمی مالیاتی اداروں کو دھوکہ دیتے اور مزید قرضے حاصل کر کے قوم کو سود کے شیطانی جال میں الجھاتے چلے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق دورحکومت میں 9 فیصد شہری ٹیکس دیتے تھے اب یہ شرح ایک فیصد کم ہو کر 8 فیصد رہ گئی ہے۔ جھوٹی حکومت کو عوام اس لیے ٹیکس نہیں دیتے کیونکہ انہیں علم ہوتا ہے کہ ان کے دئیے گئے ٹیکس ملک اور عوام کی ویلفیئر کی بجائے حکمرانوں کی عیاشیوں، اللوں تللوں اور آف شور کمپنیوں میں چلے جائینگے ۔اب وقت آ گیا ہے کہ اوورسیز پاکستانی کرپشن زدہ نظام اور جھوٹ بولنے والے حکمرانوں کے خلاف اپنا فیصلہ کن کردار ادا کریں۔

Tahir ul Qadri, Pakistan, Needs, Leadership, to be honest and true,

Comments

irfan8308@gmail.com's picture
right
Submitted by irfan8308@gmail.com on Sun, 07/17/2016 - 11:03
msajawal226@gmail.com's picture
Good
Submitted by msajawal226@gma... on Mon, 08/08/2016 - 21:52
aimal.nawaz@gmail.com's picture
good
Submitted by aimal.nawaz@gma... on Thu, 08/11/2016 - 22:32