اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Wed, 30 Apr 2008 02:04:00

میٹھے جوتے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میٹھے جوتے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 
آپ کو اپنی زندگی کا ایک بہت ہی خوبصورت اور مزیدار واقعہ سناتی ہوں جو آج بھی ذہن میں تازہ ہےاور جب بھی اس کے بارے میں سوچتے ہیں توہونٹوں پر اپنے آپ ہی مسکراہٹیں پھیل جاتی ہیں۔

           ہوا کچھ یوں کہ ایک دفعہ  اسکول جاتے ہوئے ہم نےدیکھا کہ چھوٹی بہن صاحبہ کچھ کھانے میں مصروف عمل ہیں ۔ اسکول میں بھی ہماری ان سے ملاقات ہوئی تو بھی وہ کچھ کھانے میں ہی مصروف تھیں۔ سکول سے واپسی پر بھی ان کو اسی عمل میں مصروف دیکھا تو ہم سے رہا نہ گیا ، ہمارے دل بھی کھانے کو للچایا ۔  چھوٹی بہنا ! آپ صبح سے کیا کھانے میں مصروف ہیں؟ ہم نے نہایت بے چینی سے پوچھا تو چھوٹی بہنا بولیں ! "میں میٹھے جوتے کھا رہی ہوں"

  "کیا؟" میرے منہ سے بے تحاشا نکل آیا ، ہاں جو خالہ ہمارے گھر آئی ہوئی ہیں میں نے ان کی الماری میں دیکھا کہ میٹھے جوتوں کی شکل کی  جیلی پڑی ہوئیں ہیں ۔ میں نے ایک جوتا اپنے بیگ میں رکھ لی تھی صبح سے وہی کھا رہی ہوں، چھوٹی بہن نے ایک ہی سانس میں سب کچھ اگل دیا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی ہم نے سب سے پہلے بیگ رکھا اور خالہ جان کے کمرے کی طرف روانہ ہوئے ، اس وقت خالہ جان اپنے کمرے میں موجود نہ تھیں ۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے الماری کھولی ، پوری الماری چھان ماری لیکن ہمیں وہاں کوئی جوتوں کی شکل کی جیلی تو دور کوئی اور جیلی بھی نہ ملی ۔ ہم دوڑتے ہوئے چھوٹی بہنا کے پاس پہنچے اور اسے بتایا کہ الماری میں تو کسی بھی قیسم کی کوئی جیلی نہیں ہے تو وہ شرارت سے بولی "ویسے امی جان کے جوتے بھی بہت میٹھے ہوتے ہیں چاہیں تو وہ کھا لیں"۔ ہم نے بہن کی بات سنی اور سمجھے بغیر ہی جھٹ سے امی کے کمرے میں جا ٹپکے ان کی الماری کھولی تو سامنے ہی جوتوں کومنتظر پایا ۔ پھر کیا تھا جوتے دیکھتے ہی انہیں چبانا شروع کردیا۔ لیکن وہ سخت بدمزہ تھے اور جس طرح بہن سکول میں اور سکول سے واپسی پر  کھا رہی تھی اس سے تو لگتا تھا کہ اس نے جو جیلی کھائی ہے وہ بہت مزے کی ہے ۔ خیر ابھی ہم جوتے چبا ہی رہے تھے کہ اچانک ایک آواز ہماری سماعت میں گونجی ۔ آرے کمبخت! کیا کر رہے ہو؟ کھانے سے پیٹ نہیں بھرتا جو جوتے کھا رہے ہو۔ امی کو سامنے دیکھ کر میرے تو ہوش ہی اڑ گئے اور امی کا چہرہ بھی غصے سے لال پیلا ہورہا تھا۔ میں فوراََ بولا نہیں امی! وہ چھوٹی بہن نے کہا کہ خالہ کی الماری میں جو جوتے رکھے تھے وہ میٹھے تھے اور وہ سب کے سب بہنا کھا گئی۔ میں نے سوچا ہو سکتا ہے کہ آپ کے بھی جوتے میٹھے ہوں اس لیے آپ کے جوتے کھانے آگئی " چھوٹی بہن جو کہے گی جو کرے گی وہی کروگی " امی غصے سے بولیں۔ ہماری نظر اچانک ہی چھوٹی بہن کی طرف چلی گئی جو پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی سے دوہری ہو رہی تھی ۔ اور آنٹی بھی سامنےسے تمام نظارہ دیکھ اور سن رہی تھیں۔ خیر آنٹی کی وجہ سے وہ دن تو خیریت سے گزر گیا اور رات بھی سکون کی گزری۔ لیکن دوسرے دن اٹھے تو آنٹی گھر میں موجود نہ تھیں ، سکول سے واپس آئے تو چھوٹی بہن پھر سے منہ چلا رہی تھی، دوسرا جوتا جو کھا رہی تھی۔ چونکہ ہمیں آنٹی کی الماری سے کوئی جوتا تو نہ ملا اور ہم میٹھے جوتے سے تسکین حاصل نہ کر سکے البتہ دوسرے جوتے خوب کھانے کو ملے۔






(Your Name) آپ کا نام
(E-mail Address) ای میل ایڈریس
(City or Country) شہر یا ملک کا نام
(Write your message here) یہاں لکھیں


  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier