
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں کافی عرصے سے
بارش نہیں ہوئی تھی جس کی وجہ سےپورے گاؤں کو خشک سالی نے گھیر لیا، لوگوں کے پاس
جو پانی بچا تھا اب وہ بھی ختم ہونے کو تھا ، اس مسئلے کو حل کرنے کےلیے گاؤں کے
سب لوگ ایک جگہ جمع ہوئے۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو گاؤں کے چوہدری نے کہ اکہ آپ
لوگ جانتے ہو کہ سارے گاؤں میں خشک سالی کا دور دورہ ہے او اس مشکل کو حل کرنے کے
لیے ہم سب یہاں جمع ہوئے ہیں۔ ابھی سب لوگ اس مسئلے پر بحث کررہے تھےکہ سردار کو
قریب ہی ایک درخت پر بندر نظر آیا جو بھوک سے بلبلا رہا تھا اور اوٹ پٹانک حرکتیں
کر رہا تھا۔ اسی وقت سردار کے ذہن میں ایک ترکیب آئی، اس نے لگوں کو مخاطب کر کے
کہا کہ میرے ذہن میں ایک ترکیب ہے، اگر لوگ اس پر عمل کرو تو ہم پانی کے مزید ذخائر
تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس نے لوگوں سے کہا کہ ہم کو اس ترکیب پر عمل کرنے کے لیے اس
بندر کوپکڑنا ہوگا جو اس وقت اس درخت پر بیٹھا ہوا ہے۔ بندر کو پکڑنے کی بھی ایک
ترکیب میرے ذہن میں ہے۔ تم لوگ کچھ بھنے ہوئے چنے لاؤ اور اس درخت میں بنے ہوئے
سوراخ میں ڈال دو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا جیسا کہ ان کے چوہدری نے کہا ۔ بندر کو
جیسے ہی بھنے ہوئے چنوں کی خوشبو آئی وہ درخت سے نیچے اترا اور چنے نکالنے کے لیے
درخت میں بنے ہوئے سوراخ میں ہاتھ ڈال دیا جیسے ہی اس نے سوراخ میں ہاتھ ڈالاتو اس
کا ہاتھ سوراخ میں پھنس گیا اور لوگوں نے اسے پکڑ کر ایک رسی کے ساتھ باندھ دیا۔
پھر چوہدری نے کہا کہ یہ بھنے ہوئے چنےدرخت کے سوراخ سے نکال کر بندر کے آگے رکھ
دو۔ جیسے ہی بھنے ہوئے چنے بندر کے آگے رکھے اس نے سارے چنے منٹ میں ہی کھا لئے۔
چنے کھانے کے بعد بندر کو شدید پیاس لگی اور وہ پھرسے مچلنے لگا چوہدری نے دیکھا
کہ چنے کھانے کے بعد بندر پیاس کی شدت سے تڑپ رہا تھا تو اس نے لوگوں سے بندر کو
چھوڑ دینے کو کہا۔ جیسے ہی بندر کو چھوڑا گیا، سردار نے گھوڑوں پر سوار تیز رفتار
نوجوانوں کو اس بندر کے پیچھے لگا دیا۔ بندر آزاد ہوتے ہی تیز کی تیزی سے بھاگنا
شروع ہو گیا۔ نوجوانوں نے بھی بندر کا تیز رفتاری سے پیچھا کیا ، بندر گھنٹوں
دوڑتا رہا اور بالآخر ایک پہاڑ پر چڑھنے لگا، نوجوان بھی پہاڑ پر چڑھ گئے اور
جیسے ہی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچےاور دوسری طرف دیکھا تو پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ
تھا، سب نوجوان خوش ہو گئے کہ ایک بندر نے انہیں پانی تک رسائی دی ہے ، بندر کب کا
اپنی پیاس بجھا کر جا چکا تھا اور نوجوان واپس گاؤں کو لوٹ آئے ۔ انہوں نے جا کر
سردار کو سب کچھ بتا دیا اور یہ بھی بتایا کہ پانی کے اس ذخیرے سے ان کا ایک سال
کا گزر بسر ہو سکتا ہے۔ یہ سن کر سب لوگوں کے چہرے خوشی سے چمکنے لگے اور ان سب نے
بندر کو دل ہی دل میں دعائیں دیں جس نے ان پانی تک پہنچا کر نئی زندگی عطا کی ہے۔
|
|