اوباما سے کشمیر اورفلسطین کے حل کی امید ہے ، امریکی ریڈیو
کشمیر اور فلسطین کے تنازعات گذشتہ کئی دہائیوں سے حل طلب چلے آرہے ہیں۔ کئی امریکی صدرو اور ان کی انتظامیہ نے ان تنازعوں کے حل میں مدد کے لیے مختلف تجاویز سامنے لاچکے ہیں لیکن ناقدین کے مطابق یہ کوششیں زیادہ تر ناکام رہی ہیں۔
واشنگٹن(این این آئی)کشمیر اور فلسطین کے تنازعات
گذشتہ کئی دہائیوں سے حل طلب چلے آرہے ہیں۔ کئی امریکی صدرو اور ان کی انتظامیہ نے
ان تنازعوں کے حل میں مدد کے لیے مختلف تجاویز سامنے لاچکے ہیں لیکن ناقدین کے
مطابق یہ کوششیں زیادہ تر ناکام رہی ہیں۔ دونوں علاقوں کے عوام کی ایک بڑی اکثریت
ان تنازعوں کے حل کے لیے براک اوباما سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ انیلا شمشاد
، جوتضادات کے تجزیے اور حل سے متعلق ایک انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہیں ، کہتی ہیں کہ
اس سلسلے میں اماما سے زیادہ توقعات نہیں رکھی جانی چاہیں کیونکہ ممکن ہے کہ وہ اس
سلسلے میں کچھ زیادہ نہ کرسکیں۔ اپنے ادارے کا ذکر کرتے ہوئے انیلا نے کہا کہ ہم سیاسی
نوعیت کے تضادات کا تجزیہ کرتے ہیں اور پھر یہ دیکھتے ہیں کہ ان کا حل کس طرح ممکن
ہوسکتا ہے۔ کشمیر کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ اس سلسلے میں صرف
کوشش ہی کرسکتا ہے اور اگر اس سے کوئی حل نکل آتا ہے تو یہ ایک اچھی بات ہوگی۔
فلسطین کے تنازعے پر گفتگو کرتے ہوئے انیلا کا کہناتھا کہ پانچ سال پہلے ہمارے ادارے
نے اس پر کام شروع کیا تھااور وہ تھا کہ اس موضوع پر گفتگو کے لیے متعلقہ فریقوں
کو اکھٹا کیا جائے۔ ہم نے پہلے سال دونوں فریقوں کو 150 افراد کو اکھٹا کیا۔ وہ سیاست
دان نہیں تھے بلکہ ان کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے تھا۔ پانچ روز اس کیمپ میں پہلے
روز کوئی شخص کسی سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ان کے دل میں ایک دوسرے کے لیے
نفرت او ر کدروت تھی۔ اگلے روز انہوں نے آہستہ آہستہ بات چیت شروع کی اور پانچویں
روز وہ ہر موضوع پر کھل کر بات کررہے تھے۔ انیلا کا کہنا تھا کہ جب تک ایک دوسرے
کےلئے برادشت نہ ہو ، بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ چنانچہ اس سال کانفرنس میں دو
جانب سے پانچ ہزار افراد نے شرکت کی۔ کیونکہ اب وہ ایک دوسرے کا دکھ سمجھ رہے تھے
اور انہیں معلوم تھا کہ جس دکھ سے فلسطینی گذرے رہے ہیں، یہودیوں کو بھی ایسے ہی
مسائل کا سامناہے اور جب تک ٹھنڈے دل کے ساتھ بات نہیں کی جائےگی اور مسائل کو
جذبات کی بجائے عقلی پہلوؤں پر نہیں پرکھا جائے گا، مسائل حل نہیں
ہوں گے۔ مذہبی تصادات پر انیلا کا کہنا تھا کہ اس کے حل کے لیے ضروری ہے ہر فرقہ
برابری کی بنیاد پر بات کرے اور دوسروں کو تحمل اور برداشت کے ساتھ سنے۔ انیلا نے
تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں آج تک کوئی مسئلہ جنگ کے میدان میں طے
نہیں ہوا۔ اس کا حل ہمیشہ مذاکرات کی میزپر ڈھونڈا گیا ہے۔