اردو ٹائمز(نیوز) مےرا نام محمد تنوےرنےاز ہے مےں تحصےل منچن آباد کے گاﺅں مےں پےدا ہوا مجھے پےدائشی طور پر مثانے مےں پتھرےوں سے پالا پڑا اور اوائل عمری مےں سات سال تک گردوں مےں پتھری کی تکلےف سے دوچاررہا اور 1988ءمےں نے بےماری کے باوجود پانوےں جماعت مےں پانچ سکولوں مےں اول پوزےشن لی اور محکمہ تعلےم سے وظےفہ لےا اور 1989ءمےں اچانک مجھے گردن توڑ بخار ہوا تو مقامی ڈاکٹروں نے بذرےعہ آپرےشن پتھری نکلوانے کا کہا اس طرح 1989ءمےںمےرا پہلا کامےاب آپرےشن ہوا اور گردوں سے پتھری نکال دی گئی اس کے بعد مےں تقرےباََ تندرست ہو گےا مگر اچانک کھےل کے دوران مےرا بازو دو جگہ سے ٹوٹ گےا جو کم وبےش چھ ماہ مےرے لئے تکلےف کا باعث بنا رہا 1993ءمےں مےں اپنے سکول مےں پڑھ رہا تھا کہ مجھے شدےد سردرد ہوا مےں چھٹی لےکر گھر آگےا جب گھر آےا تو آہستہ آہستہ جسم پھولنا شروع ہو گےا آخرکار مےں بے ہوش ہو گےا مےرے والد صاحب مجھے مقامی ڈاکٹروں کے پاس لے کر گئے جنہوں نے مجھے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہےڈکواٹر ہسپتال بہاولنگر رےفر کےا جہاں چار گھنٹوں کے بعد رپورٹ دی کہ مےرے دونوں گردے ناکارہ ہوچکے ہےں اور مےرے پورے جسم مےں زہر پھےل چکا ہے اب صرف مےرے سانسوں کے ڈورے ٹوٹنے مےں صرف چھ گھنٹے باقی ہےں مگر ہونا تو وہ تھا جو خدا کو منظور تھا مجھے بزرےعہ اےمبولےنس شےخ زےد ہسپتال لاہور لاےا گےا جہاں پر مےرا پی۔ڈی(ڈاےالےزو¿سےز) ہوا اور مےن وہاں تےرہ دن بے ہوش رہا جب مجھے ہوش آےا تو ڈاکٹروں نے کہا کہ اسکا گردہ تبدےل کرواﺅ ےا اسے ساری زندگی ہسپتال رکھو، اس وقت خرچہ بھی کافی تھا اور گردہ تبدےل صرف کراچی ےا سی اےم، اےچ راولپنڈی مےں ہوتا تھا مےرے والد صاحب اوزان و پےمائش کی رےپئرنگ کرتے تھے گھر کی قےمتی چےزوں اور کچھ دوستوں سے لےکر 1994ءمےں مےرا گردہ تبدےل ہوا اور مےرے سگے چچا نے گردہ دےا مےں بالکل تندرست ہو گےا اور تعلےم دوبارہ شروع کردی مگر گردہ تبدےلی کے بعد مےڈےسن کی اور لےب ٹےسٹ کی ضرورت ہوتی ہے جو کم و بےش بےس ہزار ماہانہ کا تقرےباََ خرچ ہے جو کہ ےہ ادواےات تبدےل شدہ آرگن کو REJECTہونے سے بچاتی ہےں مےن وہ نہ لے سکا اور اس طرح 2000ءمےں مےرا تبدےل شدہ گردہ بھی ناکارہ ہو گےا اور مےں دوبارہ شےخ زےد ہسپتال لاہور داخل ہو گےا جب مےرے والد صاحب کو معلوم ہوا تو ان کے داماغ اور دل پر اثر ہوا اور پھربھی انہوں نے مےرا علاج جاری رکھا اور اپنا علاج نہ کرواےا اور مےرے دوسرے ٹرانسپلانٹکے لئے بھاگ دوڑ کرتے رہے اور اس طرح 2001ءکے آخر مےں مےرا دوسرا کامےاب ٹرانسپلانٹ ہوا اور بعد مےن علاج جارہ رہا اور آخر کار دو مئی 2003ءکو مےرے والد صاحب کو ہارٹ اٹےک ہوا اور اسی ہسپتال مےں وہ اللہ کو پےارے ہو گئے اسی شےخ زےد ہسپتال لاہورمےں وہ مجھےسات آٹھ دفع بے ہوش کو لے گئے اور وہ جےت جاتے تھے وہی اکےلے مےرے دکھوں کے ساتھی تھے جب مےرے باری آئی تو مےں ہار گےا مےں وہاں سے انہےں چلا کر باہر نہ لا سکا اس کے بعد مجھ پر اپنے علاج کے علاوہ اور بہت سی ذمہ دارےاں آن پڑی مجھ سے چھوٹے چار بھائی اور تےن بہنےں ہےں جن کا مےن واحدکفےل تھا مےں نے والد صاحب کے کام ےعنی اوزان و پےمائش کی رےپئرنگ شروع کردی اور وہاں سے مجھے اتنا مل جاتا ہے کہ مےں اپنے گھر کی کفالت کرسکتا ہوں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ مےرے سب بہن بھائی تعلےم کے زےور سے آراستہ ہو رہے ہےں مےں نے خود بھی اس کے اےف اےس سی مےڈےکل ، بی اے، اےم اے (پولےٹےکل سائنس) پرائےوےٹ جاری ہے اور بی۔اےڈ بھی کرچکا ہوں ان کے ساتھ اب اےم۔اےڈ بھی کررہا ہوں والد صاحب کی وفات کے بعد بزرےعہ ڈی سی او بہاولنگر نے مےرا کےس بزرےعہ گورنر پنجاب صاحب بےت المال کو بھےجا گےا تو بےت المال کے قوانےن کے مطابق اےک آدمی تےن لاکھ تک کی ادواےات لے سکتا ہے جو مےں لے چکا ہوں آپ اپنے نرم دل سے سوچے کہ مےں کےسی زندگی گزار رہا ہوں مےرے والد صاحب کی موت بھی مےری بےماری کی وجہ سے ہوئی ہے مجھے ساری ساری رات نےد نہےں آتی ہے ان پرےشانےوں کی وجہ سے اب مےری زندگی کو خطرہ ہے اور مےری زندگی کے ساتھ آتھ ننھی منی زندگےاں وابستہ ہےں
مجھے اپنے علاج کو جاری رکھنے کے لئے اٹھارہ سے بےس ہزار ماہانہ ضرورت ہے جوکہ دولاکھ سولہ ہزار سالانہ بنتا ہے امےد آپ مےرے لئے ضروے سوچےں گے اگر آپ کسی قسم کی مےرے بارے تصدےق کرنا چاہےں تو پروفےسر آف نےفرالوجی ڈاکٹر وقار احمد شےخ زےد ہسپتال لاہورکے موبائل نمبر 0300-8484357گھر کے نمبر 042-5880860سے کرسکتے ہےں
جبکہ مےرا اےڈرےس : محمد تنوےر نےاز ولد نےازاحمد (مرحوم) ساکن محلہ گلاب شاہ مےکلوڈگنج تحصےل منچن آباد ضلع بہاولنگر (پاکستان) ہے اور مےرے رابطہ کا نمبر 0092-332-701436ہے جبکہ مےرا ای مےل اےڈرےسtanverniaz@yahoo.comاگر آپ مےری مدد کرنا چاہےں تو مےرا اکاﺅنٹ نمبر 0102571-6 ٹائٹل آف اکاﺅنٹ : محمد تنوےرنےاز بنک کانام UBL برانچ کانام مےکلوڈگنج برانچ برانچ کا کوڈ0745 ڈسٹرکٹ بہاولنگر(پاکستان) ہے آپ آن لائن نھےج سکتے ہےں