اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Sat, 08 Mar 2008 06:34:00

امی میں مر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

امی میں مر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

اس روز مجھے ہلکا ہلکا بخار تھا۔ بستر چھوڑنے کو دل نہ چاہ رہا تھا لیکن میری تین سالہ شوزی نے میرے سر میں درد کر رکھا تھا، کبھی کہتی "امی، دودھ ٹھنڈا نہیںپیوں گی، کبھی کہتی امی میرا گھوڑا کہاں ہے۔ امی مجھے باہر بھیجوا دیئجیے۔ اسکی ایک کوئی ضد تھی۔اس کی پندرہ بیس فرمائشوں کا پورا کرنا میرے لیے مصبیت ہو گیا تھا۔اس کے ابا اسلام آباد دورے پر گئے ہوئے تھےورنہ شاید وہ اتنی چڑچڑی نہ ہوتی۔نوکر نے اسے بھلا پھسلا کر باہر لے جانا چاہا تو مچل گئی۔"میں امی کے پاس رہوں گی"۔ڈانپنے ڈپنے پر اتنی زور سے شور مچانےلگی کہ میرے سر میں دھماکے سے ہونے لگے۔تنگ آکر میں نے نوکر سے کہہ دیا"اسے یہیں چھوڑ دے"۔ میرے لہجے کی کرختگی سے مرعوب ہو کر کچھ دیر تک تو وہ بالکل نہ بولی،پھر پیر پھسلنے کا بہانہ بنا کر اس زور وشور سے شور مچایا کہ میں نے غصے میں اٹھ کر اسے دھنک ڈالا۔ شوزی" اے خدا! تجھے موت دے دے تو اچھا ہے۔ تو نے میرا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔

شوزی نے دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردیا میں نے اسے کمرے سے باہر نکال دیااور خود کمرہ بند کر کے سر پر پٹی باندھ کر لیٹ گئی۔ اسکے دروازہ پیٹنے کی آواز کچھ دیر تک تو آتی رہی پھر شاید اسے نوکر بھلا کر لےگیا اور میں سو گئی۔

دس گیارہ بجے میں نے بستر چھوڑا،شوزی باہر صحن میں اپنی گڑیوں کی دکان سی سجائے بیٹھی تھی، مجھے باہر نکلتے دیکھ کر اس نے منہ سا پھیر لیا۔اس وقت میرا غصہ فرو ہو چکا تھا، اس لیےاس کے پاس ہی جا کر بیٹھ گئ۔"شوزی بیٹا! کیا کررہی ہو؟ شوزی نے اپنا معصوم چہرہ اوپر اٹھایا اور بولی"آپ تو کہتی ہیں کہمیں مر جاؤں، پھر مجھ سے کیوں بولتی ہیں۔

یہ کہہ کر اس نے اپنے ماتھے پر بکھرے بالوں کو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے سنوارا اورمیرا جواب سننے سے پہلے ہی گیٹ کی طرف بھاگ گئی۔

میں نے تو بڑی بڑی نفسیاتی کتابوںمیں یہی پڑھا تھا کہ بچہ کا زیادہ لاڈ اٹھانےسے بچہ بگڑ جاتا ہےاس وقت بھی چاہنے کے باوجود اس کے بھاگتے قدموں کو نہ روکا اور اسکی اس ادا پر دل ہی دل میں ہنسی اور قدرے ندامت سی محسوس کرتی رہی۔ میں ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے تیار ہونے لگی۔ طبعیت کچھ زیادہ ہی خراب ہونے لگی تھی جلدی جلدی تیار ہو کر ڈاکٹر نقوی کے کلینک چلی گئی۔ وہاں شاید مجھے آدھا گھنٹہ لگا ہوگا یا شاید پون گھنٹہ ہوا ہو۔ مجھے اب تو یہ منحوس وقفہ بھی یاد نہیں۔ کھانے سے کچھ دیر پہلے کا وقت تھا۔ جب میں نے اپنے گھر سے کچھ دور لوگوں کا ہجوم دیکھا۔ یا الہی خیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔سینے سےاٹھتے دھوئیں کو دبا کر دو قدم آگے بڑھائے۔۔۔۔۔۔۔۔تو میری ہمدرد پڑوسن آکر مجھے لپٹ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "صبر کر میری بہن! صبرکرو"۔۔۔۔

  میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ میر زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکلا، مبادا کوئی بری خبراسکے جواب میں نہ سننی پڑے، میں نے اپنے بازو اس کی گرفت سے چھڑائے، لڑکھڑاتی چال سے گھر کی طرف بڑھی۔ گیٹ پر پورا محلہ امڈا پڑاتھا۔ میری شوزی گڑیا اس ہجوم میں نہ تھی۔

"شوزی کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟" میری ممتا نے اندر سے ایک چیخ ماری۔ "شوزی! میری رانی! مگر اندر کمرے میں عورتوں اور دوسرے بچوں کےسوا اور کوئی نہ تھا۔ یہ سب کچھ تو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ شوزی میری تلاش میں باورچی خانہ میں گئی نہ جانے کس طرح تیل کا چولہا اس پر آگرا۔ مجھے یقین ہے اس نے مجھ سے صلح کرنےکے لیے میرے لیے چائے بنانی چاہی ہوگی کیونکہ جب مجھے بخار ہوتاہے تو تھوڑی دیرکے وقفہ کے بعد چائے پیتی ہوں۔ میری گڑیا نے بھی چائے بنانی چاہی ہوگی اس کوشش میں جلتا چولہا اس کے پھول سے بدن پر آگرا اور جب تک ملازمہ اس کی چیخ وپکار پر باورچی خانہ میں پہنچتی وہ بری طرح جھلس چکی تھی۔

اس کی زبان سے جو آخری الفاظ ادا ہوئے وہ یہ تھے۔

                       " امی میں مر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"۔

یہ الفاظ اگر میں سن لیتی تو میرا کلیجہ پھٹ جاتا۔ مجھے تو ہسپتال سے اس کی جھلسی ہوئی لاش ہی مل سکی۔

 رات کے سناٹوں میں مجھے اکثر محسوس ہوتا ہے جیسے شوزی نے میرے کانوںمیں سرگوشی کی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"امی ! آپ نے مجھے بددعا دی تھی،اب تو میں مر گئی نا!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت میں دل پکڑ کر رات رات بھر روتی ہوں۔کاش! میں یہ منحوس فقرہ اپنی زبان سے نہ نکالتی۔ یہ پچھتاوا مجھے زندگی بھر رہے گا۔












اگر آپ ہمیں کوئی کہانی  لکھ کر بھیجنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے کالم کو پُر کیجیے۔








(Your Name) آپ کا نام
(E-mail Address) ای میل ایڈریس
(City or Country) شہر یا ملک کا نام
(Write your message here) یہاں لکھیں




 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier