اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Wed, 05 Mar 2008 01:54:00

اندھا فقیر۔۔۔۔۔۔

اندھا فقیر

قدیم زمانے کی بات ہے کہ ملک خراساں پر بخت شاہ کی حکمرانی تھی۔جو بے حد نیک، رحم دل، اور خدا ترس انسان تھا۔اسے دنیا کی ہر نعمت اور آسائش حاصل تھی اس کے باوجود وہ نہایت سادہ زندگی بسر کرتا تھا۔بخت شاہ کے برعکس اس کا وزیر دلاور بہت مغرور اور بدمزاج تھا۔اس کا تعلق ایک دولت مند اور معزز گھرانے سے تھا۔اعلی حسب نسب اور دولت کی ریل پیل نے دلاور کا دماغ خراب کر رکھا تھا۔ان تمام خامیوں کے باوجود اس میں ایک خوبی بھی تھی جو ان تمام خامیوں پر بھاری تھی۔وہ خوبی یہ تھی کہ وہ حد سے زیادہ عقل مند اور نہایت قابل تھا۔اس کی اسی خوبی کے باعث بخت شاہ اسے کی بدمزاجی کے باوجود برداشت کرتا تھا۔

 ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بخت شاہ اسی وزیر کے ساتھ کسی سفر پر روانہ ہوا۔ان کے ہمراہ ایک غلام بھی تھا۔وہ تینوں اپنے اپنے گھوڑوں پر سوار تھے۔ جب وہ ایک صحرا سے گزر رہے تھے کہ اچانک ایک زبردست طوفان نے انہیں گھیر لیا اور سب ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ کچھ دیر بعد طوفان تھما تو انہوں نے ایک دوسرے کو تلاش کرنا شروع کیا۔ سب سے پہلے غلام نے اپنے سے کچھ فاصلے پرایک جھونپڑی دیکھی جب وہ وہاں پہنچا تو اسے ایک اندھا فقیر بیٹھا دکھائی دیا، غلام نے اس سے پوچھا اے فقیر!"کیا اس طرف سے کوئی سوار گزراہے؟" اس نے کہا بھائی! "مجھے تو کسی کی آہٹ سنائی نہیں دی"۔غلام یہ سن کر آگے چل دیا۔تھوڑی دیر بعد وزیر دلاور کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے دیکھا کہ ایک اندھا شخص بیٹھا حقہ پی رہا ہے۔ اس نے پوچھا اوے فقیر! "کیا ادھر سے کوئی سوار گزرا ہے؟" فقیر نے کہا ہاں " کچھ دیر پہلے ایک غلام گھوڑے پر سوار یہاں سے گزرا ہے"۔ دلاوربھی فقیر کا جواب سن کر آگے بڑھ گیا۔ کچھ ہی دیر میں اتفاق سے بخت شاہ بھی وزیر اور غلام کو ڈھونڈتاہوا ادھر آنکلا۔ اس نے جب فقیر کو دیکھا تو اپنے گھوڑےسے نیچے اترا اور بڑے ادب سے فقیر سے پوچھا، " شاہ صاحب کیا آپ کو معلوم ہے ادھر سے کوئی گزراہے؟"۔ اندھے نے کہا " جی ہاں جہاں پناہ، پہلے آپ کا غلام اور پھر آپ کا وزیر یہاں سے گزرا ہے"۔

بادشاہ بخت شاہ کو یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی اس نے فقیر سے پوچھا، "شاہ صاحب آپ تو نابینا ہیں بھلا آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ میں بادشاہ ہوں"۔ اندھے فقیر نے مسکرا کر جواب دیا، " عالی جاہ! آپ کے غلام نے مجھے اندھا کہا، آپ کے وزیر نے مجھے فقیر کہا اور حضور نے مجھے شاہ صاحب کہہ کر مخاطب کیا لہذا گفتگو کے انداز سے ہی میں نے اندازہ لگا لیا کہ کون کیا ہے۔ بخت شاہ اندھے فقیر کی باتوں سے خوش ہوا،اور اسے بہت سا انعام دے کر رخصت ہو گیا۔

محل پہنچ کر بخت شاہ نے غلام کو فقیر سے بدتمیزی پر سزا دی اور وزیر دلاور کو بلا کر اندھے فقیر سے ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا اور سمجھایا کہ انسان کو اپنے سے کم تر یا چھوٹے سے بھی خوش دلی اور تہذیب سے بات کرنی چاہیے۔ وزیر اپنے رویے پر بہت شرمندہ ہوا اور اس نے آئندہ کے لیے اپنی بدمزاجی اور غرور سے توبہ کر لی۔

 

 

 

 
 

اگر آپ ہمیں کوئی  سچا واقعہ لکھ کر بھیجنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے کالم کو پُر کیجیے۔







(Your Name) آپ کا نام
(E-mail Address) ای میل ایڈریس
(City or Country) شہر یا ملک کا نام
(Write your message here) یہاں لکھیں


  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier