
زندگی جو انسان صرف اپنے لئے گزارے، ایسی زندگی کا
کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ اصل جینا وہ ہے جو انسان دوسروں کے لئے جئیے۔ کاشان اس
مقولے پر پوری طرح عمل کرتا، کالج سے آنے سے بعد وہ اکیڈمی پڑھنے چلا جاتا ، وہ
باقاعدگی سے نماز کا اہتمام کرتا، روزے رکھتا اور کتاب حکمت پر عمل کرتا۔
کچھ دنوں سے
وہ مسجد کے باہر ایک بزرگ کو دیکھتا جو ایک ٹانگ اور ایک بازو سے محروم تھے ۔ جس
کی وجہ سے انہیں چلنے میں بہت مشکل پیش آتی۔ کاشان جب بھی انہیں دیکھتا تو اسے
بہت دکھ ہوتا، اس روز جب وہ عصر کی نماز پڑھ کر باہر نکلا تو اسے مسجد کے باہر
مجمع نظر آیا۔ قریب جا کر دیکھا تو وہی بزرگ گرے ہوئے تھے اور ان کے سر سے خون
بہہ رہا تھا۔ وہ چند لوگوں کی مدد انہیں قریبی کلینک لے گیا اور ان کی مرہم پٹی
کروائی۔ مرہم پٹی کے بعد وہ ان بزرگ کو ان کے مطلوبہ پتہ پر ان کے گھر لے گیا،
بزرگ کا گھر مسجد سے زیادہ دور نہیں تھا۔ لیکن وہاں جا کر اسے معلوم ہوا کہ وہ
اکیلے رہتے ہیں اور ان کا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ کاشان کو یہ جان کر بہت دکھ
ہوا۔
اس کے پاس
کچھ پیسے تھے جس سے اس نے ان کے لیے دوائی اور کھانے پینے کی چیزیں خرید کر انہیں
دیں اور دوسرے دن آنے کا کہہ کر ان سے رخصت لی اور گھر آگیا۔ اب وہ روزانہ بزرگ
سے ملنے جاتا اور انہیں اگر کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو وہ انہیں دے دیتا۔
روزانہ بزرگ کے پاس جانے کی وجہ سے وہ اکثر گھر دیر
سے آنےلگا۔ ا سکی والدہ پوچھتی تو وہ بہانہ بنا دیتا اور یہ کہہ کر مطئمن کر دیتا
کہ دوست کے ساتھ پڑھنے کے لئے جاتا ہوں۔ دن گزرتے گئے، کسی کو بھی کاشان کی ان
سرگرمیوں کا علم نہ ہو سکا۔ آج جمعہ تھا اور کاشان اپنے والد کے ہمراہ نماز جمعہ
پڑھنے گیا، نماز ختم ہونے کے بعد وہ گھر آنے کے بجائے بزرگ سے ملنے چلا گیا۔ اس
کے والد نے اسے روکنے کے بجائے اس کے پیچھے جانے کا ارادہ کیا۔
انہوں نے دیکھا کہ کاشان نے بازار سے کچھ چیزیں
خریدیں اور تھوڑے فاصلے پر جا کر ایک گلی میں مڑ گیا ۔ گلی کے آخری دو گھر پیچھے
والے گھر کا اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور پھر اندر چلا گیا۔ اس کے ابو گھرم کر کھڑی
کے پاس چلےگئے، اندر کا منظر دیکھ کر ان کو حیرانی ہوئی ۔ انہوں نے دیکھا کہ کاشان
ایک برزگ کو کھانا کھلا رہا ہے۔ اس کے بعد اس نے انہیں دوا کھلائی۔ کچھ دیر ان
کےپاس بیٹھا ان کی طبعیت کے متعلق باتیں کرتا رہا اور پھر ان سے اجازت لے کر چل
پڑا۔
اس کے والد پچلے راستے سے گھر گئے تا کہ اس سے پہلے
پہنچیں۔ شام کو اس کے والد نے کاشان سے بزرگ کی خیریت دریافت کی۔ وہ یہ سن کر حیرا
ن رہ گیا پھر اس نے دھیرے دھیرے انہیں سب کچھ بتا دیا۔ انہوں نے کہا "اس
کارخیر میں ہم تمہارے ساتھ ہیں"۔
اس کے والد شام کو کاشان کے ساتھ جا کر انہیں اپنے
گھر لے آئے۔ اب کاشان کے لئے ان کی دیکھ بھال مشکل نہ رہی۔ اہنے والد کے پوچھتے
پر اس نے بتایا کہ "میرے استاد کہتے ہیں کہ اپنی زندگی کا مقصد خدمت خلق بنا
لو تو جنت تم سے زیادہ دور نہ ہوگی"۔ میں نے ان کی بات پر عمل کیا اور ان کا
کہنا ہے کہ زندگی کا مقصد صرف اپنے لیے گزارنا نہیں بلکہ دوسروں کے کام آنا بھی
ہے۔
ا سکے والد اس کی باتوں اور سوچ پر خوش تھے، انہیں فخر تھ اکہ کاشان ان کا بیٹا ہے ،
دوسری طرف کاشان مطئمن تھا کہ اس نیک کام میں وہ اکیلا نہیں، ا سکے گھر والے بھی ا
سکے ساتھ ہیں۔