امریکہ کا ہر شعبہ بحران کا شکار ہو رہا ہے ، لیبر ڈیپارٹمنٹ
امریکی معیشت کےلئے یہ ہفتہ مایوس کن رہا۔ اس ہفتے امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اکتوبر کے مہینے میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں گذشتہ 61 برس کے دوران کسی ایک مہینے میں سب سے زیادہ کمی ہوئی۔
نیویارک
(این این آئی)امریکی معیشت کےلئے یہ ہفتہ مایوس کن رہا۔ اس ہفتے امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ
کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اکتوبر کے مہینے میں اشیائے صرف کی قیمتوں
میں گذشتہ 61 برس کے دوران کسی ایک مہینے میں سب سے زیادہ کمی ہوئی۔ کامرس ڈیپارٹمنٹ
کی رپورٹ ایک رپورٹ کے مطابق اس سال نئے گھروں کی تعمیر 1959 کے بعد سے سب سے کم
رہی۔ اس سال بارہ لاکھ سے زیادہ امریکیوں کو اپنی ملازمتوں سے محروم ہونا پڑ جس سے
بے روزگاری کی سطح ساڑھے چھ فی صدتک پہنچ گئی جو گذشتہ 14 برس کی سب سے اونچی سطح
ہے۔ امریکی آٹو انڈسٹری بھی مشکلات کا شکار ہےاور وہ اپنے لیے 25 ارب ڈالر کی
امداد طلب کررہی ہے۔ حکومت کی جانب سے معیشت کی بحالی کے لیےسات کھرب ڈالر کے
امدادی پروگرام کی منظوری کے باوجود اس ہفتے بدھ کے روز اسٹاک مارکیٹ 8000 سے کم
پوانٹس پر بند ہوئی جو گذشتہ پانچ برس کی کم ترین سطح ہے۔ امریکہ کے ایک بڑے موٹر
ساز ادارے جنرل موٹرز کے سربراہ نے بدھ کے روز فنانشنل سروس کمیٹی کو بتایا کہ گاڑیوں
کی فروخت میں بڑے پیمانے پر کمی نے آٹو انڈسٹری کے لیے خطرات پیدا کردیے ہیں۔ امریکہ
کی تین سب سے بڑی موٹر ساز کمپنیاں ، جنرل موٹرز، فورڈ اور کرائسلرز اپنی مصنوعات
میں مسلسل کمی کے باعث شدید مشکلات میں مبتلا ہیں اور انہوں نے کہا کہ اگر حکومت
نے ان کی مالی مدد نہ کی تو وہ اپنے دیوالیے کا اعلان کرنے پر مجبور ہوجائیں گی۔
موجودہ اقتصادی بحران نے ان صنعتوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے جن کے بارے میں
سمجھا جاتا تھا کہ کساد بازاری ان پر اپنا سایہ نہیں ڈال سکتی۔ یہ صنعتیں ہیں تفریح
اور کھیل۔ بڑی امریکی موٹر کمپنیاں ہر سال ٹی ویڑن کو چار ارب ڈالر کے اشتہارات دیتی
تھیں۔ اس کمپنیوں کے نقصان میں جانے کی وجہ سے چار بڑے امریکی ٹیلی وڑن نیٹ ورک
اپنی آمدنی کے ایک بڑے حصے سے محروم ہوجائیں گے۔ آٹو انڈسٹری کھیلوں کے فروغ کےلئے
بھی ہر سال بڑے پیمانے پر فنڈز فراہم کرتی تھی۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ
جنرل موٹرز کی اسپانسر شپ ختم ہونے سے کئی کھلاڑیوں کے بھاری معاوضوں میں بڑے پیمانے
پر کٹوتی ہوجائے گی۔ اس کے ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں میں بھی کمی ہوگی اور منتظمین
مقابلوں کی تعداد کم کردیں گے۔ دوسری جانب کھیل کے شائقین اپنی آمدنیاں کم ہونے کی
وجہ سے کھیلوں پر خرچ کرنے سے کترارہے ہیں اور اب اتنی بڑی تعداد میں شائقین
مقابلے دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم کا رخ نہیں کررہے جس سے اس شعبے میں آمدنی کے ذرائع
کو شدید دھچکا لگا ہے۔