اردو ٹائمز(نیوز) لندن کی سوک کراﺅن کورٹ نے ہنسلو کے اےک بزنس مےن کو 58سال قےد کی سزادے دی ہے کےونکہ اس نے ٹےکس حکام کو دھوکہ سے 4ملےن پونڈ کی رقم سے محروم کر دےا تھا۔50سالہ مظہر راجہ نے تسلل سے انتہائی محتاط طرےقہ سے فراڈ کی منصوبہ بندی کی تھی اور ےہ سلسلہ 1993ءسے2001ءتک چلتا رہا راجہ ٹےکس انسپکٹروں سے تسلسل سے جھوٹ بولتا رہا اور پکڑے جانے سے بچنے کے لےے اس نے مختلف طرےقے استعمال کےے تاکہ خود کو اس سے دور کر سکے۔اس نے بہت سی کمپنےاں قائم کر رکھی تھےں۔جو غائب ہو گئےں اور پھر نئے نام سے کام کرنا شروع کر دےا ۔عدالت نے مظہر حےات راجہ دھوکا دہی کے نو مختلف الزامات مےں چھ چھ سال کی سزا جبکہ جعلی اکاﺅنٹ بنانے کے جرم مےں چار سال کی سزا سنائی۔تمام سزائےں اےک ساتھ شروع ہونگےں۔اس طرح انھےں صرف 6سال قےد کاٹنی ہوگی۔ جےوری کو بتاےا گےا کہ راجہ طےاروں کی صفائی اور جہازوں کے مسافروں کے لےے کھانا تےار کرنے کے لےے ہےتھرو اور گےٹ وک ائےر رپورٹ کو لےبر فراہم کرتا تھا۔وہ نہ صرف مزدوروں کو ےہ دھوکہ دےتا تھا کہ ان کی تنخواہ سے ٹےکس اور پی اے وائی ای کا ٹاجارہا ہے ۔بلکہ اس نے مزےد رقم ہتھےالنے کے لےے بوگس ناموں سے ورکر بنا رکھے تھے اور پھر اس دولت کو چھپانے کے لےے بوگس دستاوےزات بنا رکھی تھےں۔جبکہ بھاری رقوم اہلےہ بچوں اور رشتہ داروں کے اکاﺅنٹ مےں منقتل کی۔جب ان لےنڈ ےونےو حکام حرکت مےں آئے تو انہےں پتہ چلا کہ لاکھوں پونڈ کے ٹےکس اور نےشنل انشورنس کی رقم غائب ہے۔راجہ کا دعوی تھا کہ اس نے ٹےکس حکام کو کبھی بھی دھوکہ نہےں دےا۔اور وہ عدالت مےں اس لےے ہے کہ ٹےکس انسپکٹر اسے ہراساں کرتا رہا ہے۔اس کا اصرار تھا کہ اس نے سارا کام اکاﺅٹنٹ پر چھوڑ رکھا تھا۔راجہ کا ساتھی ملزم جو غےر تربےت ےافتہ اکاﺅٹنٹ تھا دھوکہ دےنے کے الزام سے بری ہو گےا ہے۔جج نے سوال کےا تھا ۔کہ جعلی کمپنےوں کی کتنی رقم ٹےکس حکام کو ادا نہےں کی گئی۔اور کس قدر ورکروں کو ان کی رقم ادا نہےں ہوئی۔گےارہ ہفتے کو سماعت کے دوران عدالت کو بتاےا گےا کہ دو درجن سے زےادہ کمپنےاں بنائی گئی تھےں۔راجہ کو جعلی حساب دےنے پر 18ماہ قےد ہوئی ہے۔دونوں سزائےں اےک ساتھ چلےں گی۔استغاثہ کا کہنا تھا کہ چوری کی جانے والی ٹےکس کی رقم 4ملےن پونڈ سے زےادہ ہے لےکن راجہ کے اکاﺅٹنٹ نے اس کا اندازہ دو ملےن لگاےا ہے۔جبکہ جج کا خےال ہے کہ ےہ رقم 2.75ملےن پونڈ ہو سکتی ہے۔جج نے راجپر "فنانشل رپورٹنگ آرڈر"بھی لگا دےا ہے۔جو اس کی رہائی کے چھ سال بعد تک رہے گا اس کا ےہ مطلب ہے کہ راجہ اپنے مالی معاملات جن مےں ان کی ملکےت پراپرٹی ملازمت سے اثاثے اور دوسرے بزنس سے مفادات ہےں کی اطلاع دےنا ہو گی کےونکہ وہ دوبارہ جرم کر سکتا ہے اس پر عدالت کی اجازت کے بغےر کمپنی ڈائرےکٹر ےا مےنجر بننے کی پابندی بھی لگا دی گئی ہے۔جج نے کہا کہ اس بات کے شواہد ہےں کہ بعض دستاوےزات جعلی تھےں اور ان کے خلاف کاروائی کی جا سکتی ہے۔تاہم وہ کاروائی کا معاملہ کھلا چھوڑ رہے ہےں۔