مس کوثر جیسے ہی کلاس میں داخل ہوئیں تو تانیہ اور
اس کی دوستوں نے کہا کہ آ گئی مس نیکی، ہم کو اچھی باتیں سکھانے کے لئے۔ مس کوثر
ہماری اسلامیات کی ٹیچر تھیں، وہ سبق کے ساتھ ساتھ بچوں کو اچھی باتوں کی نصحیت
بھی کرتی تھیں۔ آج کے سبق میں غریبوں کی مدد کے متعلق ذکر تھا تو انہوں نے ہمیں
بتایا کہ ہمیں غریبوں کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ برا وقت ہر ایک کی زندگی میں کبھی
نہ کبھی آتا ہے اور ہمیں غریبوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے۔ تانیہ اور اس کی دوستوں نے مس کی باتوں کو ایک
کان سے سنا اور دوسرے کان سے نکال دیا۔ لیکن کہتے ہیں نا کہ اگر اللہ تعالی نے کسی
کو سیدھی راہ پر لانا ہو تو اس کے لیے کچھ مشکل نہیں۔ تانیہ کے ساتھ بھی ایسا ہی
ہوا جب چھٹی ہوئی تو تانیہ گھر گئی اور کھانا کھا کر سو گئی۔ اس نے ایک خواب دیکھا
کہ وہ سڑک کے کنارے بیٹھی ہوئی بھیک مانگ رہی ہے مگر کوئی اسے ایک پیسہ تک نہیں
دیتا اور نہ ہی کھانا جبکہ اسے سخت بھوک لگی ہے۔ وہ گھبرا کر فوراََ اٹھ گئی ۔ جب
وہ اٹھی تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اسے خواب یاد آیا اور اس نے اپنے آپ سے
وعدہ کیا کہ اب سے وہ ہمیشہ غریبوں کی مدد کرے اور مس کوثر کی باتوں کو غور سے سنے
گی اور ان پر عمل بھی کرے گی۔
اگلے دن جب وہ اسکول گئی تو ا سے راستے میں ایک فقیر
نظر آیا جو کہ بھوکا تھا۔ تانیہ کو آج گھر سے 50 روپے خرچ کرنے کے لیے ملے تھے،
وہ اس نے اس فقیر کو دے دیے اور فقیر نے اسے ڈھیڑ ساری دعائین دیں۔ یہ تمام منظر
مس کوثر دیکھ چکی تھی۔ وہ بہت خوش ہوئیں۔ جب مس کوثر اسلامیات کا پیریڈ لینے کےلیے
کلاس میں آئیں تو انہوں نے کلاس کی لڑکیوں کو تانیہ کی نیکی کے بارے میں بتایا
اور تمام لڑکیوں کو تا نیہ کے لیے تالیاں بجانے کو کہا کیونکہ آج صبح اس نے ایک
ایچھا اور نیکی والا کام کیا تھا۔ تمام لڑکیوں نے تالیاں بجائیں تو تانیہ کو اپنا
سر فخر سے بلند ہوتا ہوا محسوس ہوا۔
ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے اساتذہ اور بڑے بزرگوں کی
باتوں کو غور سے سنیں اور ان کی باتوں پر عمل کر کے نیکیاں حاسل کریں۔