اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 22 May 2008 06:50:00

سامری جادوگر اور ماریہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سامری جادوگر اور ماریہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

                          بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کہ کسی ملک پر ایک نیک اور رحمدل بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام عمر تھا۔ بادشاہ عمر اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا اسی وجہ سے رعایا بھی بادشاہ سے بہت پیار کرتی اور ہمیشہ اس کی سلامتی کے لیے دعا گو رہتی۔ بادشاہ عمر کی صرف ایک ہی بیٹی تھی۔ جس کا نام عمبرین تھا بادشاہ اپنی بیٹی سے بے انتہا پیار کرتا تھا۔ ویسے تو بادشاہ ہر وقت خوش ہی رہتا لیکن پچھلے کچھ دنوں سے وہ انتہائی پریشان تھا۔ دراصل بات یہ ہے کہ ایک دن بادشاہ اپنے خوبصورت باغ میں بیٹھا ہوا قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ وزیر اعظم بوکھلایا ہوا ان کے پاس آیا۔

" بب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بادشاہ سلامت! محل کی تمام عورتیں یعنی  نوکرانیاں ، ملکہ اور شہزادی عمبرین غائب ہیں"۔ وزیر اعظم نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔

"کک ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا کہہ رہے ہو؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ بادشاہ وزیر اعظم کی بات سن کر بوکھلا سا گیا"

"یہ ہو چکا ہے بادشاہ سلامت! وزیر اعظم نے کہا۔ اورپھر اس کے پہلے کہ بادشاہ کوئی بات کرتا۔  ایک سپہ سالار اندر داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر بھی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔ "بب ۔ ۔ ۔ ۔ بادشاہ سلامت! ملک کی تمام عورتیں یعنی بچیاں ، جوان اور بوڑھیاں غائب ہیں"۔  سپہ سالار نے کہا اور بادشاہ کا دماغ بھک سے اڑ گیا"۔

"یہ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تم سب کیا کہہ رہے ہو؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے!" بادشاہ نے یقین نہ آنیوالے لہجے میں کہا۔

" اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو باہر نکل کر خود دیکھ لیں۔ لوگ تو پاگل ہو گئے ہیں۔ واقعی بات بھی ایسی ہے کہ یقین نہیں آتا"۔ سپہ سالار نے کہا۔

آج تیسرا دن تھا اور بادشاہ کو یہ بھی پتہ چل چکا تھا کہ اس کے ملک کی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی عورتیں پراسرار طور پر غائب ہیں۔ پوری دنیا اپنی اپنی سر توڑ کوششوں میں مصروف تھی۔ بادشاہ عمر کا تو مارے پریشانی کے برا حال تھا۔ اس وقت بھی وہ اپنی سوچوں میں ڈوبا ہوا محل کے باغ میں بیٹھا تھا کہ اچانک وہاں سپہ سالار آگیا۔ اس کے چہرے پر حیرت کے آثار موجود تھے۔

"بادشاہ سلامت! میں ایک عجیب خبر لے کر آیا ہوں" سپہ سالار بولا

"کون سی خبر؟ جلدی بتاؤ" بادشاہ بے قرار ہو کر بولا۔ف

"بادشاہ سلامت! ویسے تو پوری دنیا کی عورتیں پراسرار طور پر غائب ہو گئی ہیں۔ مگر ایک لڑکی جس کی عمر اٹھارہ سال ہے غائب نہیں ہوئی ہے۔ پتہ نہیں اس کی کیا وجہ ہے، حالانکہ پوری دنیا کی عورتیں خواہ وہ بچیاں ہوں جوان ہوں یا بوڑھیاں غائب ہیں۔ مگر پتہ نہیں وہ لڑکی کسیے بچ گئی۔" سپہ سالار نے کہا اور بادشاہ عمر اس کی بات سن کر چونک پڑا۔

"تم اس لڑکی کو ہمارے پاس لا سکتے ہو؟" بادشاہ عمر نے کہا۔

"جی ہاں! کیوں نہیں، وہ لڑکی ہمارے ہی ملک کی رہنے والی ہے۔ سپہ سالار نے کہا اور پھر وہاں سے چلا گیا۔ چار گھنٹوں کے بعد جب وہ واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک خوبصورت لڑکی اور ایک نوجوان تھا۔

