اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Mon, 10 Mar 2008 04:51:00

ایک خوفناک چیخ سناٹے میں گونجی۔۔۔۔۔۔

ایک خوفناک چیخ سناٹے میں گونجی۔۔۔۔۔۔

میرے بابا گاؤں کے زمیندار تھے۔ان کی اکلوتی بیٹی ہونے کی وجہ سے بچپن ہی سے میرا جہیز تیارکرناشروع کر دیا تھا۔ اب میں سولہ سترہ سال کی ہو گئی تھی۔اس لیے بابا نے میرے چچا کو جلدی شادی کرنے پر زور دینا شروع کر دیاتھا کیونکہان کے بڑے لڑکےسے میری منگنی بچپن میں ہی طے ہو گئی تھی۔چاچا ایک دوسال کی مہلت چاہتے تھے لیکن بابا مہلت دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ بات کچھ نہ بنی۔ایک دن میرے بابا امی کو لے کر چاچاکے گاؤں جانے کےلیے تیارہو گئے۔ ان کا خیال تھا کہ آخری فیصلہ کن بات کر کے شام تک واپس آجائیں گے۔ میں گھر میں بالکل تنہا تھی وہ مجھے ساتھ لے جا بھی نہیں سکتے تھے۔ یوں تو بابا نے سب لوگوں کو گھر کا خیال رکھنے کا کہہ دیا تھا پھر بھی مجھے اکیلے رہنا بہت عجیب لگ رہا تھا میں فطرتاََ بہت بزدل ہوں۔ا یک چوہے کی آہٹ بھی میری خوفناک چیخوں کا سبب بن جایا کرتی ہے۔ امی بابا تو چلے گئے لیکن میرا دل خوف کے دریا میں ڈوبتا گیا۔اسی خوف میں کب رات آئی کچھ پتہ ہی نہ چلا۔ جب رات تک امی اور بابا نہ لوٹےتو میری حالت غیر ہونے لگی۔ شاید انہیں چاچا نے روک لیا تھا اسی گاؤں میں پلی بڑھی اس لیے شاید ابا کو کسی قسم کا خوف نہ ہو سکتا تھا، لیکن میں تو جن بھوت کی کہانیاں سن سن کر حد درجہ بزدل ہو چکی تھی۔

گرمیوں کی رات تھی، مائی فضلی بوڑھی ہونے کے باوجود گھوڑے بیچ کر سوئی ہوئی تھی۔ گھر کے دروازے وغیرہ اچھی طرح بند کر کے میں اوپر کوٹھے پر بچھی ہوئی چارپائی پرمائی فضلی کے برابر جا بیٹھی کچھ دیر تو فضلی باتیں کرتی رہی پھر وہ سو گئییں۔ میں چپ چاپ گاؤں کی ڈوبتی آوازوں کو سنتی رہی۔ آخر پورے گاؤں پر خاموشی کا تسلط ہوگیا اور کچھ دیر بعد مجھے بھی نیند آگئی۔

بلی منڈیر سے گودی تو اس کےساتھ اینٹ بھی گر گئی اور میری خوفزدہ نیند یک بہ یک ٹوٹ گئی دل بُری طرح دھڑک رہا تھا۔فضلی بے سدھ سو رہی تھی۔ شاید رات کا دوسرا پہر شروع ہو گیا تھا۔ اس وقت مجھے محسوس ہوا جیسے گھر میں نیچے کوئی ننگے پاؤں چل رہا ہے۔ میری قوت سماعت غیر معمولی تیز ہے۔ ذرا سی سرسراہٹ یا سرگوشی میرے کان کھڑے کر دیتی ہے۔ مگر یہ تو واضح آواز تھی جیسے بابا صحن میں ٹہل رہے ہوں۔ پہلے میں نے سوچا کہ شاید بابا اور امی واپس آگئے ہیں اور مجھے کچی نیند نہ اٹھانے کی وجہ سے نیچے ہی بستر بچھائے ہوں۔ مجھے اپنے اس خیال پر یقین تو نہ تھا لیکن دل سے خوف قدرے دور ہوگیا پھر کسی کی کھانسی کی آواز آئی اور اس طرح دم توڑ گئی جیسے کسی نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا ہو۔ میں نے غیر اداری طورپر بستر چھوڑ دیا  یہ آواز میرے بابا کی تو نہیں۔ دھڑکتے دل سے ننگے پاؤں منڈیر پر جا پہنچی نیچے سے صحن صاف نظر آتا تھا کیونکہ چھجا آگے لگا ہوا تھا۔ میں منڈیر سے اتر کر چھجے پر آگئی اور نیچے آگئی اس وقت تک مجھے کچھ کچھ خیال تھا کہ شاید بابا اور چاچا آگئے ہیں۔ شاید کچھ باتیں کر رہے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔نیچے کا نقشہ ہی عجیب تھا۔ گھرکے سارے صندوق صحن میں پڑے تھے اور ایک آدمی جس کی میری طرف پیٹھ تھی کھلے بکس سے کپڑے وغیرہ نکال کر بڑی چادرمیں ڈال رہا تھا اور اسی لمحے مجھے جھرجھری سی آگئی۔ یہ بابا نہیں کوئی دوسرا شخص تھا پلک جھپکتے ہی دوسرا آدمی اندر سے کچھ سامان اٹھائے صحن میں آگیا چاند کی تیز روشنی میں بھی ان کے نقوش اتنے دھندلائے ہوئے لگ رہے تھے کہ میں یہ نہ جان سکی کہ آخر یہ کون لوگ ہیں۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے تیسرا آدمی چوتھے آدمی کی مدد سے میرا جہیز کا صندوق اٹھائے باہر آگیا۔ میں بت بنی یہ سب کچھ دیکھتی رہی۔ خوف سے میں پلک تک جھپکنا بھول گئی۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے کوئی بندوق لیےمیرے سر پر بھی کھڑا ہے۔ مائی فضلی کے تیز خراٹے یقیناََ ان تک پہنچ رہے تھے تبھی وہ بڑے آرام  سے ساراسامان اکٹھا کر رہے تھے۔ میرے جہیز کا صندوق کھلا اور چاند کی چاندنی میں روپہلے لباس جھلملا گئے، نقرنی کرنیں کانپ اٹھیں۔

اس صندوق تو میرا سارا زیور رکھا تھا۔وہ بھی چھوٹے سے قد والےآدمی کے ہاتھ لگ گیا تھا۔ ڈبہ کھولا تو سونے کی ساری چمک ان چاروں کی آنکھوں میں اترآئی۔ میں لاکھ بزدل سہی لیکن میرے جہیز کا سامان یوں لٹتا دیکھ کر میرے اندر ایک عجیب سا جذبہ امڈ آیا میری کنپٹیاں سلگنے لگیں۔ جی چاہا میں آگے بڑھ کر چاروں سے جا بھڑوں۔ مائی فضلی کو جگانا فضول تھا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا چھجا کم از کم چار فٹ چوڑا تھا۔ادھر ادھر کے کباڑخانے سے پھسلتی ہوئی میری نظر بڑے سے کالے پتھر پر پڑی۔ یہ پتھر مدت سے یہیں پڑا تھا اور اتنا بھاری تھا کہ اسے اٹھانا میرے جیسی ناتواں لڑکی کے لیے بڑا دشوار تھا۔ لیکن جب میں نے اپنے سارے کپڑوں اور زیور کو ان کی کالی گٹھری میں بندھے دیکھا تو ایک انجانی طاقت کے تحت میں جھکے جھکے انداز سے آگے بڑھی اور پتھر پوری طاقت سے اٹھالیا میری آنکھیں حلقے سے ابھڑ پڑیں جسم میں کپکپاہٹ بڑھ گئی۔ لیکن میں نے پتھر ایک فٹ تک اونچا اٹھا لیا۔ جہاں بالکل چھجا کے نیچے یہ ڈراما کھیلاجا رہا تھا۔ میں نے ایک بار پھر چاندنی میں چمکتے گنجے آدمی کو دیکھا اور پتھر پوری طاقت سے چھجے سے نیچے لڑھکا دیا۔ ایک خوفناک چیخ گاؤں سے سناٹے میں گونجی اور بھگڈر مچ گئی۔ میں نے صرف یہ دیکھا کہ ایک آدمی نیچے زمین پر پڑا تھا اور دوسرا اسے کاندھے پر اٹھا کر تیزی سے بھاگا۔ باقی دونوں بھی ہوا ہوگئے پھر میں نے مائی فضلی کو اٹھایا۔گاؤں میں شور مچ گیا۔ سب لوگ اکٹھے ہوگئے گو چور بھاگ گئے تھے مگر صحن میں خون ہی خون بکھرا تھا۔ میرا ایک جوڑا تو تقریباََخون میں بھیگا ہوا تھا۔ صبح ہونے تک میں روتی رہی سب لوگ مجھے تسلیاں دے رہے تھے۔ مگر خداجانے اس کارنامے کے بعد پھر مجھ پر وہی بزدلی طاری ہوگئی۔ ایک آدمی اسی وقت بابا کو بلانے چلا گیا تھا۔ صبح تک بابا چاچا وغیرہ کے ساتھ آئے۔ پولیس بھی آگئی تھی خون کے دھبوں کی وجہ سے چوروں کے گھر تک پہنچنے میں آسانی ہوگئی تھی۔ دراصل میرا وزنی پتھر گنجے آدمی کے سرپر پڑا تھا بیچارے کا سر بالکل ہی کچلا گیا تھا۔

میری اس بہادری کے چرچے مدتوں گاؤں میں پھیلے رہے۔ یہ میں ہی جانتی ہوں کہ یہ جذبہ شاید پہلی اور آخری بار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے بچپن کے جمع کیے ہوئے جہیز کو بچانے کے لیے پیدا ہواتھا۔ اور میں آج بھی اتنی ہی بزدل ہوں۔

سچ گِر گِر کر ہی انسان سنبھلتا ہے اور مصبیتوں میں پھنس کر ہی انسان بہادر بنتاہے۔اس لیے مصبیت کے وقت گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ حاضر دماغی اور بہادری سے کام لینا چاہیے۔

 





 

 

اگر آپ کے پاس بھی ایسی کوئی کہانی ہو جو آپ لوگوں کےساتھ شئیر کرنا چاہتے ہوں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ کہانی بھیجنے کے لیے مندرجہ ذیل کالم کو پُر کیجیے۔







(Your Name) آپ کا نام
(E-mail Address) ای میل ایڈریس
(City or Country) شہر یا ملک کا نام
(Write your message here) یہاں لکھیں




 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier