اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Wed, 09 Apr 2008 07:33:00

پراسرار گھر۔۔۔۔۔۔

پراسرار گھر۔۔۔۔۔۔ واشنگٹن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکہ نے پاکستان پر فوجی امداد کے لیے عائد پابندیاں ختم کردینے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزارائس کا کہنا ہے کہ عام انتخابات کے بعد پاکستان پر فوجی امداد کے لیے عائد پابند یوں کو جاری رکھنا ضروری نہیں اس لیے ان پابندیوں سے پاکستان کو آزاد کیا جا تاہے۔ کونڈولیزارائس نے کانگریس کمیٹی کے سامنے یہ بات کہی ہے کہ اب پاکستان میں جمہوریت بحال ہو چکی ہے اور نئے وزیر اعظم نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں اس لیے اس پر عائد فوجی پابندیوں کو ختم کیا جاتا ہے۔ کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ 1990 میں پاکستان کے صدر جنزل پرویز مشرف تھے جو کہ فوج سے تعلق رکھتے تھے اس لیے ان کے دور حکومت میں پاکستان اس امداد کا اہل نہیں تھا۔ صدر بش کو اس امداد کے لیے ایک فیوردینا پڑتی تھی جس کی وجہ سے پاکستان کو 30 ملین ڈالر کی فوجی امداد ملتی تھی ۔

وہ دسمبر کی سرد رات تھی۔ باہر ہو کا عالم تھا۔ ویسے تو جاڑے کی شامیں بہت خاموش خاموش اور لمبی لمبی ہوتی ہیں۔ ایسے موسم میں لحاف میں دہک کر ناول یا رسالہ پڑھنا میرا دلچسپ مشغلہ تھا۔

         مگر آج رات میں ان تمام باتوں سے بے نیاز دل لگا کر پڑھنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ کل میرا دسمبر ٹیسٹ تھا انگلش کا۔ ابھی چند دن قبل ابا جان کی بیماری کی وجہ سے پوری طرح ٹیسٹ کی تیاری پر توجہ نہ دے پایا تھا۔ آج میری کوشش تھی کہ کسی بھی طرح پوری کی پوری کتاب کی ایک بار دہرائی کر لوں۔

    مگر گوری گوری رنگت اور گہری نیلی آنکھوں والی بلی جسے میں پیار سے مانو کہتا ہوں مجھے تنگ کرنے کے موڈ میں تھی۔

اس کے تھوڑے سے کھٹکے سے میرا دل دھڑک اٹھتا۔ ہم چند ہفتے قبل اس کرائے کے گھر میں شفٹ ہوئے تھے۔ گھر نیا تھا اس لیے تھوڑا ڈر بھی لگتا تھا اور میں تو تھا ہی سدا کا ڈرپوک۔

                 ساڑھے گیارہ بجے نیند مجھ پر غالب آنےلگی، تو میں نے تپائی پر رکھے تھرماس سے چائے نکالی اور مزے لے کر اس کی چسکیاں لینے لگا۔ مانو نے یوں مجھے فارغ دیکھا تو اس کی شوخیوں میں اضافہ ہو گیا۔

 میں نے سوچا کہ یہ تو باربار میری پڑھائی میں رخنہ ڈالے جارہی ہے، کیوں نہ اسے مصروف کر دوں۔

چائے ختم کرکے میں اٹھا اور جا کر صحن کے بچھواڑے والے لان کی جانب کھڑکی کھول دی۔

چودھویں رات کے چاند کے سنگ مدھم روشنی میں نیم اور جامن کے درخت بھلے لگ رہے تھے۔ کچھ دیر تک میں اس ٹھنڈے ٹھنڈے موسم میں کھویا رہا۔

ہوش میں آکر میں نے قریب پڑی گیند اٹھا کر باہر اگی جھاڑیوں کی طرف پھینکی اور سیٹی بجا کر مانو کو اسے لانے کا اشارہ کیا۔

مانو اچھلتی کودتی تیزی سے کھڑکی کی جانب لپکی اور گیند ڈھونڈنے میں مصروف ہوگئی۔ میں مسکرا کر دوبارہ پڑھنے بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد مانو نے گیند ڈھونڈ کر میرے سامنے لڑکھڑا دی۔  میں نے دوبارہ گیند کو جھاڑیوں کی جانب اچھالا، وہ فوراََ اسے لے آئی ۔

اب کے میں نے گیند کو کافی دور پھینکا مانو کافی دیر تک اسے ڈھونڈتی رہی۔ کبھی زمین پر پنجے مارتی اور کبھی جھاڑیوں پر جھپٹتی۔

ایک بجے تک میں نے اپنے بچے ہوئے دو باب کی دہرائی بھی مکمل کر لی۔

سامنے مانو کو دیکھا جو شدید غصے کے عالم میں گینڈ ڈھونڈنے میں مصروف تھی، میرے چہرے پر دبی سی مسکراہٹ چھا گئی۔

بے اختیار میرے ہاتھ تھرماس کی جانب بڑھے۔ میں نے بچی ہوئی چائے پیالے میں انڈیلی۔ سامنے دوسرے کمرے میں اماں ابا پرسکون گہری نیند سو رہے تھے۔ ایک نظر ان پر ڈال کر میں نے سوچا، کہ اب مجھے بھی سو جانا چاہیے۔ سو میں نے مانو کو بلایا۔ اس نے میری سیٹی کی کوئی پرواہ نہ کی اور اپنے کام میں مگن رہی۔

کتنی دیر بیٹھا میں مانو کے آنے کا انتظار کرتا رہا۔

ادھر مانو نے گیند کے بغیر نہ آنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ مجھے غصہ آگیا، اس کی کوششوں میں مزید تیزی آگئی۔ چند منٹ بعد مانو اچھلتی کودتی گیند لڑھکاتی آرہی تھی۔ میں ناراض ہو کر بیٹھ گیا۔

وہ آئی اور اس نے گیند میرے سامنے رکھ دی۔  میں نے ایک نظر گیند پر ڈالی اور اسے دیکھ کر دھک رہ گیا۔ آہستہ آہستہ گیند کے قریب گیا اور اسے اٹھا کر دیکھا، یہ وہ گیند نہیں تھی، بلکہ سونےکی بنی گیند تھی جس پر کسی کا نام کھرچ کر لکھا گیا تھا۔

مارے حیرت کے میرے پسینے چھوٹ گئے، ادھر مانو نے مجھے فخر سے دیکھا۔

میں نے ایک گہری نظر گیند پر ڈالی جس پر خان لقمانی کا نام درج تھا۔

کتنی دیر میں اسے اٹھائے دیکھتا رہا، کبھی الٹ پلٹ کرتا، تو کبھی کپڑے کی مدد سے رگڑنے لگ جاتا۔ تھوڑی سی رگڑ سے اس کی چمک میں اضافہ ہوجاتا۔

مانو کچھ دیر انتظار کرتی رہی کہ میں اسے دوبارہ جھاڑیوں میں پھینکوں۔

تنگ آکر اس نے کھڑکی کی جانب چھلانگ لگائی اور جھاڑیوں  میں چلی گئی۔

میں گیند اٹھائے خیالوں ہی خیالوں میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔

میری حیرت کی اس وقت انتہا نہ رہی  جب بالکل اس جیسی ایک اور گیند مانو لے آئی۔

اب تو میری سیٹی گم ہو چکی تھی۔ میں نے دروازے کی کنڈی گرائی اور لان کے بچھواڑے آگیا۔

مانو دو قدم مجھ سے آگے آگے دوڑنے لگی۔ جھاڑیوں کے عین درمیان پہنچ کر وہ رک گئی۔ میں بھی اس کے پیچھے چلا آیا۔

ٹارچ کی تیز روشنی میں پوری جھاڑیاں نمایاں طور پر نظر آنے لگیں۔

نیچے ایک طرف تھوڑی سی زمین کھدئی نظر آئی۔ لمبی چھلانگ بھر کےمیں اس جانب پہنچا۔ وہاں ایک زنگ آلود صندوقچی زمین میں دبی پڑی تھی۔ سامنے ڈھکن پر بڑا سا سوراخ تھا۔ شاید مانو نے یہیں سے گیندیں نکالی تھیں۔ چند منٹ کی تگ ودور کے بعد میں وہ صندوقچی نکالنےمیں کامیاب ہوگیا۔

ایک جھٹکے سے اس کا ڈھکن ٹوٹ کر علحیدہ ہوگیا اور اس میں موجود سونے کی گیندیں جگمگانے لگیں۔

" ارے واہ! یہ تو جیسے کوئی جاسوسی ناول شروع ہو گیا ہو"۔

میں اس صندوقچی کو اٹھا کر اپنے کمرے میں لے آیا۔ اس میں موجود گیندوں کو گنا تو پوری چودہ تھیں۔ میں نے بڑی احتیاط سے انہیں اپنی الماری میں منتقل کر کے تالا لگا دیا۔

خوشی کے بھرپور احساس کے ساتھ میں بستر پر سونے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔

 میری آنکھوں کے سامنے خوبصورت عالیشان بنی بنائی کوٹھی آجاتی۔ تصور ہی تصور میں ابا جی کا علاج مہنگے ترین اسپتال میں ہو رہا ہوتا، میری انگلیاں کمپیوٹر کے کی بورڈ پر ناچ رہی ہوتیں، وہ کمپیوٹر جسے خریدنے کے لیے ہمارے گھریلو حالات اجازت نہ دیتے۔غرض ان سے بھی زیادہ حسین سپنوںمیں کھوتے کوتھے میں نیند کی وادی میں چلا گیا۔

اس واقعہ کو چھ دن گزر چکے تھے۔

مگر میری سمجھ میں ابھی تک نہ آرہاتھا کہ ان گیندوں کو کیسے استعمال میں لاؤں۔ ابا جی کو بتانے کی ہمت نہ تھی اورمیرے اپنے ذہن میں کوئی ایسا خیال نہ تھا۔

خیر بڑی سوچ بچار کے بعد میں ایک فیصلہ کر کے مطئمن ہو گیا اور میری وہ بے چینی ہوا ہو گئی جو مجھے چند دنوں سے بے چین کیے ہوئی تھی۔

دوسرے دن سکول جانے کی بجائے میرا رخ شہر کے قریبی تھانے کی طرف تھا۔ جہاں کے انسپکٹر ریحان میرے ماموں کے بہترین دوست تھے۔ تھانے پہنچ کر میں نے انسپکٹر ریحان کے سامنے وہ گیندیں بیگ سے نکال کر سامنے پڑے میز پر ڈال دیں اور دھیرے دھیرے پوری تفصیلات بتا دیں۔ انہوں نے پوری یکسوئی اور دلچسپی سے میری بات سنی۔ میری بات کے اختتام پر انہوں نے اٹھ کر میرا کندھا تھپکایا اور مسکرا کر بولے:

" حماد مجھےنہیں، بلکہ پوری قوم کو آپ جیسے دیانت دار لڑکوں کی ضرروت ہے۔ میں بہت جلد خان نعمانی کا پتہ ڈھونڈنے کی کوشش کروں گا۔ انشا اللہ آپ کی یہ امانت ان تک پہنچ جائے گی"۔

میں شکریہ اداکر کے باہر نکل آیا۔

کچھ دن اسی طرح گزر گئے، انسپکٹر ریحان کی طرف سے کوئی اطلاعات موصول نہ ہوئیں اور پھر ایک دن اچانک دروازے پر گھنٹی بجی۔ گھنٹی کی آواز سن کر میں باہر نکلا۔ انسپکٹرریحان چہرے پر مسکراہٹ لیے دروازے پر کھڑے تھے۔ میں نے ان کی مسکراہٹ کا جواب دیا اور ڈرائنگ روم کا دروازہ کھول کر انہیں اندر بٹھا دیا۔ اس دوران ابا جی بھی آچکے تھے۔ چائے کے بعد وہ اصل بات کی جانب آئے۔ جبکہ میں آگے کی صورتحال جاننے کےلیے سخت بے چین تھا۔

           پہلے تو انہوں نے ابا جی کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا، کیونکہ ابا جی ابھی تک اس واقعہ سے لاعلم تھے۔

 ابا جی نے ان کی باتیں سن کر ایک تیز نگاہ مجھ پر ڈالی۔ میں نے شرمندگی سے سر کو اور نیچے جھکا لیا مانو جیسے زمین میں جانے کی کوشش کر رہا ہوں۔

پھر انسپکٹر ریحان گویا ہوئے

" حماد تمہارے جانے کے بعد میں نے کئی سال پہلے کی ایف آئی آر رپورٹس چیک کیں۔ اسی میں اتفاقاََ نعمانی صاحب کے نام کی ایف آئی آر کٹی مل گئی۔ ورنہ مجھے سو فیصد امید نہیں تھی۔ انہوں نے ایف آئی آر اپنی گیندوں کے چوری ہونے کی نامعلوم افرا د کے خلاف کٹوائی تھی۔اس رپورٹ میں ان کا پتہ بھی درج تھا۔ خیر میں بڑی مشکل سے ان تک پہنچا کیونکہ لکھے گئے پتہ کی بجائے اب وہ دوسرے شہر میں رہائش پذیر ہیں۔

جب میں ان تک پہنچا اور انہیں آپ کی امانت لوٹائی تو وہ سفید بھنوئیں اچکا کر مجھے یوں دیکھنے لگے، گویا کوئی خواب دیکھ رہے ہوں، جب میں نے انہیں بتایا کہ یہ حقیقت ہے تو وہ بہت خوش ہوئے۔

جاری ہے







(Your Name) آپ کا نام
(E-mail Address) ای میل ایڈریس
(City or Country) شہر یا ملک کا نام
(Write your message here) یہاں لکھیں


  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier