
کافی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ کسی گاؤں میں ایک کسان
رہتا تھا جو بہت ہی بوڑھا اور غریب تھا کسان اپنی بیوی کے ساتھ تنہا اس گاؤں میں
رہتا تھا ا ن کی کوئی اولاد نہ تھی۔ وہ
صبح سویرے اپنے پر چلا جاتا ، ہل چلاتا اور پانی دیتا، شام کو تھکا ہارا گھرلوٹتا،
کھانا کھاتا اور سو جاتا، اس کی بیوی سارا دن گھ کا کام کاج کرتی رہتی۔ کسان کی
بیوی اکثر کسان سے کہتی کہ کتنا اچھا ہوتا کہ اللہ ہمیں ایک بیٹا دے دیت اتو وہ
تمہارا ہاتھ بٹاتا اور اگر بیٹی ہوتی تو وہ میرا ہاتھ بٹاتی، ہمارے گھر میں بھی
رونق رہتی سچ اولاد بہت بڑی نعمت ہے۔ کسان اس کوڈانٹتا او کہتا، اے نیک بخت! یہ سب
اللہ کی مرضی ہے تو کیون ہمیشہ ایسی باتیں کرتی ہے، اب تو اللہ اللہ کیا کر باقی
اولاد ہونا یا نہ ہونا تو خدا کی مرضی ہے۔ ایک دن کسان اپنی بیوی سے کہنے لگا، اب
سردیا ں آرہی ہیں میں نے سوچا کہ اس دفعہ بھی سردی میں اپنے کھیت میں بیگن اگائیں
گے ، پچھلے سال بھی بیگن کی فصل بہت اچھی ہوئی تھی۔ جب سردی شروع ہوئی تو کسان نے
اپنے کھیت میں بیگن کے بیچ ڈال دئیے اور فصل تیار ہونے کا انتظار کرنے لگا اس نے
خوب دل لگا کر محنت کی اور فصل کی ہر طرح سے حفاظت کی۔ ایک دن کسان خوش خوش گھر
آیا اور بیوی سے کہنے لگا۔ نیلوفر ! ہماری فصل اس دفعہ بھی بہت اچھی ہوئی اور حیرت
کی بات یہ ہے کہ اپنے کھیت میں ایک ایسا بیگن بھی ہے جو بہت بڑا ہے تمام بیگنوں
میں، میں تو ہر وقت ا سکے پاس بیٹھا رہتا ہوں سوچتا ہوں کہ سب سے پہلے اس کو ہی
اپنے گھر لاؤں گا۔ ابھی کسان اپنی بیوی سے باتیں کر رہی رہا تھا کہ اس کے گھر کچھ
مہمان آگئے، کسان کی بیوی نے کسان ے کہا کہ آج بیگن ہی پکا لیتے ہیں ، تم ایسا
کرو کہ وہ بڑا والا بیگن ہی توڑ کر گھر لے آؤ۔ کسان بیو کی بات سن کر جلدی سے
کھیت گیا اور وہ بڑا بیگن توڑ کر گھر لے آیا او ر جب اس کی بیوی بیگن کاٹنے لگی
تو اس میں سے آواز آئی "دھیرے دھیرے کاٹنا"۔ کسان کی بیوی پریشان
ہو گئی کہ آواز کہاں سے آرہی ہے۔ اس نے اپنے شوہر کو بلایا اور ساری بات کہی۔
بیوی کی بات سن کر اس نے چھری اٹھائی اور
بیگن لے کر خود کاٹنے لگا جیسے ہی کسان نے چھری بیگن پر رکھی، پھر وہی آواز سنائی
دی "دھیرے دھیرے کاٹنا" یہ سن کر کسان نے بیگن کو آہستہ آہستہ کاٹا،
بیگن کٹ جانے کے بعد کسان نے دیکھا کہ اس کے اندر ایک نہایت ہی خوبصورت چھوٹا سا
بونا بیٹھا ہوا ہے، کسان کی بیوی نے لپک کر اس خوبصورت بونے کو اپنے ہاتھ میں اتھا
لیا اور نے ساختہ اس کو بپار کرنے لگی، ا سکی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ نکلے،
کسان خاموشی سے کھڑا اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا اور خدا کا شکر ادا کر رہا تھا کہ
اللہ نے ان کی دعائیں قبول کر لیں۔ اچانک بونا کسان سے مخاطب ہوا اور کہا، بابا جان! آداب ، اب میں ااپ دونوں
کا بیٹا ہوں، ہمیشہ آپ دونوں کے ساتھ رہوں گا او اب آپ آرام کریں میں کھیتوں
میں بھی کام کروں گا۔ کسان اور اس کی بیوی نے اپنے بیٹے کی شادی گاؤں کی ایک
خوبصورت سی بونی سے بڑی دھوم دھام سے کر دی، شادی کے بعد کسان اس کی بیوی، بیٹا،
اور بہو ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگے۔