
ایک
دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا ۔ وہ بہت محنتی اور دیانتدار
کسان تھا لوگ اس کی خوش اخلاقی اور ملنساری سے بہت متاثر تھے۔ وہ اپنا کام لگن سے
کرتا، صبح سویرے کھیتوںمیں چلا جاتا اور مغرب کی اذان کے ساتھ ہی گھر واپس آجاتا،
اس کی بیوی دوپہر کا کھانا اسے خود کھیتوں میں دینے جاتی تھی تا کہ جتنا وقت وہ
کھیتوں سے گھر آنے میں گزارتا اتنا وقت وہ کھیتوں میں کام کرے۔
ایک
دوپہر اس کی بیوی اسے کھانا دینے جارہی تھی کہ شدید گرمی کے موسم میں اسے پیاس
ستانے لگی ، اس نے روٹیوں والا برتن ایک درخت کے نیچے رکھ دیا۔اور خود قریبی کنوئیں
پر پانی پینے چلی گئی۔ جب وہ پانی پی کر واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ روٹیوں پر
چیونٹیاں پھر رہی ہیں۔ اس نے روٹیوں کو اٹھا کر چھاڑا اور کھیتوں میں اپنے شوہر کو
کھانا دینے چلی گئی۔ کسان نے روٹی کھائی، لسی پی اور دوبارہ کام میں مشغول ہوگیا،
ابھی اسے کھانا کھائے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک اسے قے آئی اور وہ مر گیا۔
اتفاق سے کسان کی بیوی ابھی کھیتوں میں ہی تھی۔
لوگوں
نے کسان کو مردہ پایا تو شور مچا دیا کہ اس عورت نے اپنے شوہر کو مار دیا ہے، اسے
پولیس کے حوالے
کر دیا جائے۔ اسے پھانسی دے دی جائے۔ عورت بہت پریشان ہوئی۔ پولیس انسپکٹر آیا اس
نے انصاف اور حکمت سےکام لیتے ہوئے عورت سے کہا کہ مجھے سچ سچ بتاؤ کہ کیا ہوا
تھا؟ عورت نے ساری تفصیل بتا دی۔ پولیس انسپکٹر نے کہا کہ وہ دوبارہ اسیا ہی کرے۔
عورت نے دوبارہ روٹیاں پکائیں اور اسی درخت کے نیچے رکھ دیں۔ کچھ دیر بعد اس پر
بھی چیونٹیاں آگئیں، عورت نے روٹیوں کو جھاڑا اور ایک کتے کو وہ روٹیاں کھلا دیں۔
کچھ دیر بعد کتا بھی مر گیا ۔ انسپکٹر نے کہا کہ اس درخت کو جڑ سے کٹواؤ۔ جبدرخت
کاٹا گیا تو اس میں سے ایک مردہ زیریلا سانپ نکلا، اس پر بہت سی چیونٹیاں پھر رہی
تھیں۔
اصل
میں چیونٹیاں اس زہریلے مردہ سانپ کا گوشت کھا کر خود بھی زہریلی ہو گئیی تھی اور
کھانے والی چیز کو بھی انہوں نے زہریلا کر دیا تھا جس کی وجہ سے کسان اور اس کتے
کی موت واقع ہوئی۔ پولیس انسپکٹر کے انصاف کی وجہ سے اس عورت اور ا سکے بچوں کی
زندگی بچ گئی۔
ننھے ساتھیو! اس کہانی سے ہمیں دو سبق حاصل ہوتے
ہیں ایک تو یہ کہ ہمیں انصاف سے کام لینا چاہیے اور وہ بھی کوئی فیصلہ کرتے وقت۔
کیونکہ اگر فیصلہ کرتے وقت آپ سے ناانصافی ہو جائے تو اس کا سخت گناہ ملتا ہے۔
اور دوسرا یہ کہ ہمیں کسی بھی کھانے والی چیز کو کھلا نہیں رکھنا چاہیے ہمیشہ
ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔ اور اگر بار کسی کھانے پینے والی چیز سے کوئی کیڑا وغیرہ
گزر جائے تو اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