ایک
دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں تھا جو جنگل کے قریب تھا۔ جنگل کے قریب ہونے کی وجہ سے
وہاں اکثر چوریاں اور ڈاکے ہوا کرتے تھے۔ لوگ چورون ڈاکوؤں کی وجہ سے پریشان رہتے
تھے اور شام ہوتے ہی اپنے اپنے گھروں میں گھس کر دروازے بند کر لیا کرتے تھے۔
ایک دفعہ ایک گھر میں ڈاکوؤں نے ڈاکہ ڈال دیا گھر
والوں نے چھپ کر پولیس کو اطلاع دی۔ جب تک پولیس آئی چور گھر کا تمام قیمتی سامان
لے کر فرار ہو چکے تھے۔ پولیس نے آکر پہلے گھر والوں سے پوچھ گھچ کی جب گھر والوں
سے کچھ پتہ نہ چل سکا تو پولیس نے محلے والوں سے تفتیش کرنی شروع کی کہ شاید کسی
نے چوروں کو دیکھا ہو۔ تفتیش کے دوران وہ ایک آدمی کے پاس گئے اور پوچھا ، "کیا
تم نے چوروں کو دیکھا ہے؟"۔ آدمی گھبرا گیا اور کچھ سوچ کر کہنے لگا۔ "جناب
! آپ یہاں سے سیدھے چلے جائیں سامنے تین گلیاں آئیں گی پہلی گلی چھوڑ کر، دوسری
گلی چھوڑ کر تیسری گلی میں چلے جائیں سامنے تین گاؤں نظر آئیں گے پہلا گاؤں چھوڑ
کر، دوسرا گاؤں چھوڑ کر تیسرے گاؤں میں چلے جائیں وہاں آپ کو تین گھر نظر آئیں
گے پہلا گھر چھوڑ کر، دوسرا گھر چھوڑ کر تیسرے گھر میں چلے جائیں اس کی تین منزلیں
ہیں پہلی منزل چھوڑ کر دوسری منزل چھوڑ کر تیسری منزل پر جائیں وہاں تین کمرے ہیں
پہلا کمرہ چھوڑ کر دوسرا کمرہ چھوڑ کر تیسرے کمرے میں چلے جائیں وہاں تین صندوق
رکھی ہیں پہلا صندوق چھوڑ کر دوسرا صندوق چھوڑ کر تیسرے صندوق کو کھولیں۔ وہاں تین
پرس رکھے ہیں پہلا پرس چھوڑ کر دوسرا پرس چھوڑ کر تیسرا پرس کھولیں ۔ ان میں تین
کاغذ رکھے ہیں پہلا کاغذ چھوڑ کر دوسرا کاغذ چھوڑ کر تیسرا کاغذ کھولیں اس میں تین تصویریں رکھی ہیں پہلی دوسری تصویر
چھوڑ کر تیسری تصویر میری مرحوم بیوی کی ہے جس سے میں بے حد پیار کرتا ہوں میں اس
کی قسم کھا کر کہتا ہوں میں نے چوروں کو نہیں دیکھا"۔