
آج
عاصمہ گھر میں اکیلی تھی ، اس کے امی ابو ایک شادی کی تقریب میں گئے ہوئے تھے کل
عاصمہ کا انگلش کا ٹیسٹ تھا جس کی تیاری کی وجہ سے عاصمہ شادی میں نہ جا سکی۔ رات
کے دس بج گئے تھے اور عاصمہ کا کام بھی پورا ہو گیا تھا۔ عاصمہ کو محسوس ہوا کہ اس
کے برابر والے مکان سے کچھ آوازیں آرہی ہیں حالانکہ برابرا والا مکان تو تین ماہ
سے بند تھا۔ عاصمہ اپنے گھر کے دروازے سے تھوڑا باہر آئی تو اس نے دیکھا کہ اس
مکان کا تالا کھلا ہوا ہے اور گھر کے اندر سے ہلکی سی روشیآرہی ہے۔ اتنے میں عاصمہ نے ایک بچی کے رونے
کی آواز سنی اور پھر ایک آدمی کی جو کہ اس بچی کو ڈانٹ رہا تھا کہ چپ ہو جاؤ
ورنہ گولی مار دوں گا۔ عاصمہ چپکے سے اس گھر میں داخل ہوئی تمام گھر کی لاٹس بند
تھیں سرف ایک ہی کمرے میں سے ہلکی روشنی آرہی تھی۔ عاصمہ نے دروازے کی جھری سے
اندر جھانکا تو چار آدمی اور ایک بچی دکھائی دی جو رسیوں سے بندھی ہوئی تھی۔ ان چاروں میں سے ایک نے کہا " آج سے یہ
گھر ہمارا نیا ٹھکانہ ہے، باس نے کہہ دیا ہے کہ آئندہ تمام کاروائی یہیں
ہوگی"۔ دوسرے نے پوچھا کہ "اگر مکان کا مالک یا پڑوسی آئے توکیا ہو گا؟ "نہیں! میں نے دو ماہ تک اس
گھر کی نگرانی کی ہے، یہاں کوئی نہیں آتا اور رہی پڑوسیوں کی بات تو ان کو ہم
سمجھا لیں گے" ۔
آدمی پھر بولا کہ "ابھی گوگا دو بچوں کو لے کر آتا ہی ہو گا انہیں بھی یہیں
رکھنا ہے اور ان کے گھر والوں کو فون کر کے اطلاع دینی ہے۔ تاوان کا مطالبہ ابھی
نہیں دو دن بعد کریں گے"۔
اتنی
باتیں سن کر عاصمہ چپکے سے اپنے گھر میں
آ گئیاور دروازہ بند کر لیا۔ یہ لوگ
بچوںکو اغواء کرنے والے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے بڑی خاموشیس ے ان کے
برابر والے گھر کو اپنا ٹکانہ بنا لیا تھا۔ عاصمہ نے اپنے انکل جو کہ ایس پی تھے
ان کو فون کرنا چاہا لیکن اس نے سوچا کہ پہلے ابو آجائیں تو اپھر کاروائی کریں
گے۔ اس دوران عاصمہ نے اس مکان کی نگرانی جاری رکھی۔
گیارہ
بجے کے قریب اس کے ابو اور امی آگئے،عاصمہ نے تمام حالات اپنے ابو کو بتائے۔ اس کے
ابو نے فوراََ اپنے دوست ایس پی کو فون کر کے تمام بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ آپ
لوگ اس گھر کی نگرانی کرتے رہیں ، میں ابھی نفری بھیجتا ہوں۔
پندرہ
بیس منٹ بعد پولیس کی موبائلیں اس گلی میں آگئیں اور اس مکان کو گھر کر پولیس اس
میں داخل ہو گئی۔ وہ تینوں آدمی پکڑے گئے، گوگا بھی دونوں بچوں کو لے کر آچکا
تھا لہذا وہ بھی پکڑا گیا۔ پولیس نے بچوں کے والدین کے گھر فون کر کے انہیں بلا
لیا۔ عاصمہ کے انکل نے عاصمہ کو اس کی بہادری پر شاباش کے علاوہ 5000 انعامبھی دیا۔ عاصمہ کی ذرا سی کوشش سے بچوں کو اغوا
کرنے والا پورا گروپ پکڑا گیا۔ اگلے دن اخبار میں خبر کے ساتھ عاصمہ کی تصویر بھی
شائع ہوئی اور لوگوں نے عاصمہ کی بہادری کی خوب تعریفیں بھی کیں۔
دیکھا پیارے بچو! عاصمہ کی ذرا سی بہادری اور
عقلمندی کا انعام اس کی وجہ سے کتنے بچے اپنے ماں کے پاس واپس لوٹ گئے اور کتنے
بچے اپنے ماں سے بچھڑنے سے بچ گئے ۔ اور معاشرے سے ایک جرم آور گروہ کا بھی خاتمہ
ہو گیا ۔ اگر معاشرے کا ہر فرد اسی طرح اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہے تو ایک دن
ہمارا معاشرہ یقیناََ ان تمام بائیوں سے پاک ہو جائے گا۔ انشا اللہ