اردو ٹائمز(نیوز) پاک امریکن سوسائٹی (PAS) کے زیر اہتمام کونی آئی لینڈ میں امریکہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایم کیو ایم کے خلاف زبردست احتجاج ہوا۔ شرکاءکے فلک شگاف نعروں سے لوگ اپنے گھروں سے نکل آئے۔ پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے سابق سیکرٹری جنرل اور پاک امریکن سوسائٹی کے صدر شمس الزماں، نائب صدر مجاہد علی خان، ڈاکٹر طلعت قدیر، عبدالستار انجم، ڈپٹی سیکرٹری جنرل امتیاز احمد ایڈووکیٹ نے ایم کیو ایم کو 12 مئی کو کراچی میں قتل عام کرنے والے سفاک اور انسانیت کے دشمن قرار دیا اور انہیں عبرتناک سزائیں دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین کراچی کے معصوم اور محب وطن لوگوں کو گولی کے زور پر کب تک ڈرائیں گے۔ لوگ انہیں اتنا ہی پسند کرتے ہیں تو کراچی کیوں نہیں آتے۔ غریب عوام کا پیسہ کیوں ضائع کرتے ہیں۔ وہ اس لئے ڈرتے ہیں کہ ہزاروں ماﺅں کے بچے انہوں نے قتل کروائے ہیں اور اپنے اوپر سنگین مقدموں کا وہ کیسے مقابلہ کریں گے۔ حال ہی میں کراچی کے ناظم اعلیٰ جوکہ دراصل قاتل اعلیٰ ہیں امریکہ کے دورے پر ہیں۔ پاکستانی عوام کو بتانا چاہئے کہ ان کے دفتر کے سامنے وکلاءکو زندہ جلایا گیا تھا۔ ملک ندیم مجاہد نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا گجرات کا قاتل اعلیٰ نریندر مودی جب امریکہ آیا تھا تو یہاں کے لوگوں نے پرزور احتجاج کیا تھا۔ آج ہم محکمہ خارجہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا قاتل آج لندن میں بیٹھا ہے۔ اسکے خلاف عالمی عدالت میں ہزاروں لوگوں کے قتل کا مقدمہ درج کیا جائے اور ایم کیو ایم کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔ 12 مئی کے شہداءکا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے۔ سید کمال شاہ کراچی کے قاتل اعلیٰ کو امریکہ کا ویزا منسوخ کیا جائے اور انہیں ملک بدر کیا جائے۔ امتیاز احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ جسٹس افتخار چودھری کا قصور کیا تھا۔ وقت کے اس بہادر جج نے حکومت کے غلط فیصلوں کو للکارا اور پھر پورے ملک کے وکلائ، سول سوسائٹی، طلبہ، مزدور، کسان، خواتین، بچے، بوڑھے، جوان سراپا احتجاج بن گئے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ شاہد کامریڈ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی حکومت نہیں آئی بلکہ عوام کو مسلسل بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ مغربی ممالک نے غریبوں کا خون چوسنے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ انہوں نے وکلاءکو زندہ جلانے اور 12 مئی کے قتل عام پر ایم کیو ایم کی شدید مذمت کی ہے اور مجرموں کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ علی مجاہد نے کہا کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا دراصل انسان دوست ہونے کا ثبوت ہے۔ مجرم کو اس کے جرم کی سزا ملنی چاہئے۔ انہوں نے پاکستان میں لاقانونیت، دہشت گردی کی شدید مذمت کی ہے۔ ڈاکٹر جمشید خان نے بہت ہی درد دل کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ظالم کو ظلم کرتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ خدا کی ذات انہیں دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے وکلاءکو زندہ جلانے والوں کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اپنے نوعمر بیٹوں کے ساتھ احتجاجی پروگرام میں شرکت کی۔ تقریباً دو گھنٹے وقفے وقفے سے ایم کیو ایم، مشرف اور الطاف کے خلاف شدید نعرے بازی ہوتی رہی۔ کچھ لوگ بہت جذباتی ہو گئے۔ جس پر پی اے ایس کے صدر نے انہیں صبر کرنے کے لئے کہا۔ پروگرام میں پی اے ایس کے صدر نے صدر بش کی بیٹی JENA BUSH کو سادگی سے شادی کرنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ ہمارے حکمرانوں کے لئے ایک اعلیٰ مثال قائم کی گئی ہے۔ وائٹ ہاﺅس کی بجائے جینا بش نے اپنے آبائی گھر میں شادی کی تقریب کرنے کا فیصلہ کیا۔ جینا سیاسی طور پر اپنی ایک علیحدہ سوچ رکھتی ہیں اور اپنے والد کی کئی پالیسیوں کو ناپسند کرتی ہیں۔ شمس الزماں نے کہا کہ ہم سب کو ایسا ہی ہونا چاہئے کہ غلط کو غلط کہیں۔ آخر میں طارق بیگ نے دعا کرائی۔