ایران کے پاس بم بنانے کا سامان ہے ، امریکی سائنسدان
ایک امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اتنا یورینیم جمع ہو چکا ہے کہ اگر اس نے اسکی افزودگی جاری رکھی تو وہ کم سے کم ایک ایٹم بم بنا سکتا ہے۔
واشنگٹن(این این آئی)ایک امریکی اخبار نے لکھا ہے
کہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اتنا یورینیم جمع ہو چکا ہے کہ اگر اس
نے اسکی افزودگی جاری رکھی تو وہ کم سے کم ایک ایٹم بم بنا سکتا ہے۔نیو یارک ٹائمز
کو انٹر ویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ ایران کو ایٹم بنانے کا
طریقہ معلوم ہے یا نہیں۔کیونکہ تھوڑا بہت نکھارا ہوا یورینیم محض ری ایکٹر میں ایندھن
کا کام دے سکتا ہے مگر بم بنانے کے لئے اس کو بہت زیادہ صاف اور مقوی کرنا پڑتا
ہے۔اور اسکے لئے ایران کو یورینیم افزودہ کرنے والی مشینوں یعنی سنٹر فیوجز کو نئے
طریقے سے درست کرنا ہوگا۔ایران نے کہا ہے کہ آئی اے ای اے کی اس رپورٹ کے باوجود
کہ تہران نے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کو اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں
مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے، وہ ادارے کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا
۔ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے ایران کے جوہری ادارے کے نائب سر براہ
محمد سعیدی کے حوالے سے کہا ہے کہ آئی اے ای اے کو جوہری عدم پھیلاﺅ کے معاہدے ، این
ٹی پی کے فریم ورک میں ایران کے جوہری پلانٹس کے معائنے کی اجازت دی گئی ہے ۔سعیدی
نے یہ بات آئی اے ای اے کی اس رپورٹ کے جاری ہونے کے بعد کی جس میں کہا گیا تھا کہ
ایران کے جوہری پروگرام پر ادارے کی تفتیش تہران کی جانب سے تعاون کے فقدان کے
باعث تعطل کا شکار ہو گئی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کی سلامی
کونسل کی پابندیوں سے انحراف کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ایران
پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے الزام کے باعث تین مرتبہ تعزیرات عاید کی جا چکی ہیں۔ایران
کا کہنا ہے کہ اسکا پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے۔