"تو یہ ہے وہ لڑکی!" بادشاہ نے لڑکی کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا "لڑکی! تم بھی جانتی ہو کہ پوری دنیا کی عورتیں پراسرار طور پر غائب ہو گئی ہیں۔ مگر تم واحد عورت ہو جو غائب نہیں ہوئی ہو۔ کیا تم ہمیں اس کی وجہ بتا سکتے ہو؟" بادشاہ نے کہا

"میں کیا کہہ سکتی ہوں، میں تو خود حیران ہوں کہ میں کیسے بچ گئی؟" لڑکی نے بادشاہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

" تم میں کوئی ایسی خوبی جو باقی دوسری عورتوں میں نہ ہو؟" بادشاہ نے پوچھا

 

"خوبی! میں تو تماشا کرنے والی عورت ہوں مجھ میں یہی خوبی ہو سکتی ہے کہ میں مختلف قسم کے کرتب دکھا سکتی ہوں، ایسے کرتب جو لوگوں کو حیران و پریشان کر دیں۔ اس لڑکی نے کہا

"تم یہ بتاؤ کہ کیا تم کوئی ایسا کام کرتی ہو جو باقی عورتیں نہیں کرتیں"۔ بادشاہ نے سوچتے ہوئے پوچھا

"اگر میں آپ کو بتا دوں تو آپ مجھے کچھ کہیں گے تو نہیں" لڑکی نے کچھ دیر سوچ کر کہا

"نہیں، ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے" بادشاہ نے کہا۔

"تو پھر سنیے! میں نے چار سال شیطان کی پوجا کی ہے۔ جس کی وجہ سے مجھ میں پر اسرار قوتیں اور جادو آگئے ہیں۔ اور انہی جادو کو میں کرتب کی صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتی ہوں۔ اور خوب پیسہ کماتی ہوں۔"  اسی وجہ سے شاید تم غائب نہیں ہوئی۔ اگر ہم تمہیں غائب ہونے والی عورتوں کا پتہ لگانے کے لیے کہیں تو کیا تم یہ کام کر سکتی ہو۔" بادشاہ عمر نے سوال کیا اور لڑکی سوچ میں پڑ گئی۔"

"ٹھیک ہے ۔ اگر میں آپ کا کام کردوں تو آپ مجھے کیا دیں گے"۔

"جو تم چاہووہی دیں گے۔ اور یہ ہمارا وعدہ ہے۔" بادشاہ عمر نے وعدہ کرتے ہوئے کہا۔

"ٹھیک ہے میں اپنی پوری کوشش کروں گی۔" لڑکی نے کہا اور پھر اس نے جانا چاہا۔

بادشاہ عمر نے اس سے اس کا نام پوچھا۔ "میرا نام ماریہ ہے اور یہ میرا ساتھی راحیل  ہے"۔  اس لڑکی نے اپنا اور اپنے ساتھی کا نام بتاتے ہوئے کہا۔ اور پھر وہ واپس اپنے گھر آگئے۔

"تم ان عورتوں کو کیسے تلاش کروگی؟" راحیل نے حیرت سے پوچھا۔

"کوشش کرتی ہوں، شاید کامیاب ہو جائیں۔ ماریہ نے کہا اور پھرراحیل کے ساتھ قبرستان کی طرف چلی گئی۔ قبرستان کے ایک آخری حصے میں پہنچ کر وہ رک گئے۔ ماریہ نے راحیل کو اشارہ کیا تو وہ ذرا فاصلے پر موجود جھاڑیوں کے درمیان جا کر چھپ گیا۔

ماریہ نے اپنے تھیلے میں سے ایک کھوپڑی نکال کرسامنے رکھید ح اور پھر دھونی تیار کر کے اس کے سر پر چکر لگانے لگی۔ جب سات چکر مکمل ہو گئے تو اس نے دھونی ایک طرف رکھ دی اور پھر منتر پڑھنے میں مصروف ہو گئی۔  جوں جوں وہ منتر پڑھتی جا رہی تھی۔ ماحول زیادہ پر اسرار اور طلسمی ہوتا جا رہا تھا۔ تقریبا آدھا گھنٹہ اسی طرح گزر گیا۔ پھر ماریہ نے ایک قبر کی طرف پھونک ماری اور قبر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ اگلے ہی لمحے اس میں سے ایک ڈھانچہ باہر نکل آیا۔ وہ ماریہ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔ راحیل دور بیٹھا یہ تماشا دیکھ رہا تھا اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اس سے پہلے بھی اس نے ڈھانچوں کو دو تین بار دیکھا تھا مگر اس ڈھانچے کی شکل ہی اتنی ڈراؤنی تھی کہ ہر بار دل بے اختیار دھڑکنے لگتا۔ اور اوپر سے اس نے کالا کفن پہنا ہوا تھا۔

"ہم جانتے ہیں کہ تم یہاں کیوں آئی ہو۔ اگر چار سال تم نے ہماری عبادت نہ کی ہوتی تو آج تم بھی پر اسرار طور پر غائب ہوتی۔ میں تمہیں نصحیت کرتا ہوں کہ اس فیصلے سے باز آجاؤ۔  اور ان عورتوں کا سراغ لگانے کی کوشش نہ کرو۔  ۔ ۔ ۔ ۔ " ڈھانچے نے کہا۔

"نہیں آقا! میں نے بادشاہ سے وعدہ کیا ہے  اور اب میں ہر صورت میں ان عورتوں کا سراغ لگاؤں گی ۔ " ماریہ نے کہا۔

"سوچ لو!" اگر میں نے تمہیں بتا دیا تو تمہیں اس صورت میں اپنی تمام تر جادوئی اور پراسرار قوتوں سے محروم ہونا پڑے گا۔۔" ڈھانچے نے کہا اور ماریہ دھک سی رہ گئی۔ لیکن پھر وہ سوچ کر بولی

'ٹھیک ہے۔ مجھے منظور ہے۔ میں نے جو چار سال آپ کی عبادت کی ہے اس کے بدلے آپ مجھے سب کچھ بتا دیں۔" ماریہ نے کہا

"ٹھیک ہے جیسا تم چاہتی ہو ویسا ہی ہوگا۔  مجھے صرف اتنا پتہ ہے کہ اس وقت دنیا کی تمام عورتیں جادوگر سامری کی قید میں ہیں۔ اس نے عورتوں کو کیوں حاصل کیا ہے، کس لیے حاصل کیا ہے میں اس کے متعلق کچھ نہیں جانتا اور نہ ہی سامری جادوگر کے ٹھکانے کے بارے میں جانتا ہوں۔ میں تمہیں ایک انسان کا پتہ بتاتا ہوں، جو شاید تمہیں اس سامری کے بچے کا پتہ بتا دے۔"

ڈھانچے نے کہا اور پھر اس نے اس انسان کا پتہ بتا دیا۔ جسے سن کر ماریہ حیران ہوئے بغیر نہ رہ پائی۔

" ٹھیک ہے۔ تو پھر میں وہاں جاتی ہوں"۔  ماریہ نے کہا اور پھر کالا ڈھانچہ قبر میں واپس جا کر غائب ہو گیا اور ساتھ ہی قبر اپنی پہلی والی اصل حالت میں آ گئی۔

"کیا بتایا اس ڈھانچے نے؟" راحیل نے ماریہ کے قریب آکر پوچھا جو کہ سامان تھیلے میں واپس ڈال رہی تھی۔ ماریہ نے اسے مختصر طور پر سب کچھ بتا دیا، چونکہ راحیل ماریہ سے کافی فاصلے پر موجود تھا اس لیے وہ ان دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سن نہ پایا تھا۔وہ دونوں واپس گھر آگئے۔ گھر آکر انہوں نے ضروری ہتھیار تھیلے میں ڈالے اور گھوڑوں پر سوار ہو کر ایک طرف کو نکل پڑے۔ وہ کافی دیر تک یونہی گھوڑوں پر سفر کرتے رہے اور بالآخر رات ہو گئی۔ رات کے تقریباََ گیارہ بجے وہ ایک پہاڑی کے قریب پہنچ کر رک گئے۔ انہوں نے گھوڑے ایک درخت کے نیچے باندھے اور پھر ایک گھنے سے درخت کی اوٹ میں چھپ کر بارہ بجنے کا انتظار کرنے لگے۔ چاند کی روشنی بلب کی طرح چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی اور دور دور تک آبادی کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔

جب بارہ بجے تو انہوں نے سامنے موجود زمین کو پھٹتے دیکھا  اور پھر اس میں سے ایک پودا باہر نکلا۔  جب پودے کا قدر ایک فٹ کے قریب پہنچ گیا تو مزید باہر نکلنا بند ہو گیا۔ اور پھر اچانک پودے کو ایک زبردست جھٹکا لگا۔ اور وہ اکھڑ کر ایک طرف جا گرا۔ جب پودا ایک طرف جا گرا تو پودے کی جڑ کے پاس ایک شلجم تھا۔

