یہ خواب شاید میری زندگی کا سب سے بُرا خواب تھا جسے میں نے
تب دیکھا جب میں صرف بارہ سال کی تھی ہم لوگ لاہور میں رہتے تھے۔اس خواب کے نقوش
میرے ذہن پر آج بھی روز اول کی طرح محفوظ ہیں ۔ اس خواب نے مجھ سے میری سب سے
پیاری بہن کو جدا کر دیا۔
بہار
کی ایک رات تھی جب باجی پانی پینے اٹھیں۔ پانی پی رہی تھیں کہ اچانک ان پر فالج گر
گیا۔ وہ تو شکر ہے کہ ان کے گرنے کی آواز پر امی جان کی آنکھ کھل گئی تو ہم سب بھی
جاگ گئے۔ باجی کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی، ان کا منہ ٹیڑھا ہو گیا تھا ۔ زبان بند
اور بایاں بازو اور ٹانگ بالکل بیکار ہو گئی تھی۔ اسی وقت ڈاکٹر بلایا ان کو
انجکشن وغیرہ لگائے اور کہا کہ "اگر آج کی رات یہ کاٹ لیں تو ان کی زندگی کی
امید ہے"۔ تمام رات ہم لوگ خدا کے سامنے سر سجود رہے اور اس کی رحمت کی بھیک
مانگتے رہے۔ شاید خدا کو بھی ان کی حالت زار اور ہمارے آنسوؤں پر رحم آگیا تھا کہ
انہیں نئی زندگی مل گئی۔ صبح ان کو شہر کے سب سے اچھے ہسپتال میں داخل کروا دیا
گیا جہاں کافی عرصہ علاج کے باوجود بھی ان کی ٹانگ اور بازو میں حرکت پیدا نہ ہو
سکی اور بالکل بیکار ہو گئیں۔ البتہ شکر ہے کہ ان کی زبان کافی حد تک ٹھیک ہو گئی
تھی۔ ان کی ٹانگ اور بازو بیکار ہو نے کی وجہ سے ہم سب ان کے لیے بے حد پریشان
تھے۔ وہ ہر کام کے لیے دوسروں کی محتاج ہو کر رہ گئیں تھیں۔ ہر اچھے ڈاکٹر سے علاج
معالجہ کروایا لیکن کوئی فرق نہ پڑا۔ ایک دن ہماری ایک پڑوسن خاتون باجی کی عیادت
کےلیے آئیں، باجی کی حالت دیکھ کر ان کو بے حد رنج پہنچا اور کہنے لگیں کہ تم اسے
اصحاب بابا کے دربار پر لے جاؤ اور رات
بھر عباد ت کرکے سچے دل سے دعا مانگو، اگر ان کی قسمت اچھی ہوئی تو بابا ضرور خواب
میں بشارت دے دیں گے۔ گھر والے اس حد تک مایوس ہو چکے تھے کہ یہ مشورہ سن کر
فورََا باجی کو وہاں لے جانے کا ارادہ کر لیا۔ دوسری صبح میں اور بھائی جان باجی
کو لے کر اصحاب بابا کے دربار پرجا پہنچے، یہ دربار پشاور سے ذرا آگے گیارہ میل
دور ایک سنسان سی پہاڑی پر واقع ہے۔ یہاں ہر روز سینکڑوں حاجت مند اپنی مرادیں لے
کر آتے ہیں۔ رات وہیں عبادت میں بسر کرتے ہیں اور اگر ان کی قسمت اچھی ہو تو اسی
رات خواب میں انہیں ان کے دکھوں سے نجات کی ہدایت مل جاتی ہے۔
دن بھر میں
اور بھائی عبادت میں مصروف رہے اور رات کو نماز اور نفل پڑھ کر وہیں باجی کے قریب
ہی سو گئے۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بڑے سے کمرے میں دس بارہ بڑے بڑے ڈبے پڑے ہوئے ہیں،ان ڈبوں میں کیچڑ بھری ہوئی ہےاورڈبوں کے اوپر شمع جل رہیں ہیں میں ان ڈبوں کے پاس ہی کھڑی سوچ رہی تھی کہ
یہ شمع یونہی جل رہی ہے کیوں نہ ان کو بجھا دوں یہ سوچ کر میں نے ایک ڈبے میں سے
شمع نکا لی اور اس کو بجھا دیا وہ شمع اس قدر نرم ہو چکی تھی کہ بجھنے کے بعد اس
کا موم میرے ہاتھوں میںچپک گیا۔ ابھی میں نے دوسری شمع کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا
کہ کسی نے چیخ کر کہا بس ایک شمع ہی بجھانی تھی ،دوسری نہ بجھاؤ ۔ لیکن کیا فائدہ
تب تک دوسری شمع بھی بجھ چکی تھی۔ اسی وقت میری آنکھ کھل گئی ۔ بھائی جان اور
باجی پہلے سےجاگ رہے تھے۔ بھائی جان نے مجھے یوں گھبرا کر اٹھتے دیکھا تو بولے،"کیا
بات ہے صبا تم نے کوئی خواب دیکھا ہے" دراصل باجی اور بھائی جان کو کوئی خواب
نہیں آیا تھا اوروہ میرا خواب سننے کو بے چین تھے۔ خدا جانے مجھ سے ایسی بیوقوفی
کیسے ہو گئی جو باجی کے سامنے ہی اپنا سارا خواب سنا دیا۔ باجی کا رنگ زرد ہو گیا
اور آنکھوں سے آنسو کی بارش شروع ہو گئی بولیں "صبا تم نے میری زندگی کی شمع بجھا دی" اب مجھے
اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔ واپسی تک ان کی حالت بُری طرح بگڑنے لگی اور گھر پہنچتے
پہنچتے وہ ہمیں ہمشہ کے لیے چھوڑ کر چلیں گئیں۔ یہ سچ ہے کہ وہ خواب ایک حقیقت کی
بشارت تھا لیکن اب بھی جب باجی کی یاد آتی ہے تو میرے کانوں میں ان کے وہی الفاظ
گونجنے لگتے ہیں کہ " صبا تم نے میری زندگی کی شمع بجھا دی" اورمیں سوچنے لگتی ہوں کہ اگرمیں نے دوسری شمع نہ
بجھائی ہوتی تو آج باجی ہم لوگوں کے درمیان ہوتیں۔