ہاشم صاحب ایک
چھوٹےسے گاؤں میں رہتے تھے۔ پیشے کے اعتبارسے وہ بھی ایک زمیندار ہی تھے ۔ ان کے
پاس اتنی زیادہ زمینیں تو نہ تھیں لیکن پھر بھی ان کا پرانا گھر خاصا بڑا تھا۔ اسی
مکان کے صحن میں ایک طرف کاٹھ کباڑ کا کمرہ تھا۔ جوخاصا بڑا کمرہ تھا جس میں کاٹھ
کباڑ بھرا رہتا تھا، گھر میں جو چیز خراب ہوتی یا جس چیز کی ضرورت نہ محسوس کی
جاتی اسے اس کمرے میں پھینک دیا جاتا۔
راجہ نہ جانے
کتنے سالوں سے اسی کمرے میں بیکار پڑا ہوا تھا۔ اس بیچارے کی پیٹھ پر خاصی موٹی
موٹی کتابوں کو بوجھ لاد دیا گیا تھا۔ نہ جانے کن بیکار چیزوں سے بھرا بیگ اس کی
گردن میں لٹکا دیا گیا تھا۔ راجہ دراصل ایک لکڑی کا بہت خوبصورت جھولا جھولنے والا
گھوڑا تھا ، کبھی وہ بہت صاف ستھرا ہوا کرتا تھا لیکن اب اتنےسالوں سے سٹور میں
پڑے رہنے کی وجہ سے اس پر کافی موٹی گرد جم چکی تھی اور اس کے رنگ بھی ماند پڑ گئے تھے۔
اس کے قریب
ہی لکڑی کی پرانی درازوں پر موجی بیٹھا تھا۔ موجی پلاسٹک کا ایک ایسا بڑا گڈا تھا
جس نے نیوی کےایک سیلر یعنی ملاح کی وردی پہن رکھی تھی اور سر پر ٹوپی بھی تھی وہ
سچ مچ چھوٹا سا سیلر لگ رہا تھا۔ لیکن وہ بھی کئی برسوں سے اس کمرے میں پڑا تھا جس
وجہ سے اس پر بھی کافی گرد جمی ہوئی تھی۔
ایک روز راجہ اس سے
کہہ رہا تھا، "میں تو دھول مٹی سے اٹے اس کمرے میں رہتے رہتے بیزار ہو گیا
ہوں اب تو یہاں کافی جالے بھی لگ گئے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "پھر اس نے ایک ٹھنڈی
سانس لی اور بولا "موجی ! تمہیں یاد ہے کبھی ہم گھر کے بڑے بڑے کمروں میں
رہتے تھے، دانیال اور رانی ہمارے مالک تھے ۔ وہ دونوں بہن بھائی ہمارے ساتھ کھیلا
کرتے تھے کتنا مزہ آتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ کیا وقت تھا وہ بھی ۔ ۔ ۔ ۔ پھر وہ ذرا سے بڑے
ہوئے تو انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا اور کچھ دنوں بعد ہمیں بیکار سمجھ کر اس کاٹھ کباڑ
والے کمرے میں پھینک دیا۔ اس کے بعد کسی نہ ہماری خبر ہی نہیں لی۔ یہاں پڑے پڑے
میرے جوڑوں میں درد ہونے لگا ہے۔
موجی دکھ بھرے
لہجے میں بولا " ہاں بھئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ انسان ایسے ہی بے رحم ہوتے ہیں۔ انہیں جب کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی تو
ایسے ہی کاٹھ کباڑ والے کمرے میں پھینک دیتے ہیں ، اور پھر دوبارہ اس کی خبر تک
نہیں لیتے"۔ " شاید دانیال اور رانی اب اس گھر میں نہیں رہتے" ۔ ۔
۔ ۔ ۔ "راجہ نے سوچتے ہوئے کہا "اب گھر میں خاموشی محسوس ہوتی ہے، زیادہ
آوازیں سنائی نہیں دیتیں۔
"ہاں بھئی" ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمیں تو کچھ معلوم ہی نہیں
کہ باہر کیا ہو رہا ہے، باہر کی دنیا سے تو ہمارا تعلق ہی ٹوٹ گیا ہے۔ "موجی