جب چاند کی روشنی اس شلجم پر پڑی تو وہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور اس میں سے ایک نہایت چھوٹا سا بونا نکل کر باہر آیا۔ جب چاند کی روشنی اس بونے پر پڑنا شروع ہوئی تو اس بونے کا قد بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ عام انسان کے قد کے برابر پہنچ کر رک گیا۔ اب وہ ایک انسان دکھائی دے رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں ایک پر اسراری چمک موجود تھی۔

ماریہ نے راحیل کو اشارہ کیا اور دونوں درخت کی اوٹ سے نکل کر اس انسان کے سامنے آگئے۔ بونے نے جونہی ان دونوں کو دیکھا تو چونک پڑا۔

"کک ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کون ہو تم دونوں؟" وہ بوکھلا سا گیا تھا۔

"ہم انسان ہیں اور خوف مت کھاؤ، ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔ ہم تمہارے پاس ایک ضروری کام سے آئے ہیں اور اگر تم نے ہمارا یہ کام کر دیا تو یہ تمہارا پورا دنیا پر احسان ہو گا۔"

ماریہ نے انتہائی میٹھے لہجے میں کہا۔

"پہلے یہ بتاؤ کہ تمہیں یہاں کا پتہ کس نے دیا اور تم میرے بارے میں کیسے جانتے ہو؟"  اس نے حیرت سے پوچھا اور ماریہ نے اسے سب کچھ بتا دیا۔ جسے سن کر وہ سوچ میں پڑ گیا۔

" میں ایک صورت میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں"۔ اس نے کہا

"کون سی صورت!" ماریہ نے پوچھا

"تم میرا ذکر کسی اور انسان سے نہ کرو گے" اس نے کہا

" ٹھیک ہے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمہارا ذکر کسی تیسرے سے نہ کریں گے"۔ راحیل نے وعدہ کرتے ہوئے کہا۔

بونے نے اپنی اور ان کی آنکھیں بند کروائیں ۔ کچھ دیر بعد ان سے آنکھیں کھولنے کو کہا تو انہوں نے آنکھیں کھولتے دیکھا کہ وہ کسی محل کے سامنے کھڑے ہیں۔ بونے نے کہا یہی ہے سامری جادوگر کا ٹھکانہ ۔

" تم ا سکی آنکھوں میں آنکھیں مت ڈالنا۔ کیونکہ اس کی آنکھوں سے آنکھیں ملتے ہی تم اس کے غلام بن جاؤ گے اور پھر کبھی رہائی نہ پا سکوگے۔ اور ایک بات اس کو ختم کرنے کےلیے تمہیں اس کے سر کے تمام بال جلانے ہوں گے تا کہ اس کا جادو تم لوگوں پر اثر نہ کر سکے۔" اتنا کہہ کر بونا وہاں سے چلا گیا۔

ماریہ اور راحیل محل میں داخل ہوئے محل میں کوئی نوکر نہ تھا۔ ایک بڑے سے کمرے میں انہوں نے سامری جادوگر کو بیٹھے ہوئے دیکھا ۔ راحیل نے چپکے سے سامری کے پیچھے جلتی ہوئی مشیعل اس کے بالوں پر پھینک دی اور سامری کے تمام بال جل گئے پھر اتنی ہی پھرتی سے اس پر وار کر کے اس کا سر قلم کر دیا۔  سامری جادوگر کے مرتے ہی محل غائب ہو گیا۔

تمام عورتوں اپنی اپنی جگہ (جہاں سے وہ غائب ہوئیں تھیں) واپس پہنچ گئیں۔

بادشاہ عمر بہت خوش ہوا اس نے محل میں ایک جشن کا اعلان کروایا جس میں ماریہ اور راحیل مہمان خصوصی تھے ۔ اس نے ماریہ اور راحیل کو نہ صرف انعام و اکرام سے نوازا بلکہ ان دونوں کی بڑی دھوم دھام سے شادی بھی کروائی۔

 






(Your Name) آپ کا نام
(E-mail Address) ای میل ایڈریس
(City or Country) شہر یا ملک کا نام
(Write your message here) یہاں لکھیں


  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier