اردو ٹائمز(نیوز) فیڈرل ریزرو کے چیئرمین بن برنانکے نے کہا ہے کہ امریکہ کی اقتصادی آﺅٹ لگ انتہائی خراب ہو گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مالیاتی بحران جلد ختم ہونے والا نہیں۔ اس نے موجودہ ملکی اقتصادی کارکردگی کو جکڑ لیا ہے یہ بحران نہ صرف پہلے سے مزید گہرا ہو گیا ہے بلکہ یہ ایک لمبے عرصہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ یہ ”درد“ جلد ٹھیک ہونے والا نہیں بلکہ لمبا عرصہ چلے گا۔ اس صورتحال میں مرکزی بنک 28 یا 29 اکتوبر کو اپنے آئندہ اجلاس سے شرح سود میں کمی کا اعلان کر سکتا ہے۔ واشنگٹن میں بزنس اکانومسٹس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ کس طرح بڑے مالیاتی بحران نے بڑھ کر ایک خوفناک شکل اختیار کی ہے ان تمام حالات میں فیڈرل ریزرو یہ دیکھے گا کہ آیا موجودہ پالیسی جاری رہنی چاہئے یا نہیں۔ اس وقت موجودہ ”بیس فیڈ“ ریٹ 2.0 فیصد ہے جسے ستمبر میں مقرر کیا گیا تھا اور مبصرین کے مطابق فیڈرل ریزرو کے 28 یا 29 اکتوبر کے اجلاس سے قبل ہی اس میں مزید کمی کا امکان پایا جاتا ہے۔ جمعہ کو جی۔ 7 کے ممالک برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ اس مالیاتی بحران پر مزید غور و خوض کرینگے۔ واضح رہے کہ فیڈرل ریزرو نے جون میں ریٹ کم کرنے کی ایک بڑی مہم کو روکا تھا کہ کم ریٹ سے افراط زر مزید بڑھ سکتا ہے مگر اب اس کی نسبت فنانشل اور اقتصادی صورتحال مزید بہتر ہو گئی ہے۔ توانائی کے شعبہ میں بڑھتی قیمتوں نے اس پر جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اس ابتر صورتحال کی نشاندہی اس سے بھی ہوتی ہے کہ گزشتہ ماہ ایک لاکھ 59 ہزار افراد کی ملازمتیں ختم کی گئیں اور اس سال بیروزگار ہونے والے افراد کی تعداد سات لاکھ 60 ہزار تک جا پہنچی ہے۔ دریں اثناءصدر بش نے اوہائیو (سنسناٹی) میں ججوں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 700 ارب ڈالر کے وال سٹریٹ بیل آﺅٹ پیکج کے بعد بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور اس کے مثبت نتائج آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ کانگرس جمعہ کو اس پیکج کی منظوری دے دے گی۔