حسرت بھرے لہجے میں بولا"۔
اس دوران اچانک چڑچڑاہٹ کی آوازیں ابھریں اور
دونوں چونک اٹھے، اسٹور روم کا دروازہ کھل رہا تھا۔ وہ دونوں خاموش ہو کر دیکھنے
لگے، گھر کا پرانا نوکر جان محمد اندر آرہا تھا۔ وہ سیدھا راجہ کے پاس آیا اس کی
پیٹھ پر سے کتابوں کا بوجھ ہٹایا گلے میں جھولتے بیگ کو اتارا اور اچھی طرح چھاڑ
پونچھ کرنے کے بعد اس کو گود میں اٹھا کر باہر کی طرف چل دیا۔ راجہ کو اٹھانے میں
اسے بڑی مشکل ہو رہی تھی کیونکہ اب وہ بوڑھا ہو چکا تھا۔ راجہ حیران تھا کہ جان
محمد اسے اٹھا کر کہاں لے جا رہا ہے ۔ وہ اسے گھر کے بڑے کمرے میں لے آیا جہاں
دانیال اور رانی کی دادی اماں کھڑی تھیں۔ وہ تو پہلے ہی بوڑھی تھیں، لیکن راجہ کو
اب اور زیادہ بوڑھی لگیں۔ جان محمد نے اسے فرش پر بیٹھا دیا اور اپنی پیشانی سے
پسینہ صاف کرتے ہوئے کہنے لگا، " بی بی جی! یہ گھوڑا تو اب بھی نیا لگ رہا
ہے"۔
"ہاں ۔
۔ ۔ ۔ ۔ دادی اماں مسکراتے ہوئے کھوئے کھوئے سے لہجے میں بولیں۔" دانیال اور
رانی کتنے شوق سے اس کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ وہ دونوں ہی لکڑی کے اس بے جان گھوڑے
سے بہت محبت کرتے تھے"۔ یہ سن کر راجہ کو وہ وقت یاد آگیا جب وہ ان دونوں
بہن بھائیوں کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو ان کا سب سے قریبی دوست سمجھتا
تھا۔ وہ دن یاد کر کے راجہ کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے۔ دادی اماں چونک کر جان
محمد سے بولیں " ارے ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ اس گڈے کو بھی تو لے کر آؤ جسے رانی بڑے
پیارے سےموجی بلایا کرتی تھی"۔
جان محمد نے
سر ہلایا اور ایک بار پھر اسٹور روم کی طرف چلا گیا، تھوڑی دیر بعد موجی بھی اس
کمرے میں راجہ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ دونوں کو کچھ اور اچھی طرح کے ساتھ صاف کیا گیا
جس کے بعد وہ دونوں اپنے آپ کو تازہ دم محسوس کرنے لگے۔ اس کے بعد انہیں حفاظت سے
ایک کپڑے میں لپیٹ کر ایک گتے میں پیک کر دیا گیا۔ ڈبے میں ایک چھوٹا سا سوراخ
تھا، موجی اس سے آنکھ لگائے باہر دیکھ رہا تھا اور کرکٹ کی کمنٹری کے انداز میں
راجہ کو بتا رہا تھا۔ "اب ہمیں ایک گاڑی میں رکھا جارہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب
ہمیں ٹرین کے سامان والے خانے میں رکھ دیا گیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔" پھر باہر سے آنے
والی آوازوں سے انہیں اندازہ سا ہوا کہ وہ ٹرین میں سفر کر رہے ہیں۔ دونوں حیران
تھے کہ انہیں کہاں بھیجا جا رہا ہے انکی سمجھ میں کھچ نہیں آرہا تھا۔
ان کا
سفر کافی لمبا ثابت ہوا۔ بالآخر انہیں ایک بار پھر کسی گاڑی میں رکھا گیا۔ اب
راجہ نے بھی ڈبے میں ایک سوراخ تلاش کر لیا تھا اور وہ اس سے آنکھ لگا کر باہر
دیکھ رہا تھا۔ باہر سے اونچی اونچی عمارتیں اوربہت زیادہ ٹریفک نظر آرہا تھا ۔
دھواں اتنا زیادہ تھا کہ ان کے کاٹن میں بھی گھس گیا تھا۔ راجہ گھبرا کر بولا،
موجی میاں ! یہ ہم کہاں آگئے؟ ہمیں کہاں
بھیج دیا گیا ہے؟
"راجہ
بھیا ! مجھے تو یہ کراچی لگ رہا ہے۔ میں نے سنا تھا کہ وہاں بہت اونچی اونچی
عمارتیں ہیں اور سڑکوں پر دھواں بھی بہت ہوتا ہے۔ لوگ تیزی سے گاڑیاں دوڑاتے پھرتے
ہیں۔ یہ ساری باتیں تو یہاں نظرآ رہی ہیں۔ "موجی بولا"
"لیکن معلوم نہیں ہمیں یہاں کیوں
بھیجا گیا ہے۔ کہیں ہمیں افسوس نہ ہو کہ اس سے تو ہم اسٹور روم میں ہی بہتر
تھے"۔ " راجہ کچھ پریشان ہو کر بولا"
آخر کار
گاڑی کسی صاف ستھرے علاقے میں ایک خوبصورت
مکان کے سامنے جا رُکی۔ ڈبے کو مکان کے اندر لے جا کر کھول دیا گیا۔ اب راجہ اور موجی ایک بڑے سےکمرے میں کھڑے تھے
اور بہت سے اجنبی لوگ ان کے اردگرد جمع تھے یہ تمام لوگ راجہ اور موجی کے لیے
اجنبی تھے۔ لیکن لوگ انہیں بہت ہی محبت اور شوق سے دیکھ رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد ایک
عورت آگے بڑھی۔ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس نے راجہ کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور
خوشی سے کانپتی آواز میں بولی " ہائے اللہ ! میرا راجہ آج بھی ویسا ہی ہے،
جیسا اس وقت تھا جب میں اس پر جھولا جھولتی تھی۔ میرے بچپن کی کتنی ساری یادیں اس
سے جڑی ہوئی ہیں۔ شکر ہے کہ دادی اماں نے اسے میری خواہش پر میرے پاس بھیج دیا۔ ۔
۔ ۔ ۔ " پھر اس نے ایک بازو موجی کے گرد لپیٹے ہوئے کہا "اوہ یہ میرا
پیارا گڈا موجی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بھی مجھے بہت یاد آتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب میرے بچے
ان سے کھیلیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "
قریب ہی ایک لڑکا اور لڑکی کھڑے تھے جو تقریبا اسی عمر کے تھے جس عمر میں
دانیال اور رانی ان کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔
اب راجہ اور موجی نے اس عورت کو پہچان لیا۔ وہ رانی تھی جو اب دو بچوں کی
ماں تھی۔ مگر جس طرح اس نے اپنے بچپن کے کھلونوں راجہ اور موجی کو اپنے پاس منگوایا
تھا اور انہیں گلے لگا کر پیار کر رہی تھی
اس سے راجہ اور موجی کو اندازہ ہوا کہ انسان اتنے بھی خودغرض نہیں جتنا وہ
سمجھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ مگر یہ خوشی کے آنسو تھے جنہیں
کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ راجہ اور موجی چاہتے بھی یہی تھے کہ انہیں روتے ،
ہنستے اور باتیں کرتے کوئی نہ دیکھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کیونکہ انسانوں کے سامنے تو وہ بے
جان کھلونے تھے۔!