|
اردو ٹائمز(نیوز) گلاسگو سنٹرل سے لیبر ممبر پارلیمنٹ محمد سرور نے دارالعلوم ہی فلسطین کے متعلق بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ مڈل ایسٹ کا تنازعہ اس وقت ایسے بڑے مسائل میں شامل ہیں جو دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کے ریزرویشن 242 میں پوشیدہ ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنا 40 سالہ نا کامیوں کی داستان ہے جس کی ذمہ داری پوری عالمی برادری خصوصاً امریکہ کو قبول کرنی چاہیے یہ بات واضح ہے کہ فلسطین ایک زبردست بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے جو نہ صرف سیاسی اور معاشی ہے بلکہ اب یہ انسانی بحران بھی بن گیا ہے۔ اسرائیل نے غزہ کی سرحدیں بن کر دی ہیں اور ایک دیوار بنا کر اس کا محاصرہ رکھا ہے در حقیقت اس نے غزہ کو 1.5 ملین لوگوں کی ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے علاقے میں ایندھن ، پٹرول ، بجلی کی باقاعدہ فراہمی اور ضروری ادویات دستیاب ہیں، 75 فیصد سے زیادہ آبادی بے روزگار ہے اور 80 فیصد اقوام متحدہ کے فوڈ پروگرام پر انحصار کر رہی ہے، فلسطین کا سب سے بڑا ہسپتال الشفا نہایت ابتر حالت میں ہے اور ملازمین کو تنخواہیں تک نہیں مل رہی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے جن 450 دوائیوں کو ضروری قرار دیا ہے ان میں 130 ختم ہو چکی ہیں جبکہ دیگر 80 کاسٹاک تین ماہ سے کم ہے ، اسرائیلی محاصرہ کے باعث غزہ میں پٹرول کی قیمت یروشلم سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ غزہ کو بجلی صرف بارہ گھنٹے فراہم کی جاتی ہے چنانچہ ہسپتال مجبوراً جنریٹروں کا استعمال کر رہان ہے لیکن فیول کی کمی کی وجہ سے ایک دن وہ بھی بند ہو سکتے ہیں،ہسپتال کے ڈائریکٹرڈاکٹر حسن خلیفہ نے کہا ہے کہ جنریٹر بند ہونے کی صورت میں آدھے گھنٹے کے اندر اندر 80 مریضوں کی موت واقع ہو سکتی ہے جن میں ان کو بیٹر میں زیر علاج بچے بھی شامل ہیں، ہسپتال کو نہ صرف دوائیاں بلکہ ضروری مشینری اور سپیئر پارٹس بھی نہیں مل رہے، اسرائیلی فوجوں کی طرف غزہ پر روزانہ ہونے والے فضائی اور زمینی حملے اس کے علاوہ ہیں جن میں گھروں ، سکولوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ان حملوں میں اب تک سینکڑوں بے گناہ لوگ شہید ہو چکے ہیں ، ان حملوں سے پانی سپلائی کرنے والے پائپس کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور زمین پر پھیلنے والا گندہ پانی پمپوں کے ذریعے سمندر میں پھینکا جاتا ہے جس سے سمندری پانی آلودہ ہو گیا ہے اور فشنگ انڈسٹری تباہ ہو رہی ہے۔ فلسطین میں امن کا قیام کوئی نا ممکن خواب نہیں بشرطیکہ بین الاقوامی برادری اور تنازع کے دونوں متحارب فریق یہ محسوس کریں کہ انسانی جان چاہے وہ اسرائیلی ہوں یا فلسطینی یکساں طور پر بیش قیمت ہے، امن کے مشن کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے قدم کے طور پر اسرائیلی محاصرہ ختم کر دیں بنیادی اشیاءکی فراہمی کو بحال کیا جائے، لوگوں میں امن کی امید پیدا ہو اور پھر ایک منصفانہ سیاسی فیصلے کی کوشش کی جائے جس کے نتیجے میں اسرائیلی اور فلسطینی ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو امن کے ساتھ رہ سکیں۔ اگر فریقین امن کے متعلق سنجیدہ ہوں تو اس کا حل صرف مذاکرات ہیں، بمباری اور محاصرے سے مسائل صرف طویل ہو سکتے ہیں ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ اطراف میں امن قائم کرنے والوں کی مدد کریں، دونوں طرف انتہا پسندی ختم کریں، بین الاقوامی برادری خصوصاً امریکہ تین بنیادی اصولوں کو پیش نظر رکھیں۔ پہلے نمبر پر یہ کہ فلسطین، اسرائیل، لبنان میں بے گناہ افراد پر بم حملوں ، میزائلوں، قتل یا تشدد کی کسی بھی ذریعے استعمال کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی جائے بلکہ اس کی پوری قوت سے مذمت کرنی چاہیے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسرائیل کو اپنی تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر امن سے زندہ رہنے کا حق دیا جائے اور اس حق کو اس کے تمام ہمسائے ممالک تسلیم کریں، تیسری بات یہ کہ فلسطین اس قابل ہوں کہ وہ اپنی سر زمین پر بلا کسی خوف کے عزت اور امن کے ساتھ زندگی گزار سکیں، ہم کو چاہیے کہ فلسطین کو اپنی ضرورت کے ادارے قائم کرنے میں مدد دیں اور ان اداروں کی اسرائیل اور پوری عالمی برادری عزت کرے۔
|
|