اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Wed, 30 Apr 2008 02:02:00

بہرے نے کی عیادت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بہرے نے کی عیادت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

                       ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ تہران میں ایک بہرا "اشرف" رہتا تھا ، جو اونچا سنتا تھا۔ ایک دفعہ اس کا دوست انور بیمار پڑ گیا۔ دور دور سے  لو گ اس کے انور کا پتہ لینے آئے لیکن ابھی تک اشرف ا انور کا پتہ نہ لینے آیا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جانتا تھا کہ بیمار سے نہ تو زیادہ اونچی آواز میں بات کرتے ہیں اور نہ ہی بیمار سے اونچا بولا جاتا ہے جبکہ اسے تو اونچا سننے کی عادت تھی اور اس نے کیا کہا ہے یہ سننے کے لیے اسے اونچا بولنا بھی پڑتا تھا۔ دونوں باتیں ہی مریض کی عیادت کےلیے جانے میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔

           ایک دن اس نے سوچا کہ اسے بھی انور کی عیادت کے لیے ضرور جانا چاہیے کیونکہ دوست کا بڑا حق ہوتا ہے۔ لیکن پھر اسے اپنی بیماری کا خیال آگیا ۔ اس نے سوچا کہ جب انسان کسی کی عیادت کو جاتا ہے تو عموماََ ایک ہی طرح کے سوال ہوتے ہیں۔ یعنی پہلا سوال جو مریض سے پوچھا جاتا ہے کہ "اب آپ کسیے ہیں؟ اور مریض بھی عموماََ ایک ہی جواب دیتا ہے "پہلے سے بہتر ہوں" اس نے سوچا کہ جب میں انور سے  ملوں گا توپہلا سوال کروں گا کہ "اب آپ کسیے ہیں؟ تو وہ بھی یہی جواب دے گا "پہلے سے بہتر ہوں" تو میں  کہوں گا "خدا کا لاکھ لاکھ بار شکر ہے" ۔ مریض سے دوسرا سوال عموماََ یہی ہوتا ہے "کونسےسے حکیم سے علاج کروا رہے ہیں" ظاہر ہے مریض کسی مشہور اور مہنگے حکیم یا ڈاکٹر کا ہی نام لے گا کہ فلاں سے علاج کروا رہا ہوں" اور پھر میں کہوں گا " بہت بہتر وہ بہت ہی اچھے اور قابل حکیم ہین ان سے علاج کرواتے رہیے گا انشاء اللہ جلد فیض یاب ہو جائیں گے۔ اور تیسرا سوال " کونسی سی غذ ا استعمال کر رہے ہیں" بیماری کی حالت میں مریض کو عموماََ نرم اور ذود ہضم غذا دی جاتی ہے مثلا دلیہ سویاں وغیرہ ، ہاں ! انور بھی یہی کہے گا کہ صرف دلیہ ہی لینے کو کہا ہے " تب میں جواب دوں گا "ہاں ! بڑی اچھی غذا ہے اس کو کھاتے رہنا ، مرچ مسالےوالےکھانے کھانے سے ویسے بھی طبعیت ٹھیک نہیں رہتی" اشرف نے یہی  سوال ا پنے ذہن میں رکھے اور اپنے دوست انور کی عیادت کو چلا گیا ۔ لیکن وہاں معاملہ کچھ اور ہی ہو گیا ، جیسا اشرف نے سوچا تھا اس سے مختلف ، ہوا کچھ یوں کہ  جب اشرف اپنے دوست کے گھر پہنچا تو اس وقت اس کی تکلیف شدت اختیار کر چکی تھی اور وہ درد سےکراہ  رہا تھا۔ دراصل انور کو ابھی تک اپنے دوست کی اس بیماری کے بارے میں علم نہیں تھا۔ جاتے ہیں اشرف نے پہلا سوال کیا،

" کیسے ہیں جناب آپ؟" انور جو تکلیف سے کراہ رہا تھا اور بیماری کی وجہ سے چڑچڑا بھی ہوگیا تھا کراہتے ہوئے بولا "مر رہا ہوں" اشرف نے وہی جواب دیا "خدا کا لاکھ لاکھ بار شکر ہے" انور اپنے دوست کا جواب سن کر حیران ہو گیا۔ اشرف نے فوراََ ہی دوسرا سوال داغا کس حکیم سے علاج کروا رہےہیں آپ؟ انور نے مزید کراہتے ہوئے کہا "عزرائیل علیہ السلام سے " بہرے اشرف نے فٹ جواب دیا "بہت خوب بہت ہی اچھے ، قابل اور مشہور حکیم ہیں، جو بھی ان کے زیر علاج ہوتا ہے ہمیشہ کےلیے تکلیف کو بھول جاتا ہے۔ میرا تو آپ کو مشورہ ہے کہ انہی سے علاج کرواتے رہنا تا کہ تمہیں بھی ہر طرح کی تکلیف سے ہمشیہ کی طرح نجات مل جائے۔  یہ سن کر تو انور اور بھی آگ بگولا ہو گیا ، سوچنے لگا کہ یہ میری خیریت دریافت کرنے آئے ہیں یا مجھے اگلے جہاں پہنچانے کے لیے۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اشرف  نے تیسرا سوال کر ڈالا۔ کونسی سی غذا استعمال کر رہے ہیں؟ انور جل کر بولا "زہر کھا رہا ہوں۔ ۔ ۔ زہر" اشرف بولا 'ماشاء اللہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑی ہی اچھی غذا استعمال رہے ہیں میرا تو مشورہ ہے کہ بلاناغہ اس غذا کا استعمال جاری رکھیں۔ انشاء اللہ تعالی اس غذا کے کھانے سے آپ کی بہت جلد ساری تکلیفیں رفع ہو جائیں گی۔"

اب تو انور کو سخت غصہ آیا اور کہنے لگا "خد اکسی دشمن کو بھی ایسا دوست نہ دے"۔ نہایت غصے کی حالت میں چیخ کر اشرف سے بولا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "خیریت چاہتے ہو تو ابھی اور اسی وقت میرے گھر سے دفع ہو جاؤ اور آئندہ کبھی میرے گھرآنے یا مجھ سے ملنے کی زحمت مت کرنا"۔






(Your Name) آپ کا نام
(E-mail Address) ای میل ایڈریس
(City or Country) شہر یا ملک کا نام
(Write your message here) یہاں لکھیں


  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier