|
اردو ٹائمز(نیوز) اس وقت جبکہ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ صدر بش سے ملاقات کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ امریکی سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے پینل نے امریکہ بھارت سول نیوکلیئر معاہدہ کی منظوری دے دی ہے اس اقدام سے منموہن بش ملاقات میں اس معاہدہ کی منظوری کی راہ ہموار ہو جائیگی۔ معاہدے کے حق میں 19 اور مخالفت میں دو سینیٹروں نے رائے دی۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہوا کہ مخالفت کرنے والے دو سینیٹر کون سے ہیں تاہم گزشتہ ہفتے ایس ایف آر سی کی بحث کے دوران کیلیفورنیا کی سینیٹر باربرا باکسر اور وسکونسن کے رس فین گولڈ نے معاہدے کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ جو اس وقت جنرل اسمبلی سے خطاب کے لئے امریکہ میں موجود ہیں انکی 25 ستمبر (جمعرات) کو صدر بش سے ملاقات طے ہے اور مبصرین یہ خیال کر رہے ہیں کہ اس ملاقات میں اس ڈیل کی باقاعدہ منظوری دے دی جائیگی۔ سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی آخری لمحات میں ڈیل پر بحث کو ایجنڈا پر لائے تھے جس کے بعد اس معاہدہ کی منظوری دی گئی۔ منموہن کی بش سے ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکی صدر کی اپنی مدت کے آخری دنوں میں توجہ عراق سے ہٹ کر پاکستان اور افغانستان کی جانب مبذول ہو رہی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے تبصرہ کے مطابق موجودہ صورتحال میں جب امریکہ نئی حکمت عملی کے تحت پاکستان کو قابو کرنے کی سوچ رہا ہے علاقے میں بھارت کے بااثر ہونے کے باعث اسے نئی دہلی کے تعاون کی ضرورت ہو گی۔ ان تمام امور اور افغانستان کی صورتحال 25 ستمبر کی ملاقات میں زیر بحث ہونگے۔ صدر آصف علی زرداری پہلے ہی صدر بش سے ملاقات کر چکے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے نجی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق بھارت کو پوری طرح توقع ہے کہ منموہن کے حالیہ دورہ امریکہ ہی میں ایٹمی معاہدہ کی منظوری ہو جائے گی تاہم اسے ابھی اس کا پوری طرح یقین بھی نہیں ہے۔ ان ذرائع کے مطابق منظوری میں دو تین روز لگ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ نیوکلیئر سیل کو کنٹرول کرنے والی ملٹی نیشنل باڈی پہلے ہی 15 ستمبر کو اس معاہدہ کی شقوں کی منظوری دے چکی ہے اور بھارت پر سے 34 سال سے عائد پابندیاں ختم کی جا چکی ہیں۔
|
